نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دسمبر, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

علامہ یوسف قرضاویؒ: حیات و خدمات

🖋:عطاء الرحمن رحیمی ڈاکٹر علامہ یوسف القرضاوی ایک نامور اور ممتاز انقلابی شخصیت، بے باک خطیب، باکمال شاعر، مشہور فقیہ، معروف مصنف و محقق، عظیم داعی، نامور قائد و رہنما، ممتاز عالم دین، فقہ وفتاویٰ میں بصیرت و مہارت اور خصوصی دسترس رکھنے والے، اور مجتہدانہ صلاحیت کے حامل تھے۔ ولادت : علامہ یوسف قرضاوی ؒکی پیدائش 9 ستمبر 1926ء کو مصر کے محافظہ غربیہ کے مرکز المحلہ الکبری کے ایک گاؤں "صفط تراب" میں ہوئی۔ تعلیم و تربیت : علامہ یوسف قرضاوی دو برس کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال  ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے چچا کے یہاں پرورش پائی۔ ان کے خاندان والے انہیں دکان دار یا بڑھئی بنانا چاہتے تھے۔ تاہم وہ اس دوران  قرآن مجید حفظ کرتے رہے اور نو برس کی عمر میں مکمل قرآن حفظ کر لیا۔ 👈    1944ء سے 1973ء تک جامعہ ازہر قاہرہ میں اعلی تعلیم حاصل کی اور ہمیشہ اپنے کلاس میں اول آتے رہے۔ 👈    1953ء میں چھبیس سال کی عمر میں عالمیت کی ڈگری حاصل کی۔ 👈    1958ء میں اکتیس سال کی عمر میں تخصص فی اللغۃ والادب میں گریجویشن مکمل ک...

قواعدِ فقہیہ مسائل حل کرنے کی شاہ کلید: مفتی محمد عالمگیر ندوی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی اڑتیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 10/ 21 مطابق 24/ ربیع الأول 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان: میرا انتخاب، میری تخلیق میری تخلیق، میرا انتخاب کی اڑتیسویں نشست کا آغاز مرزا فرحان بیگ کی تلاوت سے ہوا ۔ مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "مطالعۂ سیرت: وقت کی ضرورت" کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: علوم و فنون کی صف میں سیرت (Biography) کا ایک خاص درجہ ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کی سوانح حیات بھی حقیقت شناسی، عبرت پذیری اور تدبیر منزل کے لیے دلیل راہ ہوتی ہے۔ چہ جائیکہ وہ ایک تاریخ ساز، ایک انسان ساز، ایک قائد تمدن اور ایک انسان عظیم یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک ہو۔ سیرت کے مطالعہ سے جہاں انسانوں کے اندر آپ(صلی اللہ علیہ وس...

ترقی کا سفر منزل بہ منزل ہی طے ہوتا ہے: قمر الزماں ندوی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی چھتیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 7/اکتوبر 2022 مطابق 10/ ربیع الأول 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان: میرا انتخاب، میری تخلیق میری تخلیق، میرا انتخاب کی چھتیسویں نشست کا آغاز شیخ عبداللہ کی تلاوت سے ہوا۔ مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "ماہر القادری کے تبصرے" سے اردو کے مشہور تذکرہ نگار طالب ہاشمی کی دو تاریخی کتب کا تعارف کرایا۔ (١) الملک الظاہر بیبرس، یہ کتاب الملک الظاہر بیبرس بندقداری (سلطان العادل رکن الدین محمود) کی سوانحی عمری ہے، جس کو فاضل مصنف نے بڑی محنت و عرق ریزی کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ الملک الظاہر بیبرس ملت اسلامیہ کا بطل جلیل تھا۔ منصورہ اور عین جالوت کے معرکوں میں صلیبیوں، تاتاریوں کی شکست اور مسلمانوں کی فتح مندی کا سہرا اسی جواں مرد قائد ...

محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکمل تمدنی اصلاح اور انسانیت کی تعمیر نو کی تحریک چلانے آئے تھے: نعیم صدیقی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی سینتیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 10/ 14 مطابق 17/ ربیع الاول 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ واسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان: میرا انتخاب، میری تخلیق میری تخلیق، میرا انتخاب کی  سینتیسویں نشست کا آغاز محمد عزیز کی تلاوت سے ہوا۔ مرزا ریحان بیگ( سکریٹری:  اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "محسن انسانیت ﷺ " از نعیم صدیقی سے  "اصلاح تمدن کےلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نصب العین" کے عنوان پر اپنا انتخاب پیش کیا، جس میں فاضل مصنف نے حضور ﷺ کے پیش نظر تبدیلی کے دائرہ کار اور کام کے پیمانہ کو عمدہ انداز میں واضح کیا ہے۔ صدیقی صاحب لکھتے ہیں: "سیرت سے صحیح استفادہ کرنے کےلئے اس اہم پہلو کو ضرور سامنے رکھنا چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمدنی نظام میں کوئی جزوی اصلاح چاہتے تھے یا ہمہ گیر؟ دعوت مذہبی و اخ...