نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جولائی, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مظاہرہ خطابت برائے اطفال کا انعقاد

  پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے مساہم : راشد احسن خطابت کے ساتھ جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال نا گزیر: کلام رضا فیضی " موجودہ دور میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دینے کے لئے جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال نہایت ضروری ہے، اس زمانہ کا بڑا المیہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں کتابوں کے مطالعہ کا رجحان بہت تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ دینی اور دنیاوی ہر طرح کی معلومات کے لیے لوگ جدید ذرائع اور ٹکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں۔ قلم و کتاب اور تصنیف و تالیف کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن عصر حاضر کی صورت حال یہ ہے کہ شائع شدہ کتابوں اور مجلات کی بہت کم کاپیاں فروخت ہو رہی ہیں، جبکہ جدید ذرائع کے سہارے تیار کی گئی چند منٹ کی ویڈیوز دسیوں لاکھ ویوز حاصل کر رہی ہیں۔ اس لئے اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ عصر جدید کا چیلینج اور وقت کی ضرورت یہ ہے کہ دین اسلام سے متعلق معلومات،فضائل و مسائل اور اسلام سے متعلق اشکالات اور ان کے ازالے کو وافر مقدار میں ان جدید پلیٹ فارمز پر مہیا کیا جائے، الگ الگ بلاگ،مختلف سائٹس اور چینل کو اسلام اور اس متعلق معلومات سے بھر دیا جائے تاکہ تمام تشنہ لبوں تک سیراب کرنے والا جام یعن...

انتخاب امیر شریعت کی تاریخ :ایثار وقربانی اور استغنا کےنقوش

   🖋️:مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی  کیا لوگ تھے جو راہ وفا سے گذرگئے جی چاہتا ہے نقش قدم چومتے چلیں ایثار وقربانی اور استغناء و بے نیازی اہل ایمان بالخصوص صالحین کے لیے سرمایہ گراں مایہ ہے... عہدہ طلب کر نے کی شناعت اور بغیر مانگے عہدہ ملنے پر قبول کرنے کی ترغیب اور اس سلسلے میں تائید الہی کی بشارت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں موجود ہے...  رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیارے صحابی عبدالرحمٰن بن سمرہؓ کو ان الفاظ میں نصیحت فرمائی: ’’یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَۃَ، لَا تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ، فَاِنَّکَ اِنْ أُعْطِیتَھَا عَنْ مَسْأَلَۃٍ وُکِلْتَ اِلَیْھَا، وََ اِنْ أُعْطِیتَھَا عَنْ غَیْرِ مَسْأَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْھَا(صحیح بخاری، کتاب الأحکام، باب مَنْ سَأَلَ الْاِمَارَۃَ وُکِلِ اِلَیْھَا، بروایت عبد الرحمٰن بن سمرہؓ) ‘یعنی’’ اے عبد الرحمٰن بن سمرہ! کبھی امارت کی درخواست نہ کرنا،کیوں کہ اگر تمھیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو تم اسی کے حوالے کردئے جاؤگے (اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھالے گا کہ تو جانے تیرا کام جانے) اور اگر وہ عہدہ تمھیں بغیر مانگ...

کامیابی کے اصول

اللہ تبارک و تعالی کی تخلیق کردہ یہ کائنات جب سے وجود میں آئی ہے اپنے اصولوں پر قائم ودائم ہے۔ سورج، چاند، زمین سب اپنے اپنے محور پر گردش کر رہے ہیں۔ کائنات کے کروڑہا کروڑ سیاروں میں سے اگر ایک سیارہ بھی اپنی حرکت بند کر دے یا اپنے محور سے سے ہٹ کر حرکت کرنا شروع کر دے تو پوری کائنات عدم متوازن (Dis-Balanced) کی شکار ہوجائے گی اور اسے فنا ہونے میں بالکل بھی وقت نہیں لگے گا۔ انسانی زندگی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، اگر زندگی میں کامیابی کے اصولوں کا لحاظ نہیں رکھا جاتا تو زندگی گزر جاتی ہے لیکن اس کا حق ادا نہیں ہوپاتا۔ اللہ پاک نے ہر انسان کی فطرت میں عظمت کے بیج رکھے ہیں، لیکن ہر انسان عظیم نہیں بن پاتا۔ عظیم وہی بنتا ہے جو ان اصولوں کا لحاظ رکھتا ہے۔  دنیا کا اصول ہے کہ جو آگے نہیں بڑھتا اسے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ جہاں ترقی نہیں ہوتی وہاں تنزلی ہوتی ہے، جہاں پرگتی نہیں ہوتی وہاں درگتی ہوتی ہے، جہاں بلندی نہیں ہوتی وہاں پستی ہوتی ہے، جہاں وکاس نہیں ہوتاوہاں وناش ہوتا ہے، جہاں حرکت نہیں ہوتی وہاں جمود ہوتا ہے اور جہاں جمود ہوتا ہے وہیں زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ جو لوگ ترقی کے ر...

سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی!

   محبت کے نام پر مرمٹنے والوں کے افسانے آپ نے بہت سنے ہونگے ، محبوب کی راہ میں جان کے نذرانے پیش کرنے والوں کی داستانیں آپ کی سماعت سے ٹکرائیں ہونگی،  محبت محبت کے جھوٹے قصیدوں کے راگ الاپنے والے بھی آپ کو قدم قدم پر نظر آئے ہونگے ، لیکن سچ پوچھیں تو یہ کتابوں کے اوراق میں مدفون وہ محبتیں ہیں جو صرف زیب داستاں کے لئے گڑھی گئ تھیں ،یا سیریل اور ڈراموں میں دکھائیں جانے والی وہ محبتیں جس کا اثر صبح آفتاب کی روشنی کے ساتھ ظاہر ہو اور پھر شام ڈھلتے ہی اسی محبت کا سورج غروب ہو جائے، جو صبح کی بہاروں کے ساتھ رقصاں نظر آئے، اور شام کو اندھیروں کے سمندر میں ڈوبتی دکھائ دے، لیکن خدا کی قسم وہ پاک وپاکیزہ محبت جو دنیا نے حضرت ابراہیمؑ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روپ میں دیکھی جو صبح کی چمک کے ساتھ ابھری اور دیکھتے ہی دیکھتے جس نے ذروں کو چمکاکر رکھ دیا، گویا زمین سے آسمان تک ہر چیز روشنی میں نہا رہی ہو، ایک ایک گوشہ ستاروں کی طرح جگمگارہا ہو،  یہاں تو محبتوں کی موجیں لے ڈوبتی ہیں، لیکن وہاں محبت کے پاکیزہ جذبات اور خلوص کے رنگ میں ڈوبے ہوئے احساسات کی موجوں نےتو رب تک راستہ ب...

ایک اہم علمی مذاکرہ

ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کے انسائکلو پیڈیا ’’الوفاء باسماء النساء‘‘ پر علمی مذاکرہ کا انعقاد رپورٹ: محمد صادر ندوی  (اسکالر ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی ،علی گڑھ)      گزشتہ روز مؤرخہ 14؍جولائی 2021 ادارہ میں معروف محقق ومصنف ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی مشہور ِ زمانہ موسوعہ ’’الوفاباسماء النساء‘‘ کے تعارف وتجزیہ پر علمی مذاکرہ منعقد ہوا۔ یہ انسائکلو پیڈیا ۴۳ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس میں امہات المؤمنین اور صحابیات کے دور سے لےکر پندرہویں صدی ہجری تک کی خواتین اسلام کی حدیثی خدمات اور حدیث نبوی سے کسی بھی ناحیہ سے ان کے شغف واشتغال کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ انسائکلو پیڈیا مؤلف محترم کا عظیم کارنامہ ہے۔ مؤلف محترم اس کی تالیف پر پوری ملت اسلامیہ کی جانب سے شکریہ کے مستحق ہیں۔   پروگرام کا آغاز محمدصادر ندوی کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ سکریٹری ادارہ نے تمہیدی کلمات میں مذاکرہ کے انعقاد کے اغراض ومقاصد بیان کیے۔ اس کے بعد ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی کے کار گزار صدر ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے مصنف کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ’’جب میں ندوہ می...

علامہ حکیم سید عبد الحی حسنی (سابق ناظم ندوۃ العلماء)

علامہ حکیم سید عبد الحی حسنی        (سابق ناظم ندوۃ العلماء)  ⁦⁩⁦🖋️⁩کامران اشرف ندوی     انیسویں صدی عیسوی کے ایک قابل فخر مؤرخ،محقق، اور ادیب حکیم سید عبد الحی الحسنی ہیں، جن کا نام اسلامیان ہند کی تاریخ رقم کرنے والوں میں سب سے زیادہ روشن اور نمایاں ہے، آپ نے نزهة الخواطر(الإعلام بمن في تاريخ الهند من الأعلام) الثقافة الإسلامية في الهند،اورالهند في العهد الاسلامي، جیسی معرکۃ الآراء کتابیں لکھ کر بھارت کی اسلامی تاریخ محفوظ کردی، ان عربی تصنیفات اور علمی کارناموں سے ہندوستان کا تعارف عالم اسلام میں کرایا اور وہاں کے علماء اور محققین سے خراج تحسین حاصل کر کے اس ملک کے نام اور وقار میں زبردست اضافہ کیا،  آپ کی ولادت 18 رمضان المبارک 1286مطابق 22 دسمبر1869دائرہ حضر شاہ علم اللہ شہر رائے بریلی میں ہوئی، آپ کا نام سید احمد رکھا گیا، لیکن مشہور عبدالحی کے نام سے ہوئے، آپ کے والد ماجد کا نام حکیم سید فخرالدین تھا ،جو شاعر ،مصنف اور فارسی کے ادیب تھے، آپ کا سلسلۂ پدری سبط اکبر امام حسن علیہ وعلی آباءه السلام پر منتہی ہوتا ہے، آپکا خاندان بھارت کامشہور ...

مشہور ملی و سماجی شخصیت الحاج محمد عرفان صدیقی لکھنوی نے داعی اجل کو لبیک کہا

  مرحوم الحاج عرفان صدیقی رح   مشہور ملی و سماجی شخصیت الحاج محمد عرفان صدیقی لکھنوی نے داعی اجل کو لبیک کہا از قلم:مولانا مسعود عالم ندوی       الحاج محمد عرفان صدیقی لکھنوی (ناظم: جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات لکھنؤ و جنرل سیکرٹری: الفلاح ایجوکیشنل سوسائٹی، لکھنؤ) کا ایک ماہ کی شديد علالت کے بعد گذشتہ شب اسپتال میں انتقال ہوگیا. إنا لله وإنا إليه راجعون.     مرحوم جامعۃ المومنات الاسلامیہ دوبگا لکھنؤ کے بانی مولانا محمد رضوان ندوی مرحوم کے بڑے بھائی اور ان کی علمی تحریک کے دست راست تھے، دار العلوم ندوۃ العلماء کے پرجوش حامی، حضرت مفکر اسلام مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی (صدر: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) کے بڑے عقیدت مند اور متعدد ملکی و عالمی اسفار: ترکی، برطانیہ اور سعودی عرب وغیرہ میں ان کے ساتھ تھے.     تجارت سے وابستہ الحاج عرفان صدیقی مرحوم کی ولادت 1953میں محمود نگر- چوک- لکھنؤ کے ایک معروف صدیقی گھرانہ میں ہوئی، بنیادی تعلیم کے بعد اپنے والد الحاج محمد عثمان صدیقی مرحوم کے ساتھ ک...
 کتابوں سے عشق کی آخری صدی!  از قلم: حسان الدین سنبھلی    کتاب افکاروخیالات کا وہ خوبصورت جزیرہ ہے، کہ چاروں طرف پھیلا پانی بھی جس کو موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہے ۔    کتاب الفاظ ومعانی کا وہ ہمالہ ہے کہ جس کی پیشانی کو جھک کر آسماں بھی چومتا ہے اور کتاب ہی مثبت سوچ کا وہ باغ ہے کہ جس کی گودی میں ہزاروں خوبصورت ندیاں کھیلتی رہتی ہیں ۔   کتاب سے عشق کا پہلا بیج خالقِ کائنات نے دنیائے انسانی میں " اقرأ وربك الأكرم " کے ذریعہ بویا تھا، جس سے فکر ونظر کے نئے پھل پھول اگے، نئ نئ تحقیقات کے لہلہاتے باغ تیار ہوے، نئ نئ ٹیکنالوجیز کے وہ چمن مہکے ،جس نے پوری کائنات کو اپنی خوشبو سے معطر کردیا،     اسی کتاب سے عشق نے انسان کی سوچ کو بلند فکری اور بلند پروازی کی وہ روشنی عطا کی کہ جس کے سہارے آج وہ مریخ پر کمندیں ڈال رہا ہے، چاند کی زمین پراپنا محل قائم کیے ہوے ہے ، ظاہر ہے کہ اسی کتاب میں مذکور خیال کی طاقت نے انسان کو زمین سے آسمان میں اڑادیا، وہاں کی فضاوں میں جینا سکھادیا، وہاں کی زلفوں میں آباد کردیا ۔۔    اب کتابوں سے عشق کی یہ آخ...