نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سوشل میڈیا بہت مؤثر اور فعال پلیٹ فارم ہے، نوجوان اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں: حذیفہ مدثر ندوی

 سوشل میڈیا بہت مؤثر اور فعال پلیٹ فارم ہے، نوجوان اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں: حذیفہ مدثر ندوی (طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی چھٹی نشست کا خیرالنساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)  دارالبحث والاعلام - لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى - لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 01/ 21 مطابق 17/جمادی الاخری 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان: میرا انتخاب، میری تخلیق  میری تخلیق، میرا انتخاب کی چھٹی نشست منعقد ہوئی، جس میں تلاوت کی سعادت عبدالقادر محبوب نے حاصل کی، محمد ذکی احسن نے معروف ادیب، صاحب طرز انشا پرداز، مؤرخ، نقاد اور غالب شناس مولانا غلام رسول مہر کی مقبول تصنیف "مختصر تاریخ اسلام" سے قدیم مصری تہذیب و تمدن اور بابل و نینوی کی سیاسی و سماجی شخصیات کے افکار و خیالات، احساسات و جذبات کی تصویر کشی کرتے ہوئے مذکورہ تہذیب کے عروج و زوال کو مؤثر اسلوب میں سامعین کے سامنے پیش کیا۔ حسان عمر نے مایۂ ناز انشاء ...

سیاسی اصلاحات کی ضرورت اور مثالی اسلامی ریاست

ذکی احسن: فائل فوٹو تحریر : المجتمع عربی ترجمانی: محمد ذکی احسن فہمی اسلام ایک ہمہ گیر اور آفاقی دین ہے، اس میں اصلاح کی حیثیت صرف سیاسی نہیں ہے، بلکہ سیاسی اصلاح ایک ایسا شرعی، فکری، تہذیبی اور معاشی فیصلہ ہے، جس کا گہرا تعلق اخلاقی قدروں سے بھی ہے۔ اصلاح کا یہ عمل کسی بھی مملکت میں کسی فرد واحد کے فرمان سے مکمل نہیں ہوتا ہے، بلکہ سیاسی اصلاح ایک ایسا ہمہ گیر اور اعلی سطحی فیصلہ ہوتا ہے، جو سربراہ مملکت اور عوام اپنے سیاسی اداروں کے ذریعے کرتے ہیں۔ مملکت کی ایک حالت سے دوسرے حالت کی طرف منتقلی اور ایک سیاسی پالیسی کو چھوڑ کر دوسری سیاسی پالیسی کو اختیار کرنا، ایک ایسا فیصلہ کن اقدام ہوتا ہے، جس میں عوام اور سرکار دونوں کی شرکت لازمی ہوتی ہے، اسی وجہ سے بہت سے ممالک اس طرح کی تبدیلیوں کے وقت عام رائے شماری (ریفرندم) کراتے ہیں اور کبھی کبھی حکومتیں عوام سے ریفرنڈم کرواتی ہیں اور عوام کی مرضی کے مطابق فیصلے لیتی ہیں۔ یہ بات پوری قوت سے کہنا ضروری ہے کہ ہمارے دین مین سیاسی اصلاح کوئی انوکھی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ تو فکر اسلامی اور شریعت اسلامی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم...

قومی و ملی مسائل کے حل میں ندوۃ العلماء کا موقف قابل تقلید رہاہے: مقالہ نگار

قومی و ملی مسائل کے حل میں ندوۃ العلماء کا موقف قابل تقلید رہاہے: مقالہ نگار محمد شہنواز: فائل فوٹو (طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سیریز کی پانچویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)  *دارالبحث والاعلام - لکھنؤ* کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ *اللقاء الثقافى - لکھنؤ* کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 01/ 14مطابق 10/جمادی الاخری 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان: *میرا انتخاب، میری تخلیق* *میری تخلیق، میرا انتخاب* کی پانچویں نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں تلاوت کا شرف محمد شاہ ظفر نے حاصل کیا، محمد معظم نے طلبہ کے لئے ایک رہنما کتابچہ *جو کچھ تم بننا چاہو از فرید حبیب ندوی* سے ایک سبق آموز اقتباس بعنوان: "درسی کتب میں مہارت کیسے حاصل کریں" پیش کیا، جس میں منصف نے درسی کتب میں مہارت کے اصول وضوابط کو آسان طریقہ سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہےکہ: "اگر طالب علم ایک ایک موضوع کی طرف منتقل ہو مثلا پہلے زبان کی بنیادی چیزوں سے وا...

