نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آپ رمضان کیسے گذاریں: ایک بہتر نظام الاقات


مترجمہ: عائشہ صدف مؤمناتی

      بنت: جاوید احسن

رمضان میں مسلمانوں کے معمولات :

ایک مسلمان اپنے دن کی شروعات  سحری سے  کرتاہے ،اور بہتر یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سحری میں تاخیر کی جائے  ۔ اس کے بعد  فجر کی نماز کے  لیے اذان سے قبل  تیار ی کرے اور اپنے گھر میں وضو کر  کے مسجد کی جانب نکل جائے۔

 

  فجر:

مسجد  میں داخل ہوتے ہی دو رکعت تحية المسجد ادا کرے پھر مسجد میں بیٹھ جائے   اور قرآن کی تلاوت کرے یا ذکر میں مشغول ہوجائے یہاں تک کہ مؤذن اذان دینا شروع کرے  تووہ مؤذن  کے ساتھ اذان کا جواب دے ، اذان سے فارغ ہونے کے بعد  نبی کریم ﷺ سے منقول  دعاء پڑھے ۔ اس کے بعد فجر کی دو رکعت سنت مؤکدہ  ادا کرے، نماز کھڑی ہونے  تک    ذکر ، دعاء  یا تلاوت قرآن میں مشغول ہو جائے۔ اس لئے کہ  نماز کے لیے انتظار کرنا نماز میں مشغول ہونے کی مانند ہے۔

نماز با جماعت سے فراغت کے بعدمسنو ن ذکر و اذکار کا اہتمام کیا جائے۔ پھر اگر گنجائش ہو تو طلوع آفتاب تک مسجد میں ذکر ،دعا یا تلاوت قرآن میں مشغول رہا جائے کہ یہ افضل بات ہے  اور یہ وہ اعمال ہیں جو نبی کریم ﷺ فجر کی نماز کے بعد کیا کرتے تھے۔

پھرجب سورج طلوع ہو جائے اور دن کا ایک حصہ نکل جائے تو اب چاشت کی نماز ادا کرے،کم از کم دو رکعت ہی سہی، یہ اس کے لئے زیادہ بہتر ہیں۔اور اگر وہ اسے مؤخر کرنا چاہے تو  کچھ مؤخر کر لے ،  یعنی جب گرمی سخت ہوجائے اور سورج بلند ہو جائے تو یہ زیادہ افضل وقت ہے ۔ پھر اگر چاہے تو سو جائے تاکہ وہ اپنی مصروفیات کے لیےتیار ہوسکے اور سوتے وقت نیت یہ ہو کہ اس سے عبادت اورکسب معاش میں تقویت حاصل ہوگی ، اس طرح اس کا سونا بھی اجر و ثواب کا باعث ہوگا، ان شاءاللہ ۔سونے کے وقت شرعی آداب کی پابندی کی پوری کوشش کی جائے۔

 

  ظہر:

پھر اپنے کاموں میں مصروف رہا جائے،  یہا ں تک کہ جب  ظہر کی نماز کا وقت ہو تو مسجد جانے میں تاخیر نہ کرے، پوری تیاری کے ساتھ  اذان سے پہلے یا اس کےفورا بعد مسجد پہنچ جائے۔ چار رکعت ظہر کی سنت مؤکدہ ادا کرے  اور نماز کھڑی ہونے تک  تلاوت قرآن میں مشغول ہو جائے ۔ پھرجماعت کے ساتھ نماز ادا کرے اور اس کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ ادا کرے ۔

نماز سے فارغ ہوکر  اپنے بقیہ کام پورے کرنے میں لگ جائے حتی کے کام سے لوٹنے کا وقت ہو جائے ، جب کام سے لوٹے اور عصر کی نماز میں ابھی اتنی دیر ہو کہ کچھ دیر آرام کیا جاسکے تو  آرام کرلے۔ اور اگر وقت کافی نہ ہو اور خوف ہو کہ سونے سے نماز عصر فوت  ہو جائے گی تو سونے کے بجائے کسی مناسب کام میں خود کو مصروف رکھے یہاں تک کہ نماز کا وقت ہوجائے۔مثلا وہ بازار چلا جائے اور  ضرورت  کی چیزیں خرید لائے۔

 

  عصر:

اپنے کام سے فارغ ہو کر سیدھا مسجد چلا جائے اور عصر کی نماز تک مسجد میں ہی رہے۔عصر کی نماز کے بعد حسب سہولت اگر مسجد میں بیٹھنا اور تلاوت قرآن میں مشغول ہونا ممکن ہو تو  یقینایہ بڑی عظیم نعمت  ہے، اور اگر روزہ کی وجہ سے بھوک پیاس کی شدت محسوس ہو توبہتر یہ کہ تھوڑی دیر آرام  کرلے تاکہ تراویح کی نماز کے لیے تیاررہے۔

 

  مغرب:

مغرب کی اذان سے قبل افطار تیار کرے اور ان لمحات میں خود کو ایسی چیزوں میں مشغول  کرے جس میں فائدہ ہو مثلا تلاوت قرآن ، دعاء یا اپنے گھر والوں اور بچوں کے ساتھ مفید گفتگو میں ۔

اور سب سے بہتر یہ ہے کہ وہ روزہ داروں کی افطاری تیاری کرنے  میں یا افطاری تقسیم  کرنے میں یا افطار کے نظم و نسق میں حصہ لے اس لئے کہ اس میں ایک قسم کی عمدہ  لذت ہے جس صرف وہی محسوس کر سکتا ہےجس نےاس کام کو کیا ہو۔افطار کے بعد وہ باجماعت نماز کے لیے مسجد جائے اور نماز کے بعد مغرب کی دو رکعت سنت مؤکدہ ادا کرے پھر وہ گھر لوٹ جائے زیادہ کھائے بغیر جتنا ہو سکے کھائے۔

پھر اپنے  اور اپنی اہل و عیال کے لیے اس وقت کے استعمال کاکوئی مفید طریقہ تلاش کرےمثلا کہانیوں کی کتاب، عملی احکامات کی کتاب، مقابلہ ،مباح گفتگو ،یا کسی دوسرے مفید افکار و خیالات کا مطالعہ کرے جس کا مطالعہ کرنا  پسند ہو ۔میڈیا اور سوشل میڈیا میں نشر ہونے والی ممنوعات کو نظر انداز کرے ، یہ وقت اس کے لئے اہم ترین وقت ہے ، آپ دیکھیں  گے کہ اسی وقت میں زیادہ تر پروگرام شوق و جذبہ کو ابھارنے کے لیے نشر کیے جاتے ہیں ، اس لئے  اگر آپ ان میں مبتلا ہوں گے تو آپ اخلاقی اور عقیدے کی برائیوں میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ لہذا میرے بھائی! اس سے توجہ ہٹانے کی پوری کوشش کرو، اور اپنے گھروالوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو جس کے بارے میں تم سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا لہذا سوال کے جواب کی تیاری کرو۔

 

  عشاء:

پھر عشاء کی نماز کے لیے تیار ہوکر مسجد جاۓ اور تلاوت قرآن یا وہ درس جو مسجد میں  ہوتی ہے  اس کے سننے میں مشغول ہو جاۓ۔عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد عشاء کی دو رکعت سنت مؤکدہ ادا کرۓ پھر امام کے پیچھے تراویح کی نماز خشوع و تدبر اور غور و فکر کے ساتھ ادا کرۓ۔   امام کےساتھ اخیر تک نماز پڑھتار ہےاس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :جو شخص امام کے ساتھ اخیر تک  باجماعت نماز پڑھے تو اس کے لیے قیام اللیل(رات بھر نماز میں کھڑے رہنے) کا ثواب لکھا جاتا ہے  رواه الترمذي (806) ۔ ابو داؤد اور البانی نے اس کی توثیق کی ہے کہ اس میں تراویح کی نماز مراد ہے ۔

 

  تراویح کے بعد:

اب میں تراویح کی نماز کے بعد ایک  پروگرام بتاتی ہوں،  جو آپ کے خیالات اور آپ کے ذاتی دلچسپی کے مطابق ہے۔

  آپ کو  مندرجہ ذیل چیزوں سے احتیاط کرنا چاہئے:۔

تمام منع کی ہوئی چیزوں اور اس کے پیش خیمہ  سے دور رہیں :اپنے گھر کے افراد  کو کسی بھی ممنوعات میں پڑنے سے روکیں یا حکیمانہ انداز میں روکنے کے اسباب پیدا کریں جیسے کہ  ان کےلئے کوئی خصوصی پروگرام تیار کرنا یا انھیں مباح  جگہوں پر سیر کے لئےلے جانا یا ان کو بری صحبت سے بچا کر اچھی صحبت فراہم کرنا وغیرہ۔

 مفضول  کےبجائے افضل کاموں میں مصروف رہیں:۔

اس بات کی پوری کوشش کریں کہ آپ جلدی  سو جائیں اور سونے کے  عملی اور قولی دونوں طرح کے  شرعی آداب کی رعایت کی جائے۔ اگر آپ سونے سے پہلے قرآن یا مفید کتابوں سے کچھ پڑھیں تو یہ  اچھی بات ہے ،خاص طور پر اگر آپ کے روزانے کی تلاوت قرآن مکمل نہ  ہوئی ہو تو جب تک اسے مکمل نہ کر لیں نہ سوئیں۔

 

  سحری:

سحری کے لئے اتنا پہلے بیدار ہو جائیں جو دعا میں مشغول ہونے کے لئے کافی  ہو اور وہ وقت رات کا آخری حصہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں نزول الہی  ہوتی ہے۔ خداتعالی نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اس وقت استغفار کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت میں دعا کرنے والوں کی دعا  قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے اور توبہ کرنے والوں  کی توبہ بھی قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ لہٰذا اس عظیم موقع کو ہاتھ سے جانے نہ  دیں۔


  جمعہ کا دن:

جمعہ کا دن ،ہفتے کا سب سے افضل دن ہے؛ اس کے لیے عبادت و  اطاعت کا ایک خاص پروگرام ہونا چاہیے ۔

جمعہ  کے دن درج ذیل باتوں کو مدنظر رکھا جائے :۔

جمعہ کی نماز کے لئے جلدی مسجد جانا،عصر کی نماز کے بعد مسجد میں رکنا اور جمعہ کے  دن کے آخری وقت تک دعا یا تلاوت میں مشغول رہنا۔ یہ وہ گھڑی  ہے جس میں دعاؤں کے قبول ہونے کی امید کی جاتی ہے ؛اس دن کو اپنے کچھ ایسے کاموں کو مکمل کرنے کا منصوبہ بنائے جو آپ نے ہفتے کے دوران مکمل نہیں کیا تھا   جیسے کہ ہفتہ وار قرآن کی تلاوت کو مکمل کرنا اور دیگر نیک اعمال۔

 

  آخری عشرہ :

آخری دس راتوں میں  لیلۃالقدر (زیادہ ممکن) ہے،یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے؛ لہٰذا ہر  انسان کے لئے ان دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف کرنا مشروع ہے، جیسا کہ رسول اللہﷺ شب قدر کی تلاش میں کیا کرتے تھے۔

جس شخص کے لئے اس دوران مکمل اعتکاف میں بیٹھنا آسان ہو تو یہ اس پر خدا کی بہت بڑی نعمت ہے اور جس کے لیے مکمل اعتکاف کرنا آسان نہ ہو تو وہ اتنا اعتکاف  ضرورکریں جتنا  ممکن اورآسان ہو اور اگر کسی کے لئے اعتکاف کرنا ممکن ہی نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی رات کو عبادت و اطاعت سے زندہ رکھے جیسے قیام(نماز)، تلاوت ،ذکر  اور،دعا وغیرہ۔ دن میں اپنے جسم کو آرام دے کر تیار کرے تاکہ وہ رات کو بیدار رہ سکے ۔

 

  تنبیہات:

ü   یہ ایک تجویز کردہ شیڈول اور لچکدار شیڈول ہے جس کو ہر فرد اپنے حالات کے مطابق ایڈجسٹ کر سکتا ہے۔اس شیڈول میں نبی کریم ﷺسےثابت  شدہ سنتوں کے ذکر کو مد نظر رکھا گیا ہے۔

ü   اللہ کے نزدیک محبوب ترین اعمال وہ ہیں جو مستقل کئے جائیں اگرچہ کم ہوں ۔ مہینے کے شروع میں بندہ اطاعت و عبادت کا شوقین ہو جاتا ہے اور پھر اس پر سستی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں لہذا  اس سے ہوشیار رہیں۔ اس مقدس مہینے میں ان تمام کاموں میں ثابت قدم رہنا یقینی بنائیں۔

ü   ایک مسلمان کو اس بابرکت مہینے میں اپنے وقتوں  کو  منظم  کرناچاہیے تاکہ وہ نیک اور صالح اعمال کے عظیم موقع سے محروم نہ رہے۔ مثال کے طور گھر والوں کی ضرورت کی چیزیں مہینے کے شروع  ہونے سے پہلے خریدلیا جائے۔اسی طرح روزمرہ کی چیزیں بھی ان اوقات میں  نہ خریدے جب بازار میں بھیڑ ہو ۔ مثلا  ذاتی ملاقاتیں  اور خاندانی ملاقاتوں  کا اہتمام  اس طرح منظم کیا جائے کہ بندہ عبادت سےغافل نہ ہو ۔

ü   اس بابرکت مہینے میں کثرت سے عبادت اور اللہ سے قربت  کو اپنی پہلی فکر بنائیں ۔مہینے کے شروع سے ہی  نماز کے اوقات میں جلد پہونچنے کا عزم  کیا جائے ، مکمل کتاب اللہ کی تلاوت کا ارادہ ہو اور اس عظیم مہینے میں رات کی نماز کو برقرار رکھنے کا عزم کیا جائے۔  جتنا ممکن ہواپنے پیسے اللہ کے راستہ میں خرچ  کرنے کا ارادہ کیا جائے۔

کتاب اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کے لیے ماہ رمضان کا  فائدہ مندرجہ ذیل ذرائع سے اٹھائے:۔

👈     آیات کو صحیح پڑھنے کا اہتمام، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی اچھے قاری سے پڑھ کر تلاوت درست کی جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو مستند قارئیں  کے ٹپس پر عمل کریں۔

👈     اس کا جائزہ لیں کہ اللہ تعالی نے آپ کو حفظ  میں کیا عطا کیا ہے اور اپنے  حافظہ  میں اضافہ کریں ۔

👈     قرآن کی تفسیر پڑھنا، تفسیر کی منظور شدہ کتب سےجیسے کہ تفسیر بغوی، تفسیر ابن کثیر اور تفسیر سعودی۔

👈     جہاں تک آپ کی تفسیر کی کتاب میں باقاعدگی سے پڑھنے کے لیے شیڈول بنانے کا تعلق ہے تو  اولا آپ عمّ (تیسواں پارہ)کے حصے سے  شروع کریں پھرتبارک الذی (انتیسواںپارہ)حصے کی طرف بڑھیں وغیرہ۔

👈     خدا کی کتاب میں گزرنے والے احکامات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کے خیال رکھیں۔

 ہم اللہ سے دعاگو ہیں  کہ وہ ہمارے لیے رمضان المبارک کی معرفت ، اس کے روزے اور قیام کی  مکمل نعمت عطا کرے اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے، ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے۔آمین!


 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...