✍️: شکیل منصور القاسمی انسانی سماج کی رہنمائی اور اس کے روز مرہ مختلف النوع وہمہ جہت پیش آمدہ مسائل ، حاجات ، ضروریات وتقاضے کے حل کی بنیاد “انسانی خواہشات وترجیحات “ ظن وگمان یا عقل ودانش “ نہیں ؛ بلکہ “آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی “ ہے ۔ انسانی معاشرے میں احکام الٰہی کی تعمیل ، ترویج ، تنفیذ، عمل داری، نظام خداوندی (وسیع تر معنی ومفہوم میں ) کی سربلندی کے لئے اللہ سبحانہ وتعالی نے لاکھوں انبیاء ومرسلین کی بعثت کا سلسلہ شروع فرمایا ، انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد توحید خالص کی اشاعت ، قیام امن ، نفاذ عدل ، جبر استبداد ، ظلم وتعدی کا خاتمہ اور اقامتِ حق تھا ، جب سے انبیاء کی دعوت شروع ہوئی تب سے اس کے بالمقابل طاغوتی کوششیں بھی نبرد آزما اور بر سر پیکار رہیں ، آدم علیہ السلام کے ساتھ ابلیس ، ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ نمرود ، طالوت کے ساتھ جالوت ، موسی علیہ السلام کے ساتھ فرعون اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو جہل اور اس کے حواری موالی کا تصادم بتاتا ہے کہ حق وباطل ، عدل وجبر ، امن وتشدد، سلم وحرب کی باہمی کشمکش ، تصادم اور محاذ ومقابلہ آرائی ابتدائے آفرینش ...
دار البحث والاعلام، لکھنؤ کا علمی، ادبی و صحافتی ترجمان