سی-اے-اے- ، این- آر- سی کے خلاف احتجاج کا ایک منظر، گھنٹہ گھر لکھنؤ الیاس نعمانی گزشتہ دو چار روز میں کئی برادران کی زبان سے اس طرح کے جملے سننے کو ملے کہ کیا ان احتجاجوں کا کچھ فائدہ بھی ہورہا ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کے ذہن میں اس احتجاجی تحریک کی کامیابیاں نہیں ہیں اس لیے وہ مایوس ہورہے ہیں، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس تحریک کی کچھ اہم کامیابیوں کا تذکرہ کیا جائے تاکہ حوصلہ قائم رہے: 1. ہم سب جانتے ہیں کہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر میں ہمارے لیے اصل خطرناک این آر سی ہے، این پی آر اس لیے خطرناک ہے کہ وہ اس کا زینہ ہے، اور سی اے اے اس لیے خطرناک ہے کہ وہ این آر سی کے اثرات کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرتا ہے، یعنی اس مثلث میں اصل خطرناک این آر سی ہی ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ چند ماہ پہلے تک مرکزی حکومت، اور حکمراں پارٹی بالخصوص وزیر داخلہ چیخ چیخ کر کہتے تھے کہ این آر سی جلد ہی ہوگا، اور چن چن کر "گھسپیٹھیوں" کو نکالا جائے گا، کئی انتخابی ریلیوں میں یہ بات نہایت بدترین حاکمانہ لہجہ میں بھی کہی گئی، جس کے ویڈیو کلپس وائرل بھی ہوئے، لیکن اس احتجاجی تحر...
دار البحث والاعلام، لکھنؤ کا علمی، ادبی و صحافتی ترجمان