شعبہ دعوت ارشاد ندوۃ العلماء کے تحت چل رہی تحریک رابطہ ائمہ مساجد کے حلقہ نمبر دس کا ایک بڑا جلسہ منعقد کیا گیا۔ یہ جلسہ مسجد طلحہ سمنان گارڈن کیمپ بیل روڈ میں بعد نماز مغرب منعقد کیا گیا۔ افتتاحی خطاب میں مولانا زین الحق ندوی نے کہا کہ ندوۃ العلماء صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جس کا قیام 1892 میں آج سے تقریبا ایک سو بتیس سال قبل عمل میں آیا۔ اس کے مقاصد میں روزِ اول سے یہ بات شامل تھی کہ ایسے فارغین تیار کیے جائیں جو جدید زمانہ سے واقف ہوں اور ان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ندوۃ العلماء کے تحت مختلف ڈپارٹمنٹ کا قیام عمل میں آیا، ان شعبہ جات میں ایک اہم شعبہ دعوت و ارشاد کاہے، جس کا مقصد دعوت و تبلیغ کے ذریعہ اصلاحِ اعمال کی کوشش ہے۔ اسی شعبہ کے تحت ایک ذیلی تحریک رابطہ ائمہ مساجد موجودہ ناظم ندوۃ العلماء جناب مولانا سید بلال حسنی ندوی نے شروع کی، جس میں مساجد کے ذریعہ ملت کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کی حیثیت اسلامی معاشرہ میں پاور ہاؤس کی ہو۔
رابطہ ائمہ مساجد کے مقاصد
بنیادی طور پر مساجد کو پہلی صدی ہجری کے طرز پر ایکٹو اور متحرک کرنے کی کوشش ہے۔ اس کوشش کے تحت تمام مساجد میں ابتدائی طور پر پانچ کام کرنے کا نظام بنایا جا رہا ہے۔ جمعہ کا خطاب، منظم مکتب کا قیام، درس قرآن، تعلیم بالغان اور خواتین میں بیان۔ جمعہ کا خطاب: حالات حاضرہ کے تحت معاشرہ کی مجموعی ضرورت و رہنمائی کا خیال رکھتے ہوئے خطاب ہو۔ منظم مکتب : مسجد سے متعلق بچوں کی دینی تعلیم کے لیے کا قیام کیا جائے۔ درس قرآن: قرآن سے تعلق کے بغیر اسلامی معاشرہ کی تعمیر نہایت مشکل کام ہے، اس لیے عوام تک قرآن کی تعلیم کو پہنچانے کے ہفتہ واری درس قران کا نظام بنایا جائے۔ تعلیم بالغان: ایسے بڑے افراد جو کسی بھی وجہ سے دین کی تعلیم حاصل نہ کر سکے ہوں، ان کی تعلیم کا انتظام۔ خواتین میں بیان: خواتین کے ذریعہ بچوں کی صالح تربیت ہوتی ہے، اس لیے خواتین کو تعلیم یافتہ بنانا نہایت اہم ہے۔ مذکورہ باتیں مولانا زین الحق ندوی نے کی۔
مساجد کا مطلوبہ کردار
تعارفی خطاب کرتے ہوئےمفتی علی شفیق ندوی نے کہا کہ اسلامی معاشرہ میں مساجد کا کردار ایسا ہے کہ اگر وہ غیر متحرک ہو جائے تو اس سےمعاشرہ کے تمام طبقہ متاثر ہوگا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بچے ہوں یا بوڑھے۔ اسی طرح مساجد کی روح اس معاشرہ کے افراد کی حرکیت سے وابستہ ہے کہ اگر اس معاشرے کے افراد مسجد کی آبادی کی فکر کریں گے تو مسجد متحرک ہوگی، ورنہ مسجد جمود و تعطل کا شکار ہو جائے گی۔اس لیے مساجد کو آباد کرنے کی فکر نہایت ضروری ہے۔ قران میں ہے کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگ ہی مساجد کو آباد رکھتے ہیں۔
پانچ مفوضہ اعمال کے فوائد
رابطہ ائمہ مساجد کے تحت جن پانچ کاموں کی دعوت دی جارہی ہے، وہ کسی بھی مسجد کی حرکیت کا ادنیٰ درجہ ہے، کم از کم ان پانچ کاموں کا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اگر ان پانچ کاموں میں سے کوئی کام بھی نہیں ہو رہا ہے تو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہماری مسجد اپنا بنیادی کردار کما حقہ ادا نہیں کر پارہی ہے ۔ پانچوں کام ایسے ہیں کہ ان کے بغیر مساجد اسلامی معاشرے کی تشکیل میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر سکتی۔ان کاموں کو اپنی اپنی مساجد میں منظم کرنے کی ذمہ داری تمام مصلیان کی ہے۔ نہ صرف امام و متولی کی، بلکہ جب تک اس کی کوشش اور اس میں تعاون مجموعی طور پر تمام مصلیان کی جانب سے نہ ہوگا اس وقت تک ان کاموں کو عملی جامہ پہنانا مشکل ہے۔
کارگزاری مساجد حلقہ بالاگنج
ذیلی حلقہ برورہ میں تقریبا چالیس مساجد ہیں،جن میں خطاب 38 مساجد میں ہوتا ہے۔ منظم مکتب 35 مساجد میں چل رہے ہیں۔ درس قرآن کا اہتمام 12 مساجد ہے۔ تعلیم بالغان: 10 مساجد میں اور ۱۸ مساجد میں خواتین کا اجتماعبھی ہو رہا ہے۔ذیلی حلقہ رجب گنج میں 23 مساجد ہیں،خطاب جمعہ 21مساجد میں، 20 منظم مکاتب،درس قرآن8 مساجد میں، ۳ مساجد میں تعلیم بالغان اور خواتین کا اجتماع ۸ مساجد مین ہو رہا ہے، مزید بہتری کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذیلی حلقہ ٹھاکر گنج میں کل ۲۲ مساجد ہیں۔ ۲۰ میں جمعہ کا خطاب، ۶ میں درس قرآن اور ۷ میں خواتین کا اجتماع کا اہتمام ہو رہا ہے۔ خلاصہ یہ کہ پورے حلقہ میں تقریباً سو مساجد ہیں جن تک رسائی ہوئی ہے، تقریباً سو میں پچاسی نوے میں سے خطاب جمعہ ہو رہا ہے۔منظم مکتب اور خواتین کےاجتماع کا نظام بھی تقریبا مساجد میں ہے، البتہ درس قرآن اور تعلیم بالغان کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔
سنگین حالات میں سخت محنت کی ضرورت
ناظم ندوۃ العلماء مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی نے کلیدی خطاب میں کہا کہ کارگزاری باعث مسرت ہے، لیکن باعث اطمینان نہیں، اطمینان تو اس وقت ہو جب ہر ہر فرد، ہر ہر بچہ دین سے آشنا ہو، دین پر اس قدر اعتماد ہو کہ اپنا سب کچھ دین پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ کام کرنے والے کبھی اطمینان سے نہیں بیٹھتے۔ ملک کے حالات اتنے سنگین ہیں کہ یہ موقع دن رات ایک کر دینے کا ہے، انتھک محنت اور کوشش کی ضرورت ہے۔ مساجد کو متحرک کرنے کی تحریک اسی مقصد کو بروئے کار لانے کی خاطر کی جا رہی ہے۔منظم مکاتب کی اہمیت بہت زیادہ ہے، ہمارے بچے اسکولوں میں خراب ہو رہے ہیں، اسی کے ساتھ جمعہ کا خطاب، درس قرآن، تعلیم بالغان اور خواتین میں بیان بھی نہایت اہم ہے۔
نوجوان بچیوں کی تعلیم و کاؤنسلنگ سینٹر کا قیام
خواتین کا اجتماع اہم ہے، ہمارا مقصد یہ تھا کہ بڑی بچیوں کے لیے جو اسکول جاتی ہیں ان کا کچھ ایسا نظام بنایا جائے کہ ہفتہ واری یا روازنہ ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو۔ اگر اسکول و کالج کہ بچیاں اور جاب کرنے والی بچیوں کو اگر نہ جوڑا تو بڑا خطرہ ان بچیوں پر ہے۔ بچیوں کے لیے ایک کاؤنسلنگ سینٹر ہو، ہفتہ میں ایک دن کاؤنسلنگ ہو، تمام بچیوں کا سروے ہو، تمام جوان بچیاں آئیں، معلمات کا وقت لیجیے، وہ وہاں ان کو دینی تعلیم کے ساتھ ذہن سازی کی اہمیت کو بتائیں۔ دین کی اہمیت ختم ہوگی تو اسلام باقی نہ رہے گا۔
بچیوں کو ہاسٹل میں ڈالنا، بلکہ ان کو ہاسٹل سے باہر کمرہ پر دو تین بچیوں کو ایک ساتھ رہتے ہیں، نہایت منظم سازش ہے، آٹھ لاکھ غیر مسلم نوجوانوں ہمارے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے۔ دوسرے باطل کے کارندے ہرن کی رفتار سے کام کر رہے ہیں، ہم کچھوے کی رفتار سے چل رہے۔ ہم کاروبار کو دیکھتے ہیں، برما میں مولانا علی میاں نے متنبہ کیا تھا کہ کاروبار پر تالے لگ جائیں گے، وہی صورتحال ہوئی۔ ایک گھنٹہ کسی عالم کا بیان ہو، پھر ایک گھنٹہ معلمہ ان کے درمیان رہے۔برادران وطن کو متاثر کرنے کے لیے پیام انسانیت کے پلیٹ فارم سے کام کریں۔
