قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔
ضرورتوں کی اقسام
انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں:
1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔
2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔
3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:
"إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ"
(بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں)
زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان
والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا درجہ دے دیتا ہے۔ یہی زیادہ دولت کمانے کا سب سے بڑا نقصان ہے کہ انسان قناعت سے دور اور فضول خرچی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اصل کامیابی
انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کو راضی کر لے۔ لیکن جو شخص قناعت پسند نہیں ہوتا، وہ دنیا کی رنگینیوں اور خواہشات میں ایسا الجھتا ہے کہ رب کو راضی کرنے کے اصل مقصد سے غافل ہو جاتا ہے۔
سنہرا اصول
ان کے مطابق زندگی گزارنے کا سنہرا اصول یہ ہے کہ:
بنیادی ضرورت پر قناعت کی جائے۔
اگر ممکن نہ ہو تو ضرورت پوری کرکے قناعت اختیار کی جائے۔
خواہشات کی پیروی میں جانا سراسر نقصان دہ ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ سے مثال
انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی ایک مثال دی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سونے کا پہاڑ ہدیہ میں دینے کی پیشکش فرمائی، لیکن آپ ﷺ نے قبول نہیں کیا۔ اس لیے نہیں کہ یہ ناجائز تھا، بلکہ اس وجہ سے کہ ضرورت سے زیادہ مال انسان کو فضول خرچی اور اصل مقصد سے غفلت کی طرف لے جاتا ہے۔
نتیجہ
آخر میں انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اپنی زندگی کے اصل مقصد پر توجہ کرنی چاہیے، جو کہ اللہ رب العزت کو راضی کرنا ہے۔ روزی تو مقدر کے مطابق کسی نہ کسی شکل میں انسان تک پہنچ ہی جاتی ہے، لیکن خواہشات کے پیچھے دوڑنے والا شخص اپنے آپ کو خسارے میں ڈال لیتا ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں