مولانا وحید الدین خان رحمۃ اللہ علیہ 2021 میں ہمیشہ کے لیے جدا ہونے والوں کے پیہم صدمے ابھی تازہ ہی تھے کہ 21 اپریل 2021ء کو ایک اور گہرا زخم ملا، قلمی دنیا کے بے تاج بادشاہ مولانا وحیدالدین خان کا بھی نام ہمیشہ کے لیے سیاہ حاشیہ میں شامل ہوگیا، إنا لله وإنا إليه راجعون! اس موقع پر حیدر علی آتش کا یہ شعر یاد آرہا ہے کہ: اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجیے مولانا مرحوم کی شخصیت ان کے علمی اور دینی کاموں کی وجہ سے محتاج تعارف نہیں، یقینا مولانا مرحوم کی شخصیت ایک عہد ساز اور غیر معمولی شخصیت تھی، مولانا ایک عظیم مصنف اور ایک نامور مفکر تھے، ایک مایہ ناز اسلامک اسکالر اور ایک معروف داعی اسلام تھے، مولانا بے پناہ صلاحیتوں کے مالک اور گوناگوں خصوصیات کے حامل تھے۔ مولانا کی رحلت امت بلکہ پوری علمی دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے، مستقبل قریب میں جس کی تلافی مشکل نظر آرہی ہے۔ ولادت اور تعلیم مولانا کی ولادت یکم جنوری 1925ء کو ہندوستان کے ایک مردم ساز اور علمی شہر اعظم گڑھ کے ایک دور افتادہ گاؤں *بڈہریا* میں ہوئی تھی، مدرسۃ الاصلاح سراۓ م...
دار البحث والاعلام، لکھنؤ کا علمی، ادبی و صحافتی ترجمان