نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

علامہ حکیم سید عبد الحی حسنی (سابق ناظم ندوۃ العلماء)


علامہ حکیم سید عبد الحی حسنی

       (سابق ناظم ندوۃ العلماء)




 ⁦⁩⁦🖋️⁩کامران اشرف ندوی

    انیسویں صدی عیسوی کے ایک قابل فخر مؤرخ،محقق، اور ادیب حکیم سید عبد الحی الحسنی ہیں، جن کا نام اسلامیان ہند کی تاریخ رقم کرنے والوں میں سب سے زیادہ روشن اور نمایاں ہے، آپ نے نزهة الخواطر(الإعلام بمن في تاريخ الهند من الأعلام) الثقافة الإسلامية في الهند،اورالهند في العهد الاسلامي، جیسی معرکۃ الآراء کتابیں لکھ کر بھارت کی اسلامی تاریخ محفوظ کردی، ان عربی تصنیفات اور علمی کارناموں سے ہندوستان کا تعارف عالم اسلام میں کرایا اور وہاں کے علماء اور محققین سے خراج تحسین حاصل کر کے اس ملک کے نام اور وقار میں زبردست اضافہ کیا، 

آپ کی ولادت 18 رمضان المبارک 1286مطابق 22 دسمبر1869دائرہ حضر شاہ علم اللہ شہر رائے بریلی میں ہوئی، آپ کا نام سید احمد رکھا گیا، لیکن مشہور عبدالحی کے نام سے ہوئے، آپ کے والد ماجد کا نام حکیم سید فخرالدین تھا ،جو شاعر ،مصنف اور فارسی کے ادیب تھے، آپ کا سلسلۂ پدری سبط اکبر امام حسن علیہ وعلی آباءه السلام پر منتہی ہوتا ہے، آپکا خاندان بھارت کامشہور حسںنی خاندان ہے، جس میں بڑے بڑے مشائخ،علماء،صلحاء،مجاھدپیداہوے، جن میں گیارہویں صدی ہجری کے جلیل القدر عارف،شیخ وقت حضرت علم اللہ جو حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی کے خلیفہ ہیں، اور تیرہویں صدی کے مشہور مجاہد،مصلح، مجدد، حضرت سید احمد شہید خاص طور پر ناموراور مشہور ہیں، جس کی اصلاحی اور روحانی تحریک نے بھارت کے مسلمانوں کے اندر ایک روحانی اسپرٹ پیدا کردی، اور بھارت کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ،اسی مشہور حسنی خاندان سے مشہور داعی، مبلغ،مفکر اور ادیب حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ہیں، جنہوں نے اپنی زبان و قلم اور تحریک کے ذریعے عرب و عجم کے علمی اور سیاسی حلقوں میں اسلام کی ترجمانی کی، جو علامہ ہی کے قابل فخر سپوت ہیں،

آپ نے ابتدائی تعلیم رائے بریلی میں حاصل کی ،جہاں آپ نے فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھی، پھر آپ الہ آباد تشریف لے گئے ،اور تقریبا دو سال رہ کر مولانا محمد حسین الہ آبادی اور دوسرے علماء سے تعلیم حاصل کرتے رہے، پھر آپ لکھنؤتشریف لائے ،جہاں آپ نے اپنے وقت کےماہر علماء سے درس لیا، آپ نے ادب شیخ محمد عرب، اور حدیث مولانا شیخ حسین بن محسن الیمانی سے پڑھی، جن کاتبحرعلم حدیث میں چرچا تھا،آپ نے بیعت وارشاد کا تعلق حضرت مولانا فضل رحمان گنج مرادآبادی سے کیا،آپ نے طب کی بھی تعلیم حاصل کی،طب کی تعلیم سے ابھی فراغت ہی ہوی تھی کہ ندوۃ العلماء کا قیام عمل میں آیا تو اس کے مقاصد و عزائم سے خاصی مناسبت ہو گئی، جس کی وجہ سے آپ ان کے جلسوں میں بھی شرکت کرنے لگے، اور بلا پس و پیش اس تحریک میں شامل ہو گئے،آپکی دلچسپی تحریک ندوۃ العلماء سے بڑھتی جا رہی تھی، اورآپ اس کے کاموں میں بڑے ذوق شوق سے حصہ لے رہے تھے، بانی ندوۃ العلماء مولانا سید محمد علی مونگیری اور ان کے مؤقر رفقاء کو جلد ہی مولانا کی خداداد صلاحیتوں کا اندازہ ہو گیا، اور انہوں نے 8 رجب 1313ھ مطابق دسمبر 1895 چہارشنبہ کے جلسے انتظامیہ میں مولانا کو مددگار ناظم منتخب کر لیا، آپ مددگار ناظم کی حیثیت سے کام کرتے رہے، بالآخر آپ کے خلوص و استقلال ،معاملہ فہمی ،دوراندیشی کو دیکھ کر 13 اپریل 1915 میں مجلس انتظامیہ نے باتفاق رائےآپکو ناظم ندوۃ العلماء منتخب کرلیا، اور اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک اس منصب پر سرفراز رہے، آپ کی نظامت میں ندوۃ العلماء ترقی کرتا رہا،آپ نےاپنی تمام تر توانائیاں ندوۃ العلماء کی خدمت میں صرف کر دی،

ایسے تو مولانا کے تمام ہی کارنامے قابل ستائش اور قابل عمل ہیں، لیکن ان میں بھی سب سے زیادہ لازوال آپ کا تصنیفی کارنامہ ہے، ان کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا، آپ نے نزهة الخواطر (الإعلام بمن في تاريخ الهند من الأعلام) جیسی شاہکار تاریخی کتاب لکھ کر دراصل وہ فرض یا قرض ادا کردیا، جو صدیوں سے بھارت کے اہل علم وقلم‌پر چلا آ رہا تھا، تنہا انہوں نے خاموشی سے وہ کام کیا جو مغربی ممالک میں پورے ادارے یا یونیورسٹیاں انجام دیتی ہیں، اس کی جامعیت اور مکانی و زمانی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ، اس میں پہلی صدی ہجری میں بھارت آنے والے صحابہ و تابعین اور مبلغین سے لے کر چودہویں صدی ہجری ہجری کے نصف تک کے ساڑھے چار ہزار سے زائد اہل علم و فضل و کمال کا تذکرہ ہے،یہ کتاب آٹھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے، یہ ایک ایسا قابل اعتماد انسائیکلوپیڈیا ہے، جس کی نظیر تاریخ کے عصری کتب خانوں میں بھی مشکل سے ملے گی،اسی کتاب کی وجہ سے آپکو خلکان الہند بھی کہا جاتا ہے،آپکی دوسری عربی کتاب الهند في العهد الإسلامي ہے ، یہ کتاب تین فنون پر مشتمل ہے ،فن اول میں قدیم وجدید، تاریخی، مذہبی، اور تمدنی حیثیت سے بھارت پر نظر ڈالی گئ ہے، جبکہ دوسرے میں مسلمانوں کے عہد کی تاریخ مجتہدانہ حیثیت سے لکھی گئی ہے ،فن ثالث بالکل نئی چیز ہے ،شاہان اسلام کے عہد کا تمدن وطرز معاشرت،اور انکے ہر عہد کے رسوم اور معاشرت کی تبدیلیاں، اور طریقہ حکمرانی پر غایت استقصاء کے ساتھ بحث کی گئی ہے، عربی میں تیسری کتاب الثقافۃ الاسلامیۃ فی الہند کے نام سے ہے ،یہ اپنے موضوع پر منفرد کتاب ہے، اس میں ہندوستان میں تعلیم و تعلم کی تاریخ، نصاب درس کا جائزہ،اور اسکی عہد بعہد تبدیلیوں کی روداد ،اور بھارت کے ہزار سالہ اسلامی عہد کے ہر فن، صرف،نحو ،لغت،بلاغت، تفسیر ،حدیث،فقہ ،فرائض، اسماء الرجال، فلسفہ،منطق،ریاضی،ہندسہ ، علم موسیقی وغیرہ پر مکمل مفصل جائزہ لیا گیا ہے، ،ان کے علاوہ بھی آپ نے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں، جن میں جنت المشرق، معارف العوارف، تہذیب الاخلاق، گل رعنا، یاد ایام ہیں، ان کے علاوہ اردو عربی حدیث شریف پر متعدد کتابیں اور اصلاحی کتابچہ ہیں،

آپ کو اردو فارسی عربی ادب میں کافی مہارت تھی ،عربی کے متعدد صاحب نظر ادباءآپ کی عربیت اور حسن تحریر کے قائل تھے، اسی طرح اردو تحریر بھی آپ کی متانت وحلاوت کی لطیف آمیزش سے اور علمی سنجیدگی اور زبان و بیان سے پر ہوتی تھی، 

بالآخر یہ سورج بھی 54 سال کی عمر پا کر 15جمادی الآخر1341ھ مطابق 2فروری 1923کو جمعہ اور شنبہ کے درنیانی شب میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے،اناللہ وانا الیہ راجعون،

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے



-:مراجع ومصادر:-

١۔حیات عبد الحی،مؤلفہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی،

٢۔یاد ایام ،مؤلفہ علامہ حکیم سید عبد الحی،

٣۔اسلامی ثقافت اور ندوۃ العلماء،مؤلفہ حضرت مولانا ڈاکٹر سعیدالرحمان اعظمی ندوی،مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء،


تبصرے

  1. ما شاء اللہ۔
    بہت عمدہ اور معلوماتی مضمون۔
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. شکریہ، آپ اپنے تحقیقی و تجزیاتی مضامین و مقالات بھی ارسال کر سکتے ہیں۔

      ہمیں ایسے مقالات ومضامین شائع کرنے میں خوشی ہوگی۔

      حذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...