نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اگست, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مسلم عورتوں کی عدت اور ڈی این اے کے متعلق (ایک چشم کشا) سائنسی تحقیق

مترجم: گوہر اقبال ندوی  ( فائل فوٹو) فلوریڈا شہر کے ایک عیسائی ڈاکٹر جن کا نام جیمس تھا، 1968 میں ایک سائنسی لیبارٹری میں انسانی ڈی این اے پر تحقیقات کر رہے تھے۔ ان کی بیوی کالی تھی اور ان کے تین بچے تھے۔ ان کے پڑوس میں ایک مسلم فیملی رہتی تھی۔ ڈاکٹر جیمس کی بیوی اپنے پڑوسن کے گھر جایا کرتی تھی۔ اس دوران اس گھر کی مسلم خاتون کا شوہر مر جاتا ہے اور وہ عورت اسلامی اصول کے مطابق عدت گزارنے لگتی ہے، ڈاکٹر جیمس کی بیوی اس بات کا تذکرہ اکثر اپنے شوہر سے کیا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ اسلام کیسا مذہب ہے جو عورت کو چار مہینے دس دن تک گھر میں قید کر دیتا ہے۔  ڈاکٹر جیمس کی دلچسپی سائنسی تحقیقات کے میدان میں مزید بڑھ گئی، انھوں نے اسلام پر مطالعہ شروع کیا اور بالخصوص مسلم عورتوں کی عدت اور ان کے ڈی این اے پر تحقیقات شروع کیں۔ تحقیق کے اس عمل کے دوران رفتہ رفتہ ان کے سامنے حق آشکارا ہوتا گیا۔ آخر کار ڈاکٹر جیمس اس نتیجہ پر پہنچے کہ عدت کی وجہ سے مسلم عورتیں ان دیگر مذاہب کی عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ پاکیزہ ہوتی ہیں، جہاں عدت کا کوئی تصور نہیں۔ پھر انھوں نے اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہ...

زندہ ادب زندہ شعور کی علامت ہے: دانش اقبال ندوی

مدرسہ تفہیم الاسلام میں ادبی نشست کا انعقاد رپورٹنگ: سعود اشر تعلیمی و سماجی بیداری مہم" سیمانچل، بہار اور "ٹی. کے. این نیوز"( دی خبر و نظر) " کے زیر اہتمام ایک دلچسپ ادبی نشست کا انعقاد مدرسہ تفہیم الاسلام بھکھری (پورنیہ) میں کیا گیا۔ چند لمحے نو واردان ادب کے ساتھ کے عنوان پر منعقد اس نشست کی نظامت کرتے ہوئے محمد دانش اقبال ندوی (ایم ایڈ) نے کہا کہ زندہ ادب زندہ شعور کی علامت ہے، بغیر تربیت کے یہ شعور پیدا نہیں ہوتا.  ناظم جلسہ نے مزید کہاکہ آ ج کی اس ادبی نشست کا مقصد نوواردان ادب کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کو منظم رکھنا اور ان کی تخلیقات: نظم و نثر دونوں کو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنا ہے۔ مہمانِ خصوصی ماسٹر محمد ناظم صاحب نے اپنی گفتگو میں نوواردان ادب کی حوصلہ افزائی کی، انھوں نے کہاکہ ادب کے تئیں بیداری لانا ہم سب کی زمہ داری ہے۔ ادب سے وابستگی کا مطلب ہے کہ اُردو زبان وادب کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں استعمال میں لائیں۔ علاقے کے مشہور مغنی جناب دانش قمر راہی ندوی نے نعتیہ کلام پیش کر کے سامعین کرام کے سامنے یکے از نوواردان ادب ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ شاعر ظ...

آن لائن اجتماع بعنوان "اسلام میں خواتین کے حقوق" کا انعقاد

جناب مولانا سید توحید عالم صاحب ندوی حفظہ اللہ  ا سلام میں خواتین کے حقوق، ہندوستان میں خواتین اسلام کے خلاف  شدت پسند تنظیموں کا پروپیگنڈہ اور ان سے بچنے کی تدابیر کے موضوع پر خواتین اسلام کا ایک آن لائن اجتماع منعقد کیا گیا۔ جناب مولانا سید توحید عالم صاحب ندوی  زید مجدہم نے اس آن لائن اجتماع سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے فرمایا، کہ اسلام نے عورتوں کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے، اسلام مساوات کے ساتھ عدل اور انصاف کا قائل ہے۔ دنیا کے موجودہ مذاہب میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو خواتین کو ان کے شایان شان مرتبہ عطا کرتا ہے۔ بقیہ تمام اقوام و ملل نے آزادئ نسواں کے نام پر  خواتین کا استحصال کیا ہے۔ مولانا نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں مدلل گفتگو کرتے ہوئے خواتین اسلام کی عظمت و مرتبت کو واضح فرمایا۔ مولانا نے دین اسلام کے اندر خواتین سے حسن سلوک، حسن معاشرت، حجاب، اور طلاق جیسے اہم موضوعات پر مفصل اور تشفی بخش خطاب فرمایا۔ ملک ہندوستان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ اس ملک کی شدت پسند تنظیموں نے مسلم خواتین کے خلاف باقاعدہ مورچہ کھول رکھا ہے، اور م...

مساجد میں خواتین کی آمد ایک تاریخی و فقہی مطالعہ: طالبعلمانہ تبصرہ

  فائل فوٹو: مفتی محمد زبیر ندوی( زید مجدہم)   از قلم: محمد زبیر ندوی دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انسان کے جسم کی تنظیم اور نشو ونما میں جو حیثیت قلب و دماغ کو حاصل ہے تقریبا یہی حیثیت اسلامی معاشرہ کی تنظیم و اصلاح اور تعلیم و تربیت  میں مساجد کو حاصل ہے، دور نبوت اور بعد کے ادوار میں مساجد کا یہ کردار اس قدر مسلم تھا کہ اس کے بارے میں کسی کو کچھ بتانا تحصیل حاصل تھا، لیکن جوں جوں زمانے کی نیرنگیاں بڑھتی گئیں اور نظام تعلیم و تربیت کو مسجد سے باہر کرنے کی کوشش ہوتی گئی یہ چیز قصۂ پارینہ بنتی گئی، وہ دور ایک مثالی دور تھا، اس میں مرد و خواتین دونوں صنفیں مسجد کے فیض سے مستفیض اور اور اس کی ضیاپاشیوں سے مستنیر تھیں، فقہی نقطہ نظر سے خواتین کی مسجد میں آمد یہ دور نبوت سے آج تک کے تمام فقہاء و محدثین کے نزدیک بالاتفاق جائز رہا ہے، البتہ طبعی اور فطری نقطۂ نظر سے دور نبوت اور زمانۂ صحابہ میں بھی بعض لوگوں کو یہ بات بہت زیادہ ہضم نہیں ہوتی تھی جس کی مثالیں کتب حدیث میں موجود ہیں، فقہاء احناف کے یہاں قدیم قول کے مطابق خواتین کی مسجد میں آمد رخصت پر مبنی ہے اور نہ آنا عزیم...