بسم اللہ الرحمن الرحیم
میرے دوست، ہم درس، ہم مزاج، بے شمار حسین یادوں کے امین، عمار جامی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا لکھوں؟
نظام کائنات ہے یہ!
مالک الملک کا ایک فیصلہ ہے!
ہم بندوں کا کام بندگی، صبر اور شکر ہے بس!
کیا لکھوں!
کوئی نہیں سمجھ سکتا آپ کے غم کو
آپ کی کڑھن کو
آپ کی سوز، آپ کی دھڑکنوں کو
جو آپ پر گذری ہے
کسی پر نہ گزرے
لیکن حقیقت یہ ہے
سب پر گزر چکی ہے
یا گذرنی ہے
ظہر سے اب تک ایک کیفیت طاری ہے،
بار بار آپ کا چہرہ سامنے آتا ہے
ٹرین میں لی گئ ایک تصویر گیلری میں ہے
بار بار دیکھتا ہوں
جی چاہتا ہے کیسے آپ تک پہونچ جاؤں
بس ساتھ رہوں آپ کے
ایسے موقع پر
کچھ نہ کہوں
بس تکتا رہوں
شاید میرا وجود
آپ کا غم کچھ ہلکا کر سکے
کاش ایسا ہو سکتا
غالب کہہ رہے ہیں:
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
کیا لکھوں
شاید ایک نششت میں یہ تحریر مکمل نہ کر سکوں
اور کیا یہ ممکن بھی ہے؟
آج تیسرا دن ہے
قمر بھائی سے
عالمگیر سے
مولانا سے
آپ کی خبر پوچھ لیتا ہوں بس
اس کی سکت نہیں کہ بلا واسطہ رابطہ کروں
کیا کہوں،کیا لکھوں!
میرے عمار!
کتنے خوشگوار تھے وہ لمحے جو آپ کے ساتھ گذرے
ہر پل، ہر لمحہ آپ نیا سوچتے تھے
کتنی راتیں کٹیں
دن بیتے
مگر
آپ سے ملنا
باتیں کرنا
بڑا اچھا لگتا تھا
کیسی کیسی مشکل مہم کو ساتھ سر کیا
آپ کا حوصلہ
مشکل کاموں کے لئے
مغامرات کے لئے
خود کو ہر وقت تیار رکھنا
سب یاد آتا ہے
بڑی بڑی شخصیات سے بلا تردد بات کرنا
جلسہ، میٹنگ، نششت کے لئے
فوری اور عمدہ پلان کرنا
بلا تکان کام کرنا
آپ کی خصوصیات ہیں
اچھے اخلاق و عادات
اچھی تربیت اور نیک والدین کا پتہ دیتے ہیں
سو
ایک دن ملاقات ہوئی
آپ کے والد ماجد سے
اس عالم ناسوتی میں موجود ایک بہترین شخص سے
قدیم صالح جدید نافع کے حسین سنگم سے
نہایت عمدہ اخلاق کے حامل
صحافت میں نہایت بلند مقام رکھنے کے باوجود
نہایت متواضع
سماجی سطح پر کئی گراں قدر کارناموں کو انجام دینے کے باوجود
نہایت عاجزی و خاکساری
اگرچہ میری صرف ایک ملاقات ہے ان سے
لیکن اسی ایک ملاقات کی
کئی یادیں وابستہ ہیں۔۔۔
اب آپ کو سوچتا ہوں
تو لگتا ہے
اپنے والد بزرگوار کا عکسِ جمیل ہیں آپ
ان کے پرتو ہیں
ان کے بہتریں جانشیں
اور ان کے مشن کو پورا کرنے کے لئے ایک مظبوط و حوصلہ مند نائب و امین ہیں
عمار !
ایک ہفتہ قبل ایک معمولی چوٹ کی وجہ سے بستر پر ہی رہتا ہوں،
حادثہ کی خبر بستر پر ہی ملی
ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا ہی تھا
مچل کر رہ گیا
بلا مبالغہ کہوں
ایسا لگا کہ کوئی بہت قریبی
ہاں بہت قریبی رخصت ہوا
ہاں
انھوں نے ملت کی سربلندی کے لئے
عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے
جو کچھ بھی کیا
احسان شناسی کا ادنی درجہ ہے یہ
کہ
ان سے اپنائیت کا
ان کی قربت کا احساس دل کو رہے
عمار!