ہندو اکثریت کی ذمہ داری

از: اسامہ طیب ندوی اسامہ طیب ندوی: فائل فوٹو اے پی جے عبد الکلام سے کون واقف نہیں ہوگا۔ میزائل مین اور People's President کے نام سے دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتے ہیں. پچھلے دنوں بندہ ان کی کتاب Wings Of Fire کا مطالعہ کررہا تھا، اس کتاب میں انہوں نے مذہب کی بنیاد پر اپنے ساتھ ہونے والی ایک زیادتی کا واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں: میں پانچویں کلاس کا طالب علم تھا، درجہ میں پہلی صف میں ہمیشہ بیٹھا کرتا تھا، اور میرے ساتھ میرا بہت پرانا دوست بھی بیٹھتا تھا، وہ دوست ہمارے گاؤں کے ہیڈ پجاری کا بیٹا تھا اور ہم دونوں کی دوستی بہت گہری تھی۔ ایک دن کلاس میں ایک نئے ٹیچر آئے، اور انہوں نے جب مجھے ایک ہندو لڑکے کے ساتھ پہلی صف میں بیٹھے دیکھا اور انہیں جب یہ معلوم ہوا کہ میں مسلمان ہوں اور ہیڈ پجاری کے بیٹے کے ساتھ بیٹھتا ہوں تو انہوں نے مجھے سب سے پچھلی صف میں بیٹھنے کا حکم دیا، میں بادِل ناخواستہ پچھلی صف میں چلا تو گیا لیکن پیچھے بھیجے جانے کی وجہ سے میں اور میرا وہ دوست بہت رنجور ہوئے، چھٹی کے بعد ہم دونوں نے یہ واقعہ اپنے اپنے والدین کے گوش گزار کیا۔ جب اس دوست کے والد ہندو پجاری کو...
مستشرقین کون ہیں؟  وہ علماء مغرب جنہوں نے اسلامیات اور مشرقیات کے مطالعے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردی ہیں اور اعلی تعلیم گاہوں میں اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے، ان کا مقصد صرف یہی ہے کہ مشرق کے رہنماؤں اور حکمراں طبقہ کے دماغوں میں اسلام سے مایوسی پیدا کردی جائے. یہ مغربی دانشور مشرق پر اپنی حکومت چاہتے ہیں، اسلام اور اسلامی (sources)کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ان کا خالص مقصد ہے۔  استشراق کی تاریخ    استشراق کی تاریخ تو بہت پرانی ہے، مگر تیرھوی صدی مسیحی سے اس کے علمبرداروں نے بہت منظم طریقے سے اس پر کام کیا، اس میں یہودی اور عیسائی دونوں پیش پیش رہے ہیں.   استشراق کے مقاصد و محرکات عالم اسلام کومغربی حکومت کا غلام بنا دینا اور اسلام کی ایسی تاریک تصویر پیش کرنا کہ مذہب عیسوی کی برتری ثابت ہو جائے، جس سے مشرقی قومیں خود بخود اسلام کو چھوڑ کر، ان کی پیروی کرنے لگیں،  اس طرح ان کے دل سے اسلام کی اہمیت و وقعت ختم ہو جائے گی.   بنیادی طور پر استشراق کے چار محرکات تھے:  1      دینی  2      سیاسی  ...

شمال مشرق کا سرسید محبوب الحق: نقوش و افکار

شمال مشرق کا سرسید محبوب الحق: نقوش و افکار انگریزی تحریر: سید زبیر احمد ترجمانی : مرزا ریحان بیگ 1993 میں جب محبوب الحق بطور انڈر گریجویٹ طالب علم کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے اس وقت وہ محض ٢٠/سال کے تھے، لیکن ان میں پہلے سے ہی ایک عظیم سرسید پروان چڑھ رہا تھا، انھوں نے جدید تعلیم کے محرک، عظیم ریفارمر، زمانہ شناس اور دوراندیش رہنما سرسید احمد خان کے مقاصد، ان کی قربانیوں اور کارناموں کو خوب پڑھ رکھا تھا. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنے سات سالہ زمانۂ طالب علمی کے دوران وہ سرسید کے مزار پر جاتے اور گھنٹوں وہاں بیٹھ کر زبان حال سے کہہ رہے ہوتے تمنا ہے جہان علم میں چمکوں سہا بن کر  جمود ظلمت ہستی پہ چھا جاؤں ضیا بن کر  تمنا ہے کہ دنیا مجھ سے یکسر نور ہو جائے  یہ تاریکی سمٹ کر ایک دن کافور ہو جائے   الٰہی خاک سرسید سے کچھ چنگاریاں دے دے  مذاق دل ترستا ہے تپش سامانیاں دے دے   جب کریم گنج کا یہ انقلابی نوجوان محبوب الحق 2000 میں بی ایس سی فرسٹ کلاس کے ساتھ یونیورسٹی چھوڑ رہا تھا تبھی ان کے پاس کنگ فہد یونیورسٹی اور خود AMU کی طرف سے ایم سی اے کی اعلی...

افکار و خیالات کی ترسیل میں اکیڈمک گروپ ڈسکشن اور دو طرفہ بات چیت عصر حاضر کی اہم ضرورت: مسعود عالم ندوی

محمد شہنواز: فائل فوٹو افکار و خیالات کی ترسیل میں اکیڈمک گروپ ڈسکشن اور دو طرفہ بات چیت عصر حاضر کی اہم ضرورت: مسعود عالم ندوی (طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سیریز کی چوتھی نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)  *دارالبحث والاعلام - لکھنؤ* کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ *اللقاء الثقافى - لکھنؤ* کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات، ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 07/01/2022 مطابق 03/جمادی الاخری 1443ھ بروز: جمعہ بوقت:08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان: *میرا انتخاب، میری تخلیق* *میری تخلیق، میرا انتخاب* کی چوتھی نشست منعقد ہوئی، جس میں تلاوت کی سعادت محمد شاہ ظفر نے حاصل کی، محمد عزیر نے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور شعری تصنیف ضرب کلیم سے ایک پیغام آفریں نظم: تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کرقبول  لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول  اے جوے آب بڑھ کے ہو دریائے تندو تیز ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول کھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات میں محفل گداز! گرمئ محفل نہ کر قبول صبح ازل یہ مجھ ...

وقار مادر ہندوستاں تھے گاندھی جی

 ارمان دلکش     وقار مادر ہندوستاں تھے گاندھی جی   موہن داس کرم چند گاندھی ہندوستان کی جنگ آزادی کے قائد و رہنما تھے، انھوں نے عدم تشدد کی بدولت ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے رہائی دلائی، جو دنیا کےلئے بالکل نیا تجربہ تھا، یہی وجہ ہے کہ عدم تشدد ( Non voilence ) پوری دنیا کے انسانوں کے لئے آزادی اور حقوق انسانی کی بازیافت کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا‌۔مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کی طاقت پر کیف احمد صدیقی کے چند اشعار ذہن و دماغ پر چھا جاتے ہیں ۔ سنی نہ بات تشدد بھرے اصولوں کی  مہک لٹائی اہنسا کے نرم پھولوں کی خلوص و عجز کے اک گلستاں تھے گاندھی جی وقار مادر ہندوستان تھے گاندھی جی مہاتما گاندھی کی پیدائش ایک قدامت پسند گجراتی ہندو کنبہ میں ہوئی تھی، لیکن انھوں نے بڑی ایمانداری سے دیگر مذاھب کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ شہید کربلا امام حسین کی شجاعت نے انھیں اپنے وقت کی سپر پاور طاقت انگریزوں سے ٹکرانے کا حوصلہ دیا۔امام حسین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: امام حسین کی انتہائی درجہ کی سادگی، اپنی ذات کی مطلق نفی، عہد کی پاسداری، اپنے دوستوں اور پیر کاروں کے ل...

