نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فقہی اختلافات کے سلسلے میں صحابه کرام کا اسوہ

  فقہی اختلافات کے سلسلے میں صحابه کرام کا اسوہ ✍️: احمد الياس نعمانى فقہی فروعیات میں اہل علم کے درمیان اختلاف کوئی نئی بات نہیں، یہ صحابہ کرام کے عہد سے پائے جاتے ہیں، لیکن جو چیز بعد کی ”مُحدَث“ ہے، وہ ہے اپنی فقہی آراءپر اصرار اور دوسروں کو تمام فروعیات وکلیات میں اپنے ہم رائے کرنے کی کوشش کرنا۔ یہ اختلاف اگر علمی حدود کے اندر ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن اگر اس میں اپنی رائے پر اصرار کا وہ رنگ آجائے جو افسوس کہ ہمارے یہاں روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے تو یقینا اس میں بڑا ”حرج“ ہے۔ بہت ہی افسوس ناک منظر ہوتا ہے جب ایک رائے کے حاملین اپنی رائے پر خود تو عمل کرتے ہی ہیں ساتھ ہی دوسری رائے کے حاملین سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان کے ہی ہم رائے ہو جائیں ،اور اپنے اس مطالبہ میں خوش اسلوبی و بد اسلوبی کا بھی فرق نہیں کرتے، ہوتا یہ ہے کہ ایک فریق اپنی کسی فقہی رائے کے حق میں بڑی پر زور تقریر یںکرتا ہے یا تحریر یں باٹتا ہے، اپنی رائے کو اوفق بالکتاب والسنة ثابت کر کے دوسروں کی رائے کو غلط کہتا ہے، اس کے حاملین کا مذاق اڑاتا ہے، پھر دوسرا فریق بھی میدان میں آجاتا ہے اور پھر یہ سلسلہ ...

سال نو : جشنِ آئندگاں یا ماتمِ رفتگاں

 سال نو : جشنِ آئندگاں یا ماتمِ رفتگاں ✍️ :زید مشکور سال نو کی آمد پر سب سے پہلے اٹھنے والا سوال گزشتہ سال کے محاسبہ کا ہوتا ہے، کہ ہم نئے سال کا جشن تو منا رہے ہیں، مگر گزشتہ سال ہم نے کیا کھویا ہے ؟ اور کیا پایا ہے ؟  دراصل گزشتہ سال ٢٠٢٠ میں ہم نے پانے سے کہیں زیادہ کھویا ہے، اور بہت کچھ کھویا ہے، اگر سال ٢٠٢٠ کی ابتدا سے بات کی جائے، تو سال کی آمد کا جشن فائیو اسٹار ہوٹلوں کے بجائے شاہراہوں اور کھلے آسمانوں تلے ہونے والے احتجاجوں میں کیا گیا، کہ اس وقت ہمارے ملک ہندوستان کا ہر مہذب شہری  سنودھان کی حفاظت کے لئے  یک بعد دیگر مصائب سے جھوجھ رہا تھا، " سی اے اے اور این‌ آر سی"  کے اندھے قانون نے منافرت کی جو آگ لگائی تھی، اس سے سارا ہندوستان جھلس رہا تھا، لہذا ‌عجب سراسیمگی کے عالم میں سال نو کا جیسے تیسے بنا کسی تیاری کے استقبال کیا گیا۔ ابھی ٢٠٢٠ اپنے شروعاتی دور میں " این آر سی" اور "سی اے اے" کے احتجاجی طوفانوں کے  درمیاں ہچکولے ہی کھا رہا تھا، ابھی اس‌ نے تو مضبوطی سے اپنے قدم بھی نہیں جماۓ تھے، کہ عالمی مہاماری " کرونا وائرس " کے خطرہ کے ب...