زمانہ کے تغیرات
اللہ کی مصلحت سے خالی نہیں
مجھے یاد آتا ہے
ایک دفعہ لمبی گفتگو میں
آپ نے اپنے دادا مرحوم کا واقعہ بیان کیا تھا
کہ کس طرح دادا مرحوم آپ کے والد بزرگوار کو چھوڑ کر چل بسے تھے
جب آپ کے والد مرحوم سن بلوغت کو بھی نہ پہونچے تھے
پھر از خود والد محترم کی تعلیم کے لئے کہ گئی جد جہد کا ذکر کیا تھا
عمار
تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے
ایک واضح مثال سامنے ہے
اگر والد مرحوم نے نا موافق حالات میں
اسباب و وسائل کی قلت کے باوجود
اتنے عظیم کام کئے
صحافتی، سماجی، تعلیمی، طبی
کریڈٹ کا ایک امپائر کھڑا کیا
تو
آپ جیسی معصوم
مگر
بلند حوصلہ جان
عالی ہمت
ضرور کر سکتی ہے
وہ سب جس کا نقشہ والد مرحوم نے کھینچا
بلکہ اس نقشہ پر
بلند و بالا، مظبوط اور شاندار
محل تعمیر کر سکتے ہیں آپ
اور شاید
اسی کی ذمہ داری
انھوں آپ کےکاندھوں پر ڈال دی ہے
میں نے آپ کے ساتھ ایک لمبا وقت گذارا
میں نے پایا کہ آپ
مسائل و مشکالات کو حل کرنے والے ہیں
چھوٹی سی عمر میں آپ نے کیا کچھ نہیں کیا
بہت امیدیں وابستہ ہیں آپ سے
کتنی دفعہ ایسا لگا کہ صرف آپ میں کئی قمر، کئی فیضی، اور کئی عالمگیر بستے ہیں،
آپ تنہا وہ سب کر سکتے ہیں
بلکہ کیا
جس کو کرنے کی تمنا ہمارے دل میں رہی
عمار
آج چوتھا دن ہے
روز لکھنے بیٹھتا ہوں
پھر کاٹتا ہوں
کال کرنے سے گریز کرتا رہا
میرے پاس الفاظ نہیں تھے
حتی کہ رات آپ نے ہی کال کی
بات کرنے کے بعد اور اچھی طرح اندازہ ہوا
آپ کے صبر،استقامت، ہمت وحوصلہ کا
کیا کچھ نہیں تھا
رات کی گفتگو میں
میں نے آپ کی آواز ریکارڈ کر لی ہے۔
بعد کو سنتا رہا، اور سوچتا رہا
کہ قربت تو پہلے بھی تھی،
یہ اب کیا ہوا ہے مجھے
ہر وقت عمار!عمار!
نیند آرہی تھی
اور یہ خیال بھی
کہ
اللہ کے لئے آپ سے محبت کرنے لگا ہوں
اللہ میرے عمار کو تو دیکھ لے!
اکثر پڑھتا رہتا ہوں، آپ بھی دیکھیں ساقی امروہوی کا یہ کلام:
یہ حادثات نہ سمجھیں ابھی کہ پست ہوں میں
شکستہ ہو کے بھی نا قابل شکست ہوں میں
متاع درد سے دل مالا مال ہے میرا
زمانہ کیوں یہ سمجھتا ہے کہ تنگدست ہوں میں
ملا ہے فقر تو ورثے میں جدِ امجد سے
مجھے یہ فخر ہے ساقی کہ فاقہ مست ہوں میں
نہ پا سکیں گے جوانانِ بادہ مست مجھے
خود اپنی ذات میں خُم خانۂ الست ہوں میں
عمار! عمّرک اللہ طویلا
والسلام مع الحب
تمہارا
فیضی
مظفرہ، بیگوسرائے
بہار
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں