فقہی اختلافات کے سلسلے میں صحابه کرام کا اسوہ
✍️: احمد الياس نعمانى
فقہی فروعیات میں اہل علم کے درمیان اختلاف کوئی نئی بات نہیں، یہ صحابہ کرام کے عہد سے پائے جاتے ہیں، لیکن جو چیز بعد کی ”مُحدَث“ ہے، وہ ہے اپنی فقہی آراءپر اصرار اور دوسروں کو تمام فروعیات وکلیات میں اپنے ہم رائے کرنے کی کوشش کرنا۔ یہ اختلاف اگر علمی حدود کے اندر ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن اگر اس میں اپنی رائے پر اصرار کا وہ رنگ آجائے جو افسوس کہ ہمارے یہاں روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے تو یقینا اس میں بڑا ”حرج“ ہے۔
بہت ہی افسوس ناک منظر ہوتا ہے جب ایک رائے کے حاملین اپنی رائے پر خود تو عمل کرتے ہی ہیں ساتھ ہی دوسری رائے کے حاملین سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان کے ہی ہم رائے ہو جائیں ،اور اپنے اس مطالبہ میں خوش اسلوبی و بد اسلوبی کا بھی فرق نہیں کرتے، ہوتا یہ ہے کہ ایک فریق اپنی کسی فقہی رائے کے حق میں بڑی پر زور تقریر یںکرتا ہے یا تحریر یں باٹتا ہے، اپنی رائے کو اوفق بالکتاب والسنة ثابت کر کے دوسروں کی رائے کو غلط کہتا ہے، اس کے حاملین کا مذاق اڑاتا ہے، پھر دوسرا فریق بھی میدان میں آجاتا ہے اور پھر یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لیتا۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا یہ اختلافات کوئی نئے نہیں، بہت قدیم ہیں، بلکہ عہد نبوی سے ہی ہیں ،صحابہ کرام میں آپ کی حیات مبارکہ میں بھی اور آپ کے بعد بھی اس طرح کے اختلافات پائے جاتے تھے، لیکن وہ علمی حدود میں ہی رہتے تھے، باہم صف آرائی کا باعث نہیں بنتے تھے، ذیل میں چند مثالیں پیش کی جارہی ہیں، آپ دیکھیں گے کہ صحابہ کرام ایسے فقہی اختلافات کے باوجود باہم دست و گریباں ہوتے نہ حلقہ بندی کرتے۔
صحابہ کرام کے درمیان جن فقہی مسائل میں اختلاف تھا ان میں ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ سفر کے درمیان روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں؟ اب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ روایت پڑھیں کہ:
”صحابہ سفر کرتے ( تو ان میں سے کچھ روزہ رکھتے اور کچھ نہ رکھتے) روزہ رکھنے والے روزہ چھوڑنے والوں پر تنقید کرتے نہ روزہ چھوڑنے والے روزہ رکھنے والوں پر۔“ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب جواز الصوم والفطرفی شہر رمضان للمسافر)
امام ترمذی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فجر میں تغلیس کے قائل تھے جب کہ صحابہ کرام میں بعض حضرات اسفار کو بہتر سمجھتے تھے۔ (ملاحظہ ہو سنن ترمذی :کتاب الصلوٰة :باب ماجاءفی التغلیس بالفجر و باب ماجاءفی الاسفار بالفجر) ظاہر ہے کہ شیخین کے عہد خلافت میں تمام صحابہ ان کے پیچھے ہی نماز ادا کرتے تھے، لیکن کہیں یہ منقول نہیں کہ اسفار بالفجر کے قائلین نے ان سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ اسفار میں نماز فجر ادا کریں۔
نماز مغرب سے قبل دورکعت نفل نماز پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں؟اس بابت صحابہ کرام کے درمیان پائے جانے والے اختلاف کو بیان کرتے ہوئے امام ترمذی تحریر فرماتے ہیں:
”مغرب سے قبل (نفل) نماز کے سلسلے میں صحابہ كرام میں اختلاف پایا جاتاتھا،بعض صحابہ اس کے قائل نہیں تھے، جب کہ متعدد صحابہ کرام کے بارے میں یہ منقول ہے کہ وہ مغرب کی نماز سے قبل اذان واقامت کے درمیان (نفل) نماز پڑھا کرتے تھے۔“ ( سنن ترمذی: کتاب الصلاة،باب ماجاءفی الصلاة قبل المغرب)
متعدد روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایسے حضرات یہ نفل نماز کہیںاور نہیں مسجد نبوی کے اندر سب کے سامنے ہی پڑھتے تھے(مثلاً: صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافین و قصرہا، باب استحباب رکعتیں قبل المغرب)لیکن کسی ایک مقام پر بھی یہ روایت نہیں کہ دیگر رائے کے حاملین نے ان کو ٹوکا ہو یا ان کی اس علمی رائے کی ”غلطی“ ان پر واضح کی ہو۔
رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع یدین کا مسئلہ ہمارے نزاعی مسائل میں سے ہے، ہر کچھ دنوں بعد اس سلسلے میں دونوں رایوں کے کچھ حاملین اپنی رائے کے اثبات اور دوسروں کی رائے کی تغلیط میں بڑا زور صرف کرتے ہیں، صحابہ کرام کے یہاں بھی یہ اختلاف پایا جاتا تھا (سنن ترمذی:کتاب الصلاة، باب ماجاءفی رفع الیدین عند الرکوع) وہ سب ایک ساتھ مسجد نبوی میں نماز پڑھتے، دوسروں کو اپنے سے مختلف طریقہ سے نماز ادا کرتے دیکھتے لیکن کبھی بھی بزم مناظرہ نہ سجتی۔ تقریباً ایسا ہی حال قراءت خلف الامام کے مسئلہ کا بھی ہے، اس سلسلے میں بھی صحابہ کرام کی آراءمیں اختلاف پایا جاتا تھا، کچھ اس کے سرے سے قائل ہی نہ تھے، کچھ صرف جہری میں قائل تھے اور کچھ جہری و سری دونوں میں اس کو ضروری خیال کرتے تھے۔ (ملاحظہ ہو: موطا امام مالک: صلاة: باب ماجاءفی ام القرآن، باب ترک القراءة خلف الامام فیمایجھر فیہ و باب القراءة خلف الامام فیما لا یجھر فیہ باالقراءة) ان سے جب کوئی اس بابت دریافت کرتا اپنی رائے کے مطابق فتویٰ دیتے لیکن دوسرے کی رائے کا استہزاءکرتے نہ تغلیط۔
فتح مکہ کے کچھ ہی دنوں بعد سے حرمِ مکی میں اذان حضرت محذورة دیتے، اور ترجیع کرتے جب کہ مسجد نبوی کی اذان میں ایسا نہ ہوتا، اسی طرح مکہ میں اقامت میں ایتار نہیں ہوتا تھا جب کہ مدینہ میں ہوتا تھا۔ دونوں جگہ کے صحابہ کرام دوسری جگہ جاتے رہتے لیکن کہیں بھی یہ منقول نہیں کہ کسی نے اذان و اقامت کے دوسرے طریقے پر نکیر کی ہو۔
مختلف صحابہ کرام سے تشہد کے مختلف الفاظ منقول ہیں۔ (ملاحظہ ہو: موطاکتاب الصلاة: التشہد فی الصلاة، ترمذی: باب ماجاءفی التشہد) ان میں سے ہر ایک اپنے نزدیک راجح الفاظ کی ہی خواہش مندوں کو تعلیم دیتا لیکن اس اختلاف کو مخالفت کا سبب نہ بناتا۔
نماز میں سلام دوپھیرے جائیں گے یا ایک؟ صحابہ کرام کے یہاں اس کی بابت بھی اختلاف تھا (ترمذی: صلاة: باب ماجاءفی التسلیم فی الصلاة) لیکن ایک رائے کے حاملین کے پیچھے یہی نہیں کہ دوسری رائے کے حاملین مستقبل نماز پڑھتے تھے بلکہ ان پر نکیر بھی نہیں کرتے تھے۔ ہم تک ان کی مختلف علمی آراءتو پہنچی ہیں لیکن ہمارے مآخذ کے بحرزخار میں کم از کم ہمارے محدود علم کے مطابق یہ کہیں مذکور نہیں کہ انہوں نے اس سلسلے میں بحث وجدال کی راہ اپنائی ہو۔
امام بخاری نے اپنی صحیح (کتاب فضائل الصحابة، باب ذکر معاویة) میں یہ روایت نقل کی ہے:
”حضرت معاویہ نے عشاءکے بعد ایک روز وتر کی نماز ایک رکعت پڑھی، ان کے پاس حضرت عبد اللہ بن عباس کے ایک مولیٰ بیٹھے ہوئے تھے۔ (ان کو حضرت معاویہ کے اس عمل پر بڑا تعجب ہوا) تو انہوں نے حضرت ابن عباس سے آکر اس کا ذکر کیا حضرت ابن عباس نے فرمایا: ان پر اعتراض مت کرو آخر وہ صحابیء رسول ہیں“ دوسری روایت میں ہے : ”وہ فقیہ ہیں“
روایت واضح طور پر بتا رہی ہے کہ ان مولیٰ کو حضرت معاویہ کی ایک رکعت والی وتر کی نماز پر اعتراض تھا ،اور انہوں نے آکر ان کے اس عمل کا ذکر کچھ اس انداز میں کیا کہ حضرت ابن عباس کو یہ محسوس ہوا کہ ان کے مولیٰ حضرت معاویہ سے صرف ایک جزوی فقہی مسئلہ میں اختلاف ہی نہیں رکھتے بلکہ اس کی وجہ سے ان پر معترض بھی ہیں۔ اور اپنے اس اعتراض میں وہ ان کے علمی و دینی مقام کا بھی خیال نہیں رکھ پارہے ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر حضرت ابن عباس نے اس مسئلہ میں کسی فقہی بحث کا آغاز نہیں کیا، حضرت معاویہ کے حق میں یا ان کے خلاف کوئی دلیل نہیں دی، بلکہ یہ نصیحت کی کہ اس موقعہ پر ان کو علمی اختلاف کے باوجود دوسرے کے مقام و مرتبہ کا خیال ضرور رکھنا چاہئے؟
درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حضرات کی تربیت ہی ایسی فرمائی تھی کہ ان کے نزدیک یہ فروعی اختلافات کوئی اہم بات نہ تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت کو اس حکم کے ساتھ یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے علاقے بھیجا کہ عصر کی نماز وہیں جا کر سب لوگ پڑھیں، ابھی یہ حضرات راستے میں ہی تھے کہ سورج غروب ہونے کا وقت آ گیا اور ان کو لگا کہ اب ہم عصر کے وقت میں بنو قریظہ کے علاقے نہیں پہونچ پائیں گے، اس صورت حال میں ان میں دو رائیں ہو گئیں، کچھ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو یہ حکم دیا تھا کہ نمازِ عصر ہم بنو قریظہ میں جا کر ہی پڑھیں لہٰذا ہم تو وہیں جا کر پڑھیں گے چاہے سورج ہی کیوں نہ غروب ہو جائے، جب کہ بعض دیگر لوگوں نے یہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود بس یہ تھا کہ ہم عصر کے وقت میں ہی بنو قریظہ پہنچ جائیں، اب جب ہم نہیں پہنچ پا رہے تو ہم کو یہیں نماز پڑھ لینی چاہئے۔اور انہوں نے راستہ میں نماز پڑھ بھی لی۔ جب یہ حضرات وہاں سے واپس ہوئے تو یہ مسئلہ رسول اللہ کے سامنے رکھا گیا آپ نے کسی کے طرزِ عمل پر بھی نکیر نہ فرمائی (ملاحظہ ہو: صحیح بخاری، کتاب الجمعة، باب صلاة الطالب والمطلوب راکباً وایماءً)
ظاہر ہے دونوں جماعتوں میں کسی ایک کی ہی بات صحیح ہوگی اور دوسری جماعت غلطی پر ہوگی لیکن غالباًچونکہ دونوں جماعتیں نص نبوی سے ہی استدلال کر رہی تھےں لہٰذا حضور نے کسی کی بھی نکیر نہ فرما کر امت کو یہ پیغام دیا کہ اگر کسی رائے کا حامل کسی دلیل شرعی کی وجہ سے اپنی رائے رکھتا ہو تو چاہے دوسرے کو اس کے اس استدلال سے اختلاف ہی کیوں نہ ہو بحث وجدال کا آغاز نہیں کرنا چاہئے۔
یہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم، اور یہ تھا صحابہ کرام کا اسوہ۔ اب ہم اپنے حال پر نگاہ ڈالیں، ہر ایک ان کا متبع ہونے کا دعوے دارہے، لیکن کیا واقعی ہم ان کے نقشِ قدم پر ہیں؟


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں