نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...
حالیہ پوسٹس

ختم قرآن کی دعا: ترجمانی محمد مسرور جمال فاخری ندوی ازھری

                                                                          ترجمہ🖋: محمد مسرور جمال فاخری ندوی ازھری  اللہ نے جو بلند اور بڑا ہے سچ فرمایا، اوراس کے رسول نبی کریم نے سچ فرمایا، اور ہم اس پر گواہ ہیں۔ اے ہمارے رب ہمارے جانب سے قبول فرما بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے۔ اے اللہ ہمیں قرآن کے ہر حرف کے عوض میں  حلاوت وشیرینی اور قرآن کے ہر پارے وجزء پر بدلہ عطا فرما۔ اے اللہ ہمیں الف کے بدلے میں محبت اور با کے بدلے میں برکت اور تا سے توبہ اور ثا سے ثواب اور جیم سے جمال اور حا سے حکمت اور خا سے خیر اور دال سے رہنمائی اور ذال سے دانائی اور راء سے رحمت اور زاء سے طہارت اور سین سے سعادت اور شین سے شفاء اور صاد سے سچائی اور ضاد سے روشنی اور طا سے تازگی اور ظا سے کامیابی اور عین سے علم اور غین سے تونگری ومالداری اور فا سے کامیابی اور قاف سے تقرب الہی اور ک...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...

معاشرہ کی تعمیر و تشکیل میں مساجد کا کردار نہایت اہم: سید مولانا بلال حسنی ندوی

     شعبہ دعوت ارشاد ندوۃ العلماء کے  تحت چل رہی تحریک رابطہ ائمہ مساجد کے حلقہ نمبر دس کا ایک بڑا جلسہ منعقد کیا گیا۔ یہ جلسہ مسجد طلحہ سمنان گارڈن کیمپ بیل روڈ میں بعد نماز مغرب منعقد کیا گیا۔ افتتاحی خطاب میں مولانا زین الحق ندوی نے کہا کہ ندوۃ العلماء صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جس کا قیام 1892 میں آج سے  تقریبا ایک سو بتیس سال قبل عمل میں آیا۔ اس کے مقاصد میں روزِ اول سے یہ بات شامل تھی کہ  ایسے فارغین تیار کیے جائیں جو جدید زمانہ سے واقف ہوں اور ان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ندوۃ العلماء کے تحت مختلف ڈپارٹمنٹ کا قیام عمل میں آیا، ان  شعبہ جات میں ایک اہم شعبہ دعوت و ارشاد  کاہے، جس کا مقصد دعوت و تبلیغ کے ذریعہ اصلاحِ اعمال کی کوشش ہے۔ اسی شعبہ کے تحت ایک ذیلی تحریک رابطہ ائمہ مساجد موجودہ ناظم ندوۃ العلماء جناب مولانا سید بلال حسنی ندوی نے   شروع کی، جس میں مساجد کے ذریعہ ملت کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم  کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کی حیثیت اسلامی معاشرہ میں پاور ہاؤس کی ہو۔ رابطہ ائمہ مساجد کے مقاصد...

شہید یحیی سنوار کی وصیت

عربی سے ترجمہ: ڈاکٹر محی الدین غازی      میں یحیی ہوں، پناہ گزیں کا بیٹا، جس نے اجنبیت کو ایک عارضی وطن بنالیا اور خواب کو ایک ابدی معرکے میں بدل دیا۔      میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں اور اس وقت میری زندگی کا ہر لمحہ میری نگاہوں کے سامنے ہے۔ گلیوں کے درمیان گزرنے والا بچپن، پھر جیل کے طویل سال، پھر خون کا ہر قطرہ جو اس زمین کی مٹی پر بہایا گیا۔ میں خان یونس کے کیمپ میں سن 1962 میں پیدا ہوا، یہ وہ زمانہ تھا جب فلسطین محض ایک یاد تھی جو تار تار کردی گئی تھی، محض کچھ نقشے تھے جو سیاست دانوں کی میزوں پر فراموش حالت میں پڑے تھے۔       میں وہ شخص ہوں جس نے اپنی زندگی کو آگ اور راکھ کے بیچ گزارا اور بہت پہلے یہ جان لیا کہ غاصبوں کے سائے میں زندگی گزارنے کا مطلب ایک ہمیشہ کی جیل میں رہنا ہے۔ میں نے کم سنی کے دور میں ہی یہ جان لیا تھا کہ اس سرزمین پر زندگی گزارنا عام بات نہیں ہے۔ جو یہاں پیدا ہوگا اسے اپنے دل کے اندر ناقابل شکست ہتھیار اٹھانا ہوگا اور یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی کا راستہ لمبا ہے۔      آپ لوگوں کے نام میری وصیت یہاں سے شرو...

شریعہ اکیڈمی ندوۃ العلماء کے تحت وقف ترمیمی بل پر مجلس مذاکرہ کا انعقاد:🖋رپورٹ: کلام رضا فیضی (ندوی، ایل ایل بی)

                                                                      🖋رپورٹ: کلام رضا فیضی                                                                           (ندوی، ایل ایل بی) شریعہ اکیڈمی ندوۃ العلماء کے تحت وقف ترمیمی بل  پر مجلس مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں وقف بورڈ کے  بعض ذمہ داران، مسلم پرسنل لاء کے بعض ارکان، علماء اور وکلاء کے علاوہ  ندوۃ العلماء کے اساتذہ و طلبہ کی ایک مخصوص تعداد شریک رہی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام اللہ  سے ہوا، جس کا ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔  مفتی ظفر عالم ندوی( استاذ دار العلوم ندوۃ ا...

مسجد صفا میں جلسہ عظمت صحابہ سے مفتی ابوالحسن علی ندوی کا خطاب

     مسجد صفا کریم گنج میں دس محرم الحرام کو بعد نماز عشاء جلسہ عظمت صحابہ کے عنوان سے رابطہ آئمہ مساجد حلقہ بالا گنج کے ذمہ دار استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ حضرت مولانا و مفتی ابوالحسن علی صاحب ندوی دامت برکاتہم کا اہم خطاب ہوا۔  نشست کا آغاز جناب قاری صدیق صاحب زید مجدہم کی تلاوت سے ہوا، نعت مدرسہ فیض العلوم، مسجد صفا کے طالب علم محمد ابراہیم نے پڑھی۔      حضرت مولانا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اللہ کی نعمتوں میں گھرے ہوئے ہیں، سورج چاند، کھیتی، باغات، ہوائیں ، بارش سب کو اللہ نے ہماری خدمت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اللّٰہ نے فرمایا وسخر لکم الشمس والقمر دائبین: کہ ہم نے سورج و چاند کو مستقل تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے۔      اللّٰہ کا بنایا ہوا اتنا بڑا نظام ہمارے لیے ہے، تیرہ لاکھ زمین سورج میں سما جائیں، صرف سورج نہ ہو تو بارش نہ ہو، درخت نہ ہوں، انسانیت ختم ہو جائے۔ ہم سورج سے بجلی پیدا کر رہے ہیں کوئی بجلی بل نہیں، یہ سب اللہ کا کرم ہے۔  اللہ کہتا ہے کہ واتاکم من کل ما سألتموہ جو بھی مانگا اللہ نے عطا فرمایا ، خواہ...