بقلم:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ، برطانيه ميں نے چند روز پہلے تعليم الاسلام پر ايكـ مضمون لكها تها جس ميں عرض كيا گيا تها كه نصاب كے نقطۂ نظر سے يه كتاب كمزور ہے، اس پر چند دوستوں كى جانب سے تقاضا ہوا كه ايكـ مضمون ان كتابوں كے متعلق بهى لكهوں جو بچوں كے لئے مفيد ہيں. اردو زبان ميں بچوں كے نصاب پر بہت كام ہوا ہے، وه سب ميرے سامنے نہيں ہے، اس لئے ان پر رائے زنى ميرے لئے مشكل ہے، اور جب متعدد نصاب ہوں تو كسى ايكـ كا انتخاب اتنا آسان نہيں، اور انتخاب كے لئے مكتبوں اور مدرسوں كى ترجيحات كے وجوه مختلف ہوتے ہيں، بر صغير ميں فرقه واريت اس قدر زياده ہے كه كوئى جماعت دوسروں كا تيار كرده نصاب ہرگز قبول نہيں كرے گى خواه وه نصاب كتنا ہى كامياب اور ترقى يافته كيوں نه ہو۔ مندرجه بالا دشوارى كو ديكهتے ہوئے لائق نصاب كتابوں كا ذكر مناسب نہيں معلوم ہوتا، بلكه ميں يه مشوره دوں گا كه ماہرين تعليم نے نصاب كے لئے جو اصول بتائے ہيں انہيں سمجها جائے اور كتابوں كى تعيين ميں ان كى رعايت كى جائے، يہاں صرف ايكـ اصولى بات پر اكتفا كروں گا۔ اور وه اصولى بات يه ہے كه نصاب تعليم لسٹ بنانے كا نام نہيں، بچوں كے ...
دار البحث والاعلام، لکھنؤ کا علمی، ادبی و صحافتی ترجمان