علمی و ثقافتی سرمایہ کی حفاظت ہمارا ملی و قومی فریضہ: شرکائے نشست

 علمی و ثقافتی سرمایہ کی حفاظت ہمارا ملی و قومی فریضہ: شرکائے نشست (طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سیریز کی تیسری نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)       دارالبحث والاعلام - لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى - لکھنؤ کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2021/ 12/ 31 مطابق 26/جمادی الاولی 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرز کے لیے ايک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:     میرا انتخاب، میری تخلیق     میری تخلیق، میرا انتخاب  کی تیسری نشست منعقد ہوئی، جس میں تلاوت کا شرف حافظ عبدالرحمن فیصل نے حاصل کیا، ابھرتے ہوئے نوجوان اہل قلم شیخ عبداللہ نے پندرہ روزہ عربی میگزین الرائد سے منتخب ایک معلومات افزا مضمون کا رواں اردو ترجمہ پیش کرتے ہوئےکہا کہ ریڈ کراس انٹرنیشنل فیڈریشن کی جاری کردہ رپوٹ کے مطابق براعظم افریقہ طویل مدت سے غذائی تحفظ کے بحران کا سامنا کررہا ہے، اس کے کئی اسباب ہیں: جن میں جنگوں کا تسلسل، امن و امان کا ...

امریکہ: قتل کے جرائم میں 30 ٪ فیصد کا اضافہ

امریکہ: قتل کے جرائم میں %30 فیصد کا اضافہ  عبد اللہ مجاہد: فائل فوٹو تحریر :  المجتمع عربی  ترجمانی: عبد اللہ مجاہد ایف بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں امریکہ میں 21500 سے زیادہ قتل کے واقعات پیش آئے۔ یعنی اس میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے بڑے بڑے شہروں کے اعلی سطحی افسران اشارہ دے  چکے ہیں کہ قتل کے واقعات میں مسلسل  اضافہ ہورہا ہے اور یہ جو سرکاری اعداد و شمار ہیں یہ تو امریکہ میں موجود 16 سے 18 ہزار سیکورٹی  فورسز کے سینٹروں میں درج ریکارڈ پر مبنی اعداد و شمار ہیں۔ جون سے خصوصی طور پر رپورٹ ہونے والے اعداد وشمار سےظاہر ہوتا ہے کہ قتل کے واقعات میں یہ زیادتی  امریکہ کے کسی مخصوص خطے کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ پورے امریکہ کی یہی صورتحال ہے، البتہ لویزیانا اس معاملے  میں باقی ریاستوں کے مقابلے میں ٹاپ پر رہا۔ قتل کے واقعات میں اس روز افزوں زیادتی کا اعتبار گذشتہ ساٹھ برسوں سے ہے، جب سے فیڈرل انوسٹیگیٹو سینٹر نے اس کی رپورٹ جمع کرنا شروع کیا ہے ۔گذشتہ پچیس برسوں میں جرائم کی مجموعی تعداد بلند ترین سطح پر پہ...

سو ملین سے زائد افریقیوں کو بھوک کا سامنا: ریڈ کراس

شیخ عبداللہ ابرار  ریڈ کراس: سو ملین سے زائد افریقیوں کو بھوک کا سامنا                                                                                                                                         تحریر:  نیوز ایجینسی اناطولیہ                                                                                                      ...