مترجم: گوہر اقبال ندوی ( فائل فوٹو) فلوریڈا شہر کے ایک عیسائی ڈاکٹر جن کا نام جیمس تھا، 1968 میں ایک سائنسی لیبارٹری میں انسانی ڈی این اے پر تحقیقات کر رہے تھے۔ ان کی بیوی کالی تھی اور ان کے تین بچے تھے۔ ان کے پڑوس میں ایک مسلم فیملی رہتی تھی۔ ڈاکٹر جیمس کی بیوی اپنے پڑوسن کے گھر جایا کرتی تھی۔ اس دوران اس گھر کی مسلم خاتون کا شوہر مر جاتا ہے اور وہ عورت اسلامی اصول کے مطابق عدت گزارنے لگتی ہے، ڈاکٹر جیمس کی بیوی اس بات کا تذکرہ اکثر اپنے شوہر سے کیا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ اسلام کیسا مذہب ہے جو عورت کو چار مہینے دس دن تک گھر میں قید کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر جیمس کی دلچسپی سائنسی تحقیقات کے میدان میں مزید بڑھ گئی، انھوں نے اسلام پر مطالعہ شروع کیا اور بالخصوص مسلم عورتوں کی عدت اور ان کے ڈی این اے پر تحقیقات شروع کیں۔ تحقیق کے اس عمل کے دوران رفتہ رفتہ ان کے سامنے حق آشکارا ہوتا گیا۔ آخر کار ڈاکٹر جیمس اس نتیجہ پر پہنچے کہ عدت کی وجہ سے مسلم عورتیں ان دیگر مذاہب کی عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ پاکیزہ ہوتی ہیں، جہاں عدت کا کوئی تصور نہیں۔ پھر انھوں نے اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہ...
دار البحث والاعلام، لکھنؤ کا علمی، ادبی و صحافتی ترجمان