نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مساجد میں خواتین کی آمد ایک تاریخی و فقہی مطالعہ: طالبعلمانہ تبصرہ

 

مفتی محمد زیبر ندوی
فائل فوٹو: مفتی محمد زبیر ندوی( زید مجدہم)

 

از قلم: محمد زبیر ندوی

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی


انسان کے جسم کی تنظیم اور نشو ونما میں جو حیثیت قلب و دماغ کو حاصل ہے تقریبا یہی حیثیت اسلامی معاشرہ کی تنظیم و اصلاح اور تعلیم و تربیت  میں مساجد کو حاصل ہے، دور نبوت اور بعد کے ادوار میں مساجد کا یہ کردار اس قدر مسلم تھا کہ اس کے بارے میں کسی کو کچھ بتانا تحصیل حاصل تھا، لیکن جوں جوں زمانے کی نیرنگیاں بڑھتی گئیں اور نظام تعلیم و تربیت کو مسجد سے باہر کرنے کی کوشش ہوتی گئی یہ چیز قصۂ پارینہ بنتی گئی، وہ دور ایک مثالی دور تھا، اس میں مرد و خواتین دونوں صنفیں مسجد کے فیض سے مستفیض اور اور اس کی ضیاپاشیوں سے مستنیر تھیں، فقہی نقطہ نظر سے خواتین کی مسجد میں آمد یہ دور نبوت سے آج تک کے تمام فقہاء و محدثین کے نزدیک بالاتفاق جائز رہا ہے، البتہ طبعی اور فطری نقطۂ نظر سے دور نبوت اور زمانۂ صحابہ میں بھی بعض لوگوں کو یہ بات بہت زیادہ ہضم نہیں ہوتی تھی جس کی مثالیں کتب حدیث میں موجود ہیں، فقہاء احناف کے یہاں قدیم قول کے مطابق خواتین کی مسجد میں آمد رخصت پر مبنی ہے اور نہ آنا عزیمت پر مبنی ہے، یہی نقطہ نظر آج کے بہت سے دار الافتاوں کا بھی ہے، متاخرین احناف میں سے بعض حضرات نے خواتین کی مسجد آمد کو مکروہ تحریمی بھی قرار دیا ہے، یہ تمام تفصیلات متعدد کتابوں میں دستیاب ہیں۔




لیکن پیش نظر جو کتاب ہے وہ اپنی تحقیق و تنقیح اور سلبی و ایجابی دونوں نقطۂ نظر سے بے مثال کتاب ہے، مصنف نے پہلے اس کتاب میں خواتین کی مسجد آمد کا تاریخی جائزہ لیا ہے اور ہر دور سے مثالیں پیش کرکے ثابت کیا کہ خواتین کا ہمیشہ سے مسجد سے رشتہ استوار رہا ہے اور ان کی تعلیم وتربیت میں بہت اہم کردار مساجد کا رہا ہے، نیز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جانب ممانعت کی جو بات منسوب ہے تاریخی دلائل سے اس کا غلط ہونا ثابت کیا ہے، دوسرے حصے میں فقہی نقطہ نظر سے اس کا جائزہ لیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسجد میں خواتین کی آمد ہی اس وقت بہترین اور موثر ترین ذریعہ ہے انکی اصلاح و تربیت کا، اور فتنے کے اندیشہ کو کم کرنے کے لئے اس طریقۂ کار کو اپنانے کی بھرپور وکالت کی ہے جو آج بہت سے ملکوں اور شہروں میں رائج ہے یعنی مسجد کا ایک حصہ ان کے لئے مخصوص کردینا۔


بر صغیر کے علماء کی اکثریت اس چیز کو زیادہ مناسب نہیں سمجھتی اور دار الافتاء وغیرہ سے اس کی حوصلہ افزائی بھی نہیں ہوتی خود راقم الحروف کو بھی اس موضوع پر بہت زیادہ شرح صدر نہیں تھا؛ لیکن اس کتاب کو تین مرتبہ بالاستیعاب پڑھنے، دیگر تحریروں کو دیکھنے اور معاشرہ کی مجموعی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ رجحان بنا کہ پارٹیشن کے ساتھ خواتین کی نماز کا انتظام مساجد میں ہونا چاہیے بطورِ خاص شہر اور بازار کی مساجد میں کہ وہاں اس کی زیادہ ضرورت ہے، اس لیے اس کتاب کے بارے میں میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ یہ کتاب "ایک رجحان ساز اور ذہن ساز کتاب" ہے، علماء اور مفتیان کرام کو ضرور یہ کتاب پڑھنی چاہیے اور اپنے قدیم نقطۂ نظر پر نظرثانی کرنا چاہیے۔ کتاب کے مصنف چونکہ احقر کے استاذ محترم ہیں اور مجھے چار سال تک مدرسہ سیدنا بلال ڈالیگنج لکھنؤ میں آپ کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے کی سعادت حاصل رہی ہے؛ اس لیے مزید کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا، چنانچہ بمصداق مشک آنست کہ خود ببوید ناکہ عطار بگوید آپ خود کتاب پڑھیے اور فیصلہ کیجیے، بس دعاء ہےکہ اللہ تعالیٰ استاذ محترم کی اس کتاب نایاب کو قبولیتِ عامہ و دائمہ عطاء فرمائے۔ 

ایں دعاء از من و از جملہ جہاں آمین باد

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...