![]() |
| سی-اے-اے- ، این- آر- سی کے خلاف احتجاج کا ایک منظر، گھنٹہ گھر لکھنؤ |
الیاس نعمانی
گزشتہ دو چار روز میں کئی برادران کی زبان سے اس طرح کے جملے سننے کو ملے کہ کیا ان احتجاجوں کا کچھ فائدہ بھی ہورہا ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کے ذہن میں اس احتجاجی تحریک کی کامیابیاں نہیں ہیں اس لیے وہ مایوس ہورہے ہیں، اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس تحریک کی کچھ اہم کامیابیوں کا تذکرہ کیا جائے تاکہ حوصلہ قائم رہے:
1. ہم سب جانتے ہیں کہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر میں ہمارے لیے اصل خطرناک این آر سی ہے، این پی آر اس لیے خطرناک ہے کہ وہ اس کا زینہ ہے، اور سی اے اے اس لیے خطرناک ہے کہ وہ این آر سی کے اثرات کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرتا ہے، یعنی اس مثلث میں اصل خطرناک این آر سی ہی ہے، آپ کو یاد ہوگا کہ چند ماہ پہلے تک مرکزی حکومت، اور حکمراں پارٹی بالخصوص وزیر داخلہ چیخ چیخ کر کہتے تھے کہ این آر سی جلد ہی ہوگا، اور چن چن کر "گھسپیٹھیوں" کو نکالا جائے گا، کئی انتخابی ریلیوں میں یہ بات نہایت بدترین حاکمانہ لہجہ میں بھی کہی گئی، جس کے ویڈیو کلپس وائرل بھی ہوئے، لیکن اس احتجاجی تحریک کا ہی نتیجہ ہے کہ حکومت وحکمراں پارٹی کے لیڈرس کی زبان سے این آر سی کا تذکرہ غائب ہے، اور وزیر اعظم کو یہ مشہور زمانہ جھوٹ بولنا پڑا کہ ابھی تک این آر سی کا کوئی تذکرہ ہی نہیں ہوا ہے۔
بات یہیں پر نہیں رکی، بلکہ دو روز قبل جب بہار میں حزب اختلاف کے راہنما تیجسوی یادو نے این آر سی کے خلاف تجویز پیش کی اور حکمراں اتحاد میں بی جے پی کی حلیف وزیر اعلی نتیش کمار کی پارٹی نے اس کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا تو بی جے پی کو بھی اس کے حق میں ووٹ کرنا پڑا، بی جے پی کے لیے حالات کا یہ جبر بھی درحقیقت اسی احتجاجی تحریک نے پیدا کیا تھا جس نے اس مسئلہ پر نتیش کمار کے لیے یہ امکان نہیں چھوڑا تھا کہ وہ حزب اختلاف کی اس تجویز کے حق میں ووٹ نہ دیں، اور بی جے پی کے لیے سوائے اس کے کوئی راہ نہیں بچی تھی کہ وہ اس این آر سی کے خلاف تجویز کے حق میں ووٹ دے جس کے جلد کرنے کا تذکرہ اس کے لیڈران چند ماہ قبل تک نہایت حاکمانہ لہجہ میں کرتے تھے۔
2. کئی ریاستوں نے این پی آر کو روک دیا گیا، متعدد ریاستوں نے اسے اس پرانے طرز پر کرنے کی بات کہی ہے جو کم خطرناک ہے، کیا اس تحریک کے بغیر یہ ممکن تھا۔
3. اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تحریک نے مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد میں امت کے مسائل سے دلچسپی پیدا کی، اور ملک میں باعزت جینے کا حوصلہ دیا، جب کہ پچھلی کئی دہائیوں سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ امت کی اکثریت کو نہ ملی مسائل سے دلچسپی ہے نہ بحیثیت قوم باعزت جینے کی کوئی امنگ۔
اس تحریک کے یہ وہ چند مثبت نتائج ہیں جن کا مشاہدہ ہم سب کررہے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اسقامت اور تسلسل کے ساتھ یہ تحریک جاری رہے، یہ صرف این پی آر این آر سی اور سی اے اے کے شر سے ہی امت کی حفاظت نہیں کرے گی بلکہ ان شاء اللہ امت کی تعمیر نو میں بنیادی کردار بھی ادا کرے گی۔ اللہ تعالی ہمارا حامی وناصر ہو۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں