نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

جنت کی قیمت

 جنت کی قیمت

جنت کی قیمت
جنت کی قیمت

از قلم: مولانا وحید الدین خان

جنت خدا کی بنائی ہوئی ایک انوکھی دنیا ہے۔ جنت میں اعلیٰ معیار کی حد تک ہر قسم کی راحت اور خوشی موجود ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کو ہرقسم کا فُل فِل مینٹ(fulfillment) ہمیشہ کے لیے حاصل ہوگا (حٰمٓ السجدۃ: 31 )۔

جنت کی یہ انوکھی دنیا کس کو ملے گی۔ جنت کی یہ دنیا موت کے بعد کی ابدی زندگی میںاس عورت یا مرد کو ملے گی جو اس کی قیمت ادا کرے۔ جنت اُس کے لیے ہے جو حقیقی معنوں میں ربانی انسان یا خدا والا انسان بن جائے، جو بظاہر خدا سے دور ہوتے ہوئے معرفت کی سطح پر خدا سے قریب ہوجائے۔ جنت خدا کے پڑوس کا نام ہے۔ آخرت کی دنیا میں خدا کا پڑوس صرف اُس شخص کو ملے گا جو آخرت سے پہلے کی دنیا میں خدا کے پڑوس میںجینے لگے۔

انسان اپنے آپ کو پیدا کئے جانے کی صورت میں دیکھتا ہے، خدا کو اُسے لم یلد ولم یولد کی صورت میں دریافت (discover) کرنا ہے۔ موجودہ دنیامیں انسان دیکھ کر چیزوں کے اوپر یقین کرتا ہے، خدا کے اوپر اس کو دیکھے بغیر یقین کرنا ہے۔ انسان مال اور اولاد جیسی چیزوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے، اس کو خدا کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا ہے، جب کہ وہ سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے لگے اور سب سے زیادہ خدا سے محبت کرنے لگے۔

انسان آج کی چیزوں میں جیتا ہے اور وہ آج کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے، جنت اُس انسان کے لیے ہے جو آج کی چیزوں سے اوپر اٹھ جائے اور صرف ایک خدا کو اپنا سپریم کنسرن بنالے۔ انسان کا یہ حال ہے کہ وہ بھر پور دل چسپی کا تعلق اپنے لوگوں سے رکھتا ہے اور خدا کے ساتھ اس کا تعلق صرف رسمی اور ظاہری سطح پر ہوتا ہے، ایسے لوگوں کو جنت میں داخلہ ملنے والا نہیں۔ جنت میں داخلہ صرف وہ لوگ پائیں گے جن کا حال یہ ہوجائے کہ خدا کے سوا دوسری تمام چیزوں سے ان کا تعلق صرف دنیوی ضرورت کے طورپر ہو اور دل چسپی اور قلبی لگاؤ کے اعتبار سے ان کا تعلق تمام تر خدا سے ہوجائے۔

(الرسالہ نومبر2008)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...