نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

 ..................................................... 

 تجارت ایک عزت والا پیشہ ہے۔



، تجارت نوکری چاکری سے بہت مختلف پیشہ ہے، نوکری چاہے جیسی بھی ہو ، پروفیشنل ہو غیر پروفیشنل ہو، لاکھوں روپے ماہوار پر ہو یا کروڑوں روپے کی تنخواہ پر ہو ہر حالت میں نوکری کرنے والا اپنے مالک کا نوکر ہوتا ہے، اور اسی کے رحم و کرم پر زندگی گزارتا ہے، اور مالک کے اشارے پر ناچتا بھی ہے، نوکری کے ٹائم میں وہ غلام سے کم نہیں ہوتا، جس کا اندازہ ہم سب کو ہے، لیکن بدقسمتی سے علماء کرام کا بڑا طبقہ بلکہ 90 فی صد اسی غلامی میں ملوث ہیں، سال بھر مدرسہ میں درس و تدریس کے فرائض پوری ایمانداری سے انجام دیتے ہیں، سالانہ چھٹی ہوتی ہے، اس میں اپنے بال بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے چندہ کی غرض سے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں، رمضان جیسے مہینے میں آرام سے بیٹھ کر عبادت کرنے کے بجائے کڑی دھوپ میں گھر گھر پہونچتے ہیں اور چندہ اکھٹا کرتے ہیں ۔۔

       حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر علماء کرام کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا *"ائے علماء کی جماعت تجارت اختیار کرو عام مسلمانوں کے کندھوں پر بوجھ نہ بنو"* تجارت کے ذریعے انسان خود کا بھی گھر چلاتاہے اور دوسروں کا بھی، 

       میدان تجارت میں علماء کرام باآسانی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، کیونکہ انکے پاس انبیاء کرام اور حضرات صحابہ کے تجارت کے آئڈیاز اور طریقے ہیں، 

  انہیں آئڈیاز کو اپنا کر پاکستان کے جناب مولانا اسلم شیخوپوری رح نے تجارت میں قدم رکھا باوجود اپنے پاؤں کے معذوری کے انہوں نے بزنس کے لائن ایسی تاریخ رقم کردی کہ اپنے جیسے عالموں کے لئے آئڈیل اور نمونہ بن گئے، آپ رحمہ اللہ کے خیالات بڑے دلچسپ تھے۔ آپ فرماتے تھے: *’’دین کا کام پوری آزادی کے ساتھ اور بغیر کسی کی محتاجی کے کرنے کی صورت یہی ہے کہ انسان کمائی کا کوئی پیشہ اختیار کرے۔‘‘* آپ رحمہ اللہ نے یہ بھی فرمایا تھا: *’’میں یہ محنت، مشقت اس لیے کرتا ہوں، تاکہ قیامت کے دن جب میرے بچے اٹھیں تو اللہ کہیں کہ یہ اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے مزدور کے بچے ہیں۔‘‘* وہ یہ بھی سمجھتے تھے ایک عالم دین کو عام لوگوں کی نظر میں بے وقعت نہیں ہونا چاہیے۔ 

      تجارت کے کارزار میں اترے تو بہت تھوڑے سرمائے اور کم سطح سے آغاز کیا۔ سب سے پہلے کتابیں فروخت کرنا شروع کیں۔ کتابوں کی منتقلی اور گاہک تک پہنچانا اپنی جسمانی معذوری کے باعث مشکل ہوتا۔ لہذا اس کام کو جاری نہ رکھ پائے۔ پھر بطورمزدور ہوٹلوں کو مٹر نکال کر اور پیک کر کے فراہم کرنا شروع کیا۔ آپ کے رفیق کار قاری عبد المنان نے ذکر کیا کہ مولانا شہید اور ان کی اہلیہ فجر سے پہلے پیکنگ مکمل کردیتے۔ پھر یہ تھیلیاں قاری عبد المنان اور ان کے بھائی کے ذریعے نماز فجر سے پہلے جھونپڑا پٹیوں میں بنےہوٹلوں کو سپلائی کی جاتیں۔ اگلے مرحلے کے طور پر تسبیح، رومال اور مسواک وغیرہ کی فروخت شروع کی۔ اس سے متعلق مولانا کا نظریہ یہ تھا کہ ایسا کاروبار کیا جائے جس میں خدمت اور عبادت کا پہلو بھی ہو۔ انہوں نے اپنے تمام پروڈکس کو *حلیمی پروڈکس* کا نام دیا تھا *’’حلیمی مسواک‘‘* اس سے متعلق عجیب خواہش تھی کہ اللہ کرے میری یہ مسواک اتنی مقبول اور عام ہو جائے کہ میں حرم شریف کے گیٹ سے جا کر اپنی مسواک خریدوں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش پوری کی۔ ایک سفرِ حرمین میں اپنی مسواک کو حرم شریف میں فروخت ہوتے دیکھا اور اسے خریدا۔

حضرت مولانا کا *"شربت امراض قلب"* بھی خدمت خلق کا ہی پس منظر لیے ہوئے ہے۔ آپ کی مسجد کے ایک نمازی دل کے مرض میں مبتلا تھے۔ وہ ہر روز بڑی مشکل سے سیڑھیاں چڑھ کر صحن تک اور صحن سے ہال تک پہنچتے۔ مگر چند دنوں میں آپ نے دیکھا کہ وہ صحت مند نظر آ رہے ہیں۔ ان سے وہ نسخہ معلوم کیا جس کی وجہ سے انہیں افاقہ ہوا تھا۔ متعلقہ حکیم صاحب سے رابطہ کرنے پر معلوم ہو اکہ نسخہ ایک اور صاحب کے پاس ہے۔ بالآخر دس ہزار روپے میں انہوں نے وہ نسخہ عنایت کر دیا۔ مولانا نے نہایت خالص اشیا سے دوائی تیار کروائی۔ بہت کارگر ثابت ہوئی۔ ایک شخص کے دل کا ’’والو‘‘ بند تھا، اسی سے کھلا۔

آپ کی مصنوعات میں *’’حلیمی شہد‘‘* غیر معمولی طور پر مقبول ہوا۔ صرف دو کَین شہد سے تجارت کا آغاز کیا۔ آپ رحمہ اللہ کی شانِ محنت ملاحظہ ہوکہ آپ کراچی(پاکستان) کے علاقے شیر شاہ جا کر خود بوتلیں خرید کر لاتے۔ پھر جمعرات شام سے جمعہ شام تک بوتلیں دھو دھو کر خشک بھی کرتے اور پیک بھی۔ صاف بوتلیں اس لیے نہ خریدتے کہ وہ مہنگی تھیں۔ اس طرح قیمت بہت زیادہ بڑھ جانے کا اندیشہ تھا۔ جس سے ظاہر ہے گاہک کا نقصان ہوتا۔ اپنے کاروبار میں طلبہ کو بھی شامل کر لیتے۔ انہیں کہتے: اپنے عزیز، رشتہ داروں کے لیے لے جائیں، جو نفع ہو وہ آپ کا۔ شہد کا یہ کاروبار دو کین سے شروع ہو کر دو ٹرک تک پہنچا، ہنوز بھی جاری ہے۔

ایک منجن بنا کر فروخت کرنا شروع کیا۔ اس کا نسخہ بہت مہنگا تھا۔ بہت نایاب چیزیں ڈلتی تھیں۔ لیکن پھر بھی کافی پیسے خرچ کرکے اس نسخہ کو خریدا کہتے کہ ہم معیار پر سمجھوتہ ہرگز نہیں کر سکتے۔ یہ بھی یاد رکھو! ہم چاہتے ہیں ہماری وجہ سے کسی کی صحت وغیرہ کا نقصان نہ ہو۔

علم اور تجارت ساتھ ساتھ

ایک *’’سنت گفٹ‘‘* شروع کیا۔ اس میں شہد کی بوتل، مسواک، عطر، تسبیح، سرمہ، بادام والی کھجور اور چھوٹا رومال وغیرہ شامل تھا۔ یہ بھی بہت مقبول ہوا۔آپ نے کئی ایک کاروبار کیے۔ مقامی سطح سے ایکسپورٹ، امپورٹ تک پہنچے

      علماء کرام کو چاہیے کہ وہ بزنس کے میدان میں آئے، ان شاءاللہ اگر علماء کرام نے تجارت کے میدان میں قدم رکھا تو مسلم اور غیر مسلم تاجروں کو ان سے صحابہ کرام کے تجارت کے طریقے کو سیکھنے کا موقع ملے گا، اور مارکیٹ کالا بازاری سے پاک ہوسکے گا۔



🖋 راشد سیف اللہ ندوی---------------------------

*🔘ناشر:سید الیاس کاشفی قاسمی🔘*

*(پروپرائٹر ھدایت کلیکشن اورنگ آباد)*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...