مسجد کی تعمیر سے مراد کیا ہے؟
لکھنؤ میں ہزاروں مساجد ہیں، مساجد کی تعمیر سے مراد آباد کرنا ہے، اس لیے مسجد کو اسلامی سینٹر کے طور پر متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف ڈھانچہ کھڑا کرنا کوئی بڑی بات نہیں، اگر مساجد کو آباد کرنے کی فکر نہ کی تو ان کی سازش کے شکار ہوں گے۔ ابھی خیریت نظر آرہی ہے، مگر کل بڑا پر خطر ہے۔ تاریخ اس کی شاہد ہے کہ اگر وقت رہتے محنت نا کی جائے تو حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جاتے ہیں، خواہ ماضی کے حالات کتنے بھی بہتر ہوں، اس لیے ماضی پر تکیہ کر کے بیٹھنا ہمارا شعار نہیں ہونا چاہئے، بلکہ حال اور مستقبل کی فکر نہایت ضروری ہے، اور یہ کام مساجد کو پہلی صدی کی طرز پر متحرک کرنا نہایت ضروری ہے۔
محنت پر اللّٰہ کا وعدہ ہے
ایک بزرگ نے وصیت کی کہ ہندوستان والوں کو وصیت کر دیجیے، اگر محنت نہ کی گئی تو حلات بہتر ہوں گے، اور اگر صرف تاریخ پر فخر و مباہات کرتے رہے تو حالات دن بدن بگڑتے چلے جائیں گے۔ یہ نظام دار ارقم کا نظام ہے، مسجد نبوی کا نظام ہے، کوئی گھر باقی نہ رہے، ایک ایک گھر کا سروے کیا جائے، اور اس پر محنت ہو۔ یہ ذمہ داری تمام مسلمانوں کی ہے،ائمہ و زمہ داران مساجد کی ہے، سنجیدہ و فکر مند اشخا ص کی ہے۔ بطور خاص اس وقت نوجوان اپنے قیمتی اوقات کو نہایت غیر ضروری کاموں میں صرف کر رہے ہیں ، اپنی راتوں کو بے سود کاموں میں ضائع کر رہے ہیں۔ ہر محلے کے نوجوانوں کو طے کرنا چاہئے کہ اپنی جوانی اللّٰہ کی راہ میں لگائیں گے، خدمت دین کے لئے خود کو وقف کر دیں گے۔
غیر سودی قرضہ کا نظام
دنیا انسان کی ضرورت ہے، اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے، فقر کبھی کبھی انسان کو کافر بنا دیتا ہے، جس محلہ میں شادی پچاس پچاس لاکھ کی ہو رہی ہے اسی محلہ میں ایسی بچیاں بیٹھی ہیں کہ ان شادی ایک ایک دو دو لاکھ میں ہو سکتی تھی۔ پوچھ نہیں ہوگی تو کیا ہوگا۔ وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ: اللہ نے مال دیا ہے ان میں سے اللہ کے بندوں پر خرچ کرنے کا مزاج بنایا جائے۔غیر سودی قرضہ دینے کا نظام بنائیں: دس صاحب ثروت کو تیار کریں کہ وہ ایک متعینہ رقم اس مد میں لگائیں، تاکہ اس فنڈ سے غیر سودی قرضہ دینے کا نطام بنایا جا سکے، یہ وقت کی شدید ضرورت ہے، اور اس مڈل پر کچھ لوگ کام کر بھی رہے ہیں ، بعض فقر کفر تک پہونچا دیتا ہے، اور اگر کفر تک نا پہونچائے تو کم از کم حرام سودی قرض کی وباء تو عام ہوتی جا رہی ہے۔
الغرض یہ کہ مسجد کو متحرک کرنے کا نظام صرف پانچ کاموں تک محدود نہیں ہے، بلکہ مسجد کی ایسی آبادی اور اس کی ایسی حرکیت کی فکر ہے جس کے ذریعہ مسجد سے متعلق علاقہ کے تمام مسائل کا حل پیش کیا جائے۔اگر ہم نے اس رابطہ سے مربوط رہ کر خالص اللہ کے لئے محنت کر لی تو آپ دیکھیں گے کہ سارا لکھنؤ ایک نمونہ بن جائے گا، پورے ملک سے لوگ آئیں گے یہ دیکھنے کہ کیسے یہ نظام بنایا گیا، اور سارا ملک اس نظام کو اپنائے گا، انشاء اللہ۔
واضح رہے کہ اس موقع پر حلقہ بالاگنج کے بیشتر ائمہ و ذمہ داران شریک رہے، علاوہ ازیں علاقہ کے فکر مند لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک رہی۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں