نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سال نو : جشنِ آئندگاں یا ماتمِ رفتگاں


 سال نو : جشنِ آئندگاں یا ماتمِ رفتگاں


✍️ :زید مشکور


سال نو کی آمد پر سب سے پہلے اٹھنے والا سوال گزشتہ سال کے محاسبہ کا ہوتا ہے، کہ ہم نئے سال کا جشن تو منا رہے ہیں، مگر گزشتہ سال ہم نے کیا کھویا ہے ؟ اور کیا پایا ہے ؟ 


دراصل گزشتہ سال ٢٠٢٠ میں ہم نے پانے سے کہیں زیادہ کھویا ہے، اور بہت کچھ کھویا ہے، اگر سال ٢٠٢٠ کی ابتدا سے بات کی جائے، تو سال کی آمد کا جشن فائیو اسٹار ہوٹلوں کے بجائے شاہراہوں اور کھلے آسمانوں تلے ہونے والے احتجاجوں میں کیا گیا، کہ اس وقت ہمارے ملک ہندوستان کا ہر مہذب شہری  سنودھان کی حفاظت کے لئے  یک بعد دیگر مصائب سے جھوجھ رہا تھا، " سی اے اے اور این‌ آر سی"  کے اندھے قانون نے منافرت کی جو آگ لگائی تھی، اس سے سارا ہندوستان جھلس رہا تھا، لہذا ‌عجب سراسیمگی کے عالم میں سال نو کا جیسے تیسے بنا کسی تیاری کے استقبال کیا گیا۔



ابھی ٢٠٢٠ اپنے شروعاتی دور میں " این آر سی" اور "سی اے اے" کے احتجاجی طوفانوں کے  درمیاں ہچکولے ہی کھا رہا تھا، ابھی اس‌ نے تو مضبوطی سے اپنے قدم بھی نہیں جماۓ تھے، کہ عالمی مہاماری " کرونا وائرس " کے خطرہ کے بگل فضا میں گونج اٹھے، سنگین مصیبت کی گھنٹیاں بھارت میں بھی سنائی دینے لگیں، ہر طرف عجیب و غریب خوف و ہراس کا ماحول چھا گیا ، ہر جگہ سناٹا پھیل گیا ، شاہراہیں بالکل سنسان ہو گئیں، ایک دوسرے سے ملنا جلنا مکمّل مفقود ہو گیا، آپسی میل ملاپ پر پابندی عائد کرکے مناسب دوری بناۓ رکھنے کو عافیت گردانا گیا، کہ:


 وقت نے رکھے ہیں اب یوں اصول الفت کے 

عشق تک تو ممکن ہے ، وصل کی اجازت نہیں 


 لاک ڈاؤن کے یہ دن سال کے بہت بدترین دن‌ تھے، کہ دو وقت کی روٹی کمانے والے مزدور گھروں میں قید ہوکر قوت روزینہ سے محروم ہو گئے،‌ پردیس میں پڑے غریبوں کو زندگی بسر کرنے کے لالے پڑ گئے، اور تمام امیدوں نے دم توڑ دیا، سارے راستے مفقود نظر آئے،  تو بےچاروں نے بنا زاد سفر کے پیدل ہی رخت سفر باندھ لیا، مگر افسوس  کچھ تو ہزاروں میل پیدل سفر کی تاب نا لا کر موت کا لقمہ تر بن گئے، کہ بقول رضا مورانی:


زندگی اب اس قدر سفاک ہو جائے گی کیا 

بھوک ہی مزدور کی خوراک ہو جائے گی کیا 



سال ٢٠٢٠ خوشیوں، شادمانیوں اور مسرتوں کے بجائے تلخیوں، دکھ‌ و درد اور رنج و غم کے لیے یاد کیا جاتا رہے گا، اس سال نے پریشانی، پشیمانی، حیرانی اور کرب و بلا کی ایک نئی داستان تحریر کی ہے،  ویسے تو ہر شے کو موت کا مزہ چکھنا ہے، لیکن گزشتہ سال  میں جس پیمانے پر اموات ہوئیں، وہ ہمارے لئے باعث عبرت و نصیحت کے ساتھ انتہائی تکلیف دہ بھی ہے ۔


سال ٢٠٢٠ سسکیوں اور آہوں کا ایک ایسا مجموعہ بن کر ہمارے سامنے سے گزرا، جس کی مثال ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے، اس سال نے ہم سے ہماری بہت سی عظیم شخصیات چھین لیں، جن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا کلب صادق، دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مفتی سعید احمد پالنپوری، عالم اسلام کی مشہور شخصیت مفتی رزولی، کانگریس کے معروف قائد احمد پٹیل، جمعیت العلماء اترپردیش کے صدر متین الحق اسامہ قاسمی،  " کئ چاند تھے سر آسماں"  کے تخلیق کار  شمس الرحمن فاروقی، اردو ادب کے ممتاز ادیب ظفر احمد صدیقی، جماعت اسلامی ہند کے سابق صدر مولانا سراج الحسن، بنگلور کے معروف سماجی کارکن حافظ سمیع اللہ، طنز و مزاح کے بے باک و معتبر شاعر اور ملی کونسل کے مرکزی رکن اسرار جامعی ، کرناٹک کے مشہور شاعر و ادیب خلیق الشعراء اسد اعجاز، اسلامک فقہ اکیڈمی کے سیکرٹری مولانا عثمان ندوی قابل ذکر ہیں کہ:


اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں

روئیے کس کے لئے  کس کس کا ماتم  کیجئے


سال ٢٠٢٠ ویسے تو ساری دنیا کے لئے باعث آفت و مصیبت ثابت ہوا، مگر ہم ہندوستانیوں کے لئے کچھ زیادہ ہی دشوار کن ثابت ہوا، کہ اس کی ابتدا پر کڑاکے کی سرد میں ملک کا نوجوان طبقہ کھلے آسمان تلے آئین ہند کی حفاظت کےلئے کھڑا ہوا تھا، اور پھر ملک عزیز کی خواتین بھی اپنے وجود کی بقا کی خاطر ان کے شانہ بشانہ ڈٹی ہوئیں تھیں، بالکل اسی طرح سال اختتام میں  دیش کا کسان اتنے سخت موسم میں دہلی کی سڑکوں پر ڈٹا رہا ہے، اپنے خون پسینہ بہاکر حاصل ہونے والی کمائی کے تحفظ کے لئے آئینی جنگ لڑ رہا ہے، جب سال کی ابتدا احتجاج سے ہوئی اور اختتام بھی آندولن پر ہی ہوا ہے، تو کل ملا کر یہ سال مشقتوں، مصیبتوں اور یک بعد دیگر آزمائشوں کا ہی رہا ہے۔


مگر آج ہم ۲۰۲۱ کا استقبال اس امید میں کر رہے ہیں، کہ سال نو  اپنے دامن میں چھپائے ہمارے لئے ایسا نسخہ کیمیا لاۓ گا، جس سے ان شاء اللہ ماضی کے تمام‌ درد و غم دور ہو جائیں گے، اور ہم اس یقین کے ساتھ اس کو خوش‌ آمدید کہتے کہ یہ تلافی ما فات ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔ کہ:

نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے 

خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...