نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اپریل, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
قرآن کریم سے اپنی زندگی کو بابرکت بنائیں:مولانا غالب اسراری ندوی مولانا غالب اسراری ندوی: فائل فوٹو بیان بموقع تکمیل قرآن  فی التراویح حافظہ  صالحہ تبسم  مؤمنات ی الحمد للّٰہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین، اما بعد! إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ (الحجر - 9) وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : حامل القرآن حامل راية الاسلام۔ معزز خواتین!  انتہائی خوشی اور مسرت کی بات ہے آپ کے گاؤں کی بیٹی / پوتی/ نواسی نے اللہ کی آخری کتاب کو مکمل تراویح میں سنایا۔ بچوں میں حفظ قرآن کا رجحان پایا جاتا ہے، لیکن بچیاں بھی قرآن کی حافظہ ہوں یہ مزاج اس علاقے میں اور زمانہ میں بالکل نایاب ہے۔اگر بچیوں کا حافظہ ٹھیک ہو تو عمر کی رعایت کرتے ہوئے قرآن پاک حفظ کرایا جانا چاہیئے ۔ اللہ نے نبیوں کے امام جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت پر تیئس سال کی مدت میں نازل کیا، یہ کتاب لوح محفوظ میں تھا ، اللہ تعالیٰ نے وہاں سے اس قرآن کو آسمان دنیا پر لیلۃ القدر میں نازل فرمایا، یہ ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، تراسی برس چار ...

آپ رمضان کیسے گذاریں: ایک بہتر نظام الاقات

مترجمہ: عائشہ صدف مؤمناتی       بنت: جاوید احسن رمضان میں مسلمانوں کے معمولات : ایک مسلمان اپنے دن کی شروعات  سحری سے  کرتاہے ،اور بہتر یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سحری میں تاخیر کی جائے  ۔ اس کے بعد  فجر کی نماز کے  لیے اذان سے قبل  تیار ی کرے اور اپنے گھر میں وضو کر  کے مسجد کی جانب نکل جائے۔     فجر: مسجد  میں داخل ہوتے ہی دو رکعت تحية المسجد ادا کرے پھر مسجد میں بیٹھ جائے   اور قرآن کی تلاوت کرے یا ذکر میں مشغول ہوجائے یہاں تک کہ مؤذن اذان دینا شروع کرے  تووہ مؤذن  کے ساتھ اذان کا جواب دے ، اذان سے فارغ ہونے کے بعد  نبی کریم ﷺ سے منقول  دعاء پڑھے ۔ اس کے بعد فجر کی دو رکعت سنت مؤکدہ  ادا کرے، نماز کھڑی ہونے  تک    ذکر ، دعاء  یا تلاوت قرآن میں مشغول ہو جائے۔ اس لئے کہ  نماز کے لیے انتظار کرنا نماز میں مشغول ہونے کی مانند ہے۔ نماز با جماعت سے فراغت کے بعدمسنو ن ذکر و اذکار کا اہتمام کیا جائے۔ پھر اگر گنجائش ہو تو طلوع آفتاب تک مسجد ...

استشراق: ایک تعارف👈🖋️📒

استشراق کسے کہتے ہیں؟💬   مغرب کے اہل علم اور ارباب دانش کا مشرقی علوم و فنون، تہذیب و تمدن اور سیاست و معیشت کا وسیع مطالعہ کرنا اور ان علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنا، اس کواستشراق کہتے ہیں۔   مستشرقین کون ہیں؟💭  مغرب کے وہ ماہرین جنہوں نے اسلامیات کے مطالعہ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں، جو تحقیقی انہماک میں تفوق اور مشرقیات سے گہری واقفیت رکھتے ہیں، اسلامی مباحث و مسائل میں ان کی تحقیق و نظریات کو حرف آخر اور قول فیصل سمجھا جاتا ہے، ان کو ہی عام طور پر مستشرقین *(Orientalist)* کہا جاتا ہے.   استشراق کی تاریخ:  اس استشراق کی تاریخ بہت پرانی ہے، وہ واضح طریقے پر تیرہویں صدی مسیحی سے شروع ہوجاتی ہے.   استشراق کے مقاصد و محرکات:  استشراق کا بڑا مقصد مذہب عیسوی کی اشاعت و تبلیغ اور اسلام کی ایسی تصویر پیش کرنا ہے کہ مسیحیت کی برتری اور ترجیح خود بخود ثابت ہو اور نئے تعلیم یافتہ اصحاب اور نئی نسل کے لیے مسیحیت میں کشش پیدا ہو ہو، عام طور پر ان مستشرقین کا مقصد کمزوریوں کی تلاش کرنا اور اس کو دینی یا سیاسی مقاصد کے تحت نمایاں کرنا اور چمکانا ہوتا ہے...

طویل المیعاد منصوبے پر کام کرنے کےلیے اغراض و مقاصد کی وضاحت لازمی: شرکائے نشست

گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا کا قیام اور اس کا استحکام وقت کی ضرورت: قمر الزماں ندوی مؤرخہ 30/ مارچ 2022ء بروز: بدھ بعد نماز مغرب، دار البحث والاعلام، لکھنؤ کے آفس میں ایک مذاکراتی نشست منعقد ہوئی، جس میں اس پلیٹ فارم سے وابستہ اسکالرز نے شرکت کی۔ گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا کے اغراض و مقاصد کی توضیح و تشریح پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے تمام شرکاء نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔ شمس تبریز ندوی (اسکالر شعبۂ بین الاقوامی تعلقات، جامعہ ملیہ اسلامیہ و ممبر ایڈوائزری بورڈ آف گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا) نے کہا کہ ہم لوگ مقاصد کے سلسلے میں جب خود تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں تو دوسروں کو سمجھانے سے بھی قاصر رہ جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی ادارے کے مقاصد واضح اور تحریری شکل میں موجود نہ ہوں تو اس میں دوسرے افراد الگ نظریہ شامل کرکے اس پورے ادارے کو یا تو ختم کردیتے ہیں یا پھر اسے ہائی جیک کرلیتے ہیں۔ اس لیے ادارے کی بقاء و ارتقاء کے لیے مقصد کی وضاحت ناگزیر ہے۔ قمر الزماں ندوی (لکچرار: جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات، ندوہ روڈ، لکھنؤ) نے کہا کہ گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا کے تین بنیادی مقاصد ہیں: (1) ایک پلیٹ فارم...