نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مارچ, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

عائشہ جیسی بیٹیوں کی خبر لیجئے ......!

  ✍🏻:عین الحق امینی قاسمی    جہیز کامطلب سامانِ ضرورت یعنی چوبیس گھنٹے کی گھر یلو زندگی میں جن سامانوں کی عموماً ضرورت پڑتی ہے، شادیوں کے موقع سے لوگ اپنی بچی کو رخصت کرتے وقت ایسی ضرورت کی چیزیں دیا کرتے ہیں ،حالانکہ شرعاً ایک بیٹی والے کو اِس کی بھی تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جس طرح نفقہ سکنیٰ اور لباس وغیرہ کا نظم کرنا لڑکے کی ذمہ داری ہے ،اسی طرح چوبیس گھنٹے کی گھریلو زندگی میں کِن کِن سامانوں کی خاص ضرورت ہوگی ،اِس کا انتظام کرنا بھی لڑکے کی اپنی ذمہ داری ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بیٹی کی محبت میں اُس کے آرام وراحت کی خاطر دل جوئی کے لئے رخصتی کے وقت بیٹی کے ساتھ کچھ چیزیں لوگ بھیج دیتے ہیں، مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ لڑکے والے اِس کو اپنا حق سمجھنے لگیں۔ جس کا پورا کرنا ہر حال میں لڑکی والوں کی کوئی شرعی یا سماجی ذمہ داری ہو۔  اولاً تو جہیزکی ادائیگی لڑکی والوں کے فرائض میں شامل نہیں وہ جو کچھ بھی دیتے ہیں اپنے اخلاق کا مظاہر ہ کرتے ہیں۔ لیکن بُراتب ہوتا ہے جب لڑکے والے شادی کے روز اور اس کے بعد تک لڑکی والوں سے نِت نئے قیمتی سامانوں کا مسلسل مطالبہ کرتے رہ...