(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی چھتیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)
دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 7/اکتوبر 2022 مطابق 10/ ربیع الأول 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
میرا انتخاب، میری تخلیق
میری تخلیق، میرا انتخاب
کی چھتیسویں نشست کا آغاز شیخ عبداللہ کی تلاوت سے ہوا۔ مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "ماہر القادری کے تبصرے" سے اردو کے مشہور تذکرہ نگار طالب ہاشمی کی دو تاریخی کتب کا تعارف کرایا۔ (١) الملک الظاہر بیبرس، یہ کتاب الملک الظاہر بیبرس بندقداری (سلطان العادل رکن الدین محمود) کی سوانحی عمری ہے، جس کو فاضل مصنف نے بڑی محنت و عرق ریزی کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ الملک الظاہر بیبرس ملت اسلامیہ کا بطل جلیل تھا۔ منصورہ اور عین جالوت کے معرکوں میں صلیبیوں، تاتاریوں کی شکست اور مسلمانوں کی فتح مندی کا سہرا اسی جواں مرد قائد کے سر جاتا ہے۔ اس کی زندگی کا آغاز ایک غلام کی حیثیت سے ہوا مگر اپنی محنت، قوت بازو اور اعلی اخلاق کی بدولت حکومت مصر کے تخت و تاج کا مالک و مختار بن گیا۔ بیبرس کے کارنامے ہماری تاریخ کے قابل ذکر اور قابل فخر کارنامے ہیں۔ بیبرس نے باطنیوں کا استیصال کرکے دین کی بہت بڑی خدمت انجام دی، اسی عادل، مجاہد و غازی اور دیندار فرمانروا کی زندگی کے حالات "جناب طالب ہاشمی" نے جمع کئے ہیں اور تذکرہ نگاری کا حق ادا کر دیا ہے۔ طالب صاحب زبان کی نزاکتوں کا خیال رکھتے ہیں، انداز بیاں خاصا اثر انگیز ہے۔
(٢) ملک شاہ سلجوقی: یہ کتاب خاندان سلجوق کے "گل سرسبد" جلال الدولہ ابو الفتح ملک شاہ کی سوانح حیات ہے۔ فاضل مصنف نے تاریخی واقعات کے ذخائر کو بڑے سلیقے سے مرتّب وملخّص کیا ہے اور اپنی امکانی کوشش کی حد تک واقعات بیان کرنے میں صحت کا خیال رکھا ہے۔ اس کتاب میں ملک شاہ سلجوقی کی سیرت و کردار اور حکمرانی کی جو تفصیل بیان کی ہے وہ پڑھنے والے کو خاصا متاثر کرتی ہے۔ یہ دونوں کتابیں تاریخ و تذکرہ کی بلند پایہ کتابیں ہیں۔ ان کے پڑھنے سے نہ صرف یہ کہ معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ذہن و فکر کی دینی اور اخلاقی خطوط پر تربیت میں بھی بڑی حد تک مدد ملتی ہے۔
محمد مرغوب الرحمٰن ندوی (جنرل: سیکرٹری اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے قطر کے مفتی اعظم احمد بن حجر آل بوطامیؒ کی کتاب "الجمعة و مكانتها في الدين" سے جمعہ کی ترغیب و ترہیب پر منتخب حدیثیں پیش کیں۔ محمد حارث نے محمد علی الصابونی کی مشہور تفسیر "صفوة التفاسير" سے سورة النبأ اور سورة التكاثر کی آیات کا عربی ترجمہ پیش کیا۔ حسان عمر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کے مضامین و تقاریر کے مجموعہ "اصلاحیات" سے "مسلمانوں پر ایک نظر اور قلب پر تین اثر" کے عنوان سے اپنا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا: "مسرت اس کی کہ ایک وقت تھا کہ روئے زمین پر کلمہ گو انگلیوں پر گنے جاتے تھے، یہ وہ تھے جو ساری دنیا کی اصلاح کو نکلے تھے اور پوری امت کہلاتے تھے اور حیرت اس بات پر کہ ان شتر بانوں اور خانہ بدوشوں کی کیا کایا پلٹ ہوئی کہ پلک جھپکتے میں شتربان سے جہاں بان بن گئے الحمد للہ، پھر دیکھتے دیکھتے ایسی کایا پلٹ ہوئی کہ جہاں سے چلے تھے اس سے بھی پیچھے ہٹ گئے"۔
عبدالقادر محبوب (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے اپنے انگریزی مضمون "The importance of dawah in islam" پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "دعوت دین ایک عظیم مشن ہے، اس میں اللہ کی وحدانیت کی دعوت کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں کی دعوت شامل ہوتی ہے جس کی طرف کتاب الہی اور سنت نبوی بلاتی ہے ۔ یہ عظیم کام نبی کے ذمے فرض گیا تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ ذمہ داری تمام امت مسلمہ پر ہے کہ وہ لوگوں تک خدا اور اس کے رسول کا پیغام پہنچائیں اور ان کی نجات کا ذریعہ بنیں"۔
محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم العالی کی تصنیف "علوم القرآن" سے "نظم قرآن کے اعجاز" پر اپنا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "قرآن کریم کا ایک دقیق اعجاز اس کی آیات کے باہمی ربط و تعلق اور نظم و ترتیب میں ہے، اس کی سب سے واضح دلیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ترتیب نزول اور ترتیب کتابت میں فرق ملحوظ رکھنا ہے، البتہ یہ ربط قدرے دقیق ہے اور اس تک پہنچنے کے لئے بڑے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ بہت سے علماء نے قرآن کریم کے نظم کی توضیح کے لئے مستقل کتابیں لکھی ہیں اور بعض مفسرین نے اپنی تفسیر کے ضمن میں اس کو بیان کرنے کا خاص اہتمام کیا ہے، اس معاملے میں تفسیرِ کبیر کے مفسر امام فخر الدین رازی اور قاضی ابو السعود کو اللہ تعالیٰ نے نظم قرآن کی تشریح کا خاص سلیقہ اور توفیق عطا فرمائی تھی۔ بعد کے بیشتر مفسرین اس سلسلے میں انھیں دونوں کے خوشہ چیں ہیں"۔
شیخ عبداللہ (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مشہور داعئ اسلام، لیکچرر دکتور ایاد قنیبی کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی ایک ویڈیو کلپ پیش کی۔ ایاد عبد الحفیظ قنیبی ایک اردنی ماہر تعلیم اور مبلغ اسلام ہیں، آپ کے پاس فارماکولوجی، کلینکل فارماکولوجی اور فارما کوکونٹس میں تدریس وتحقیق کا بڑا طویل و عمیق تجربہ ہے۔ آپ فی الحال جیرش یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں، انھیں خدمات کی وجہ سے آپ کو اپلائیڈ سائنس پرائویٹ یونیورسٹی کی جانب سے بہترین محقق ہونے کا اعزاز نوازا گیا۔ ان سب کے علاوہ آپ اپنی تحریر و تقریر کے ذریعہ ابھرتے موضوعات پر معتدل اسلامی رائے پیش کرنے کے لئے بھی مشہور ہیں۔ مسلم طلبہ کا اسلام پر اعتماد بحال کرانے میں آپ کا بہت اہم رول ہے۔
محمد شہنواز (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے غبار خاطر از مولانا ابوالکلام آزاد کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "یہ حقیقت ہے کہ غبار خاطر مولانا آزاد کے خطوط کا نہ صرف خوبصورت اور دلنشیں مجموعہ ہے بلکہ اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے، جس میں مولانا آزاد نے فطرت کے نظاروں سے اپنی دلچسپی، جیل میں پودوں کی کیاریوں کی دیکھ بھال، دنیا کے تاریخی واقعات، ہندوستان کی سیاست، مسلمانوں کے مسائل، صلیبی جنگوں کی تفصیلات اور دیگر واقعات پیش کئے ہیں۔ مولانا آزاد کی نثر کی یہ خوبی ہے کہ اس میں جابجا اشعار کی مدد لی گئی ہے۔ عربی اور فارسی کا استعمال کیا گیا ہے۔ شاعرانہ جملے اورفلسفیانہ خیالات بیان کئے گئے ہیں، جن کی وجہ سے مولانا آزاد کے یہ مکاتیب اردو انشائیوں کا رنگ اختیار کر گئے ہیں اور آج بھی اردو کا عطر سمجھے جاتے ہیں"۔
جناب مولانا مسعود عالم ندوی ( ڈائریکٹر: دار البحث والاعلام، لکھنؤ) کی نیابت کرتے ہوئے نشست کی صدارت کر رہے قمر الزماں ندوی (ڈائریکٹر: اپنا کتاب ہاؤس، لکھنؤ ورفیق علمی دار البحث والاعلام، لکھنؤ) نے فرمایا کہ: "ماشاء اللہ! خوشی کی بات ہے کہ آپ بتدریج محنت کررہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں، ترقی کا سفر بتدریج اور منزل بہ منزل ہی طے ہوتا ہے، اسی طرح آپ اپنا سفر جاری رکھیں اور اس علمی، ادبی، فکری، تربیتی اور ابلاغی نشست کو تقویت بخشتے رہیں اور خود بھی مضبوط ہوتے رہیں"۔ مزید صدر محترم نے ماہ ربیع الاول اور ولادت نبوی کی مناسبت سے سیرت کی مشہور کتابوں کے مطالعے کی تاکید کی، ان میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں: (١) سیرت النبی از علامہ شبلی نعمانی و سید سلیمان ندوی (٢) خطبات مدراس از سید سلیمان ندوی (٣) محاضرات سیرت از ڈاکٹر محمود احمد غازی (٤) در یتیم از ماہر القادری (٥) النبی الخاتم از مولانا مناظر احسن گیلانی (٦) رحمۃ للعالمین از قاضی محمد سلیمان منصور پوری۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نشست میں صدر محترم کے ساتھ قیام الحق بھوپالی بطور مہمان خصوصی موجود تھے، صدر محترم نے مہمان نوازی کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے اللقاء الثقافی، لکھنؤ، اس کے بانی و صدر جناب مولانا مسعود عالم صاحب ندوی زید مجدہ السامی اور ان سے وابستہ ممتاز افراد اور اداروں کا مختصر تعارف بھی پیش کیا۔
محمد نور القمر ندوی (معاون جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنو) نے مؤرخہ 30/ ستمبر 2022 جمعہ کو منعقدہ نشست کی مختصر روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی۔ اس موقع پر محمد راشد، عاقب سہراب اور عبداللہ مجاہد بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت محمد شہنواز نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔
دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: مرزا ریحان بیگ
(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)
07/10/2022
.png)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں