..................................................... تجارت ایک عزت والا پیشہ ہے۔ ، تجارت نوکری چاکری سے بہت مختلف پیشہ ہے، نوکری چاہے جیسی بھی ہو ، پروفیشنل ہو غیر پروفیشنل ہو، لاکھوں روپے ماہوار پر ہو یا کروڑوں روپے کی تنخواہ پر ہو ہر حالت میں نوکری کرنے والا اپنے مالک کا نوکر ہوتا ہے، اور اسی کے رحم و کرم پر زندگی گزارتا ہے، اور مالک کے اشارے پر ناچتا بھی ہے، نوکری کے ٹائم میں وہ غلام سے کم نہیں ہوتا، جس کا اندازہ ہم سب کو ہے، لیکن بدقسمتی سے علماء کرام کا بڑا طبقہ بلکہ 90 فی صد اسی غلامی میں ملوث ہیں، سال بھر مدرسہ میں درس و تدریس کے فرائض پوری ایمانداری سے انجام دیتے ہیں، سالانہ چھٹی ہوتی ہے، اس میں اپنے بال بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے چندہ کی غرض سے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں، رمضان جیسے مہینے میں آرام سے بیٹھ کر عبادت کرنے کے بجائے کڑی دھوپ میں گھر گھر پہونچتے ہیں اور چندہ اکھٹا کرتے ہیں ۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر علماء کرام کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا *"ائے علماء کی جماعت تجارت اختیار کرو عام مسلمانوں کے کندھوں پر بو...
دار البحث والاعلام، لکھنؤ کا علمی، ادبی و صحافتی ترجمان