نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکمل تمدنی اصلاح اور انسانیت کی تعمیر نو کی تحریک چلانے آئے تھے: نعیم صدیقی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی سینتیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)

دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 10/ 14 مطابق 17/ ربیع الاول 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ واسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب

کی  سینتیسویں نشست کا آغاز محمد عزیز کی تلاوت سے ہوا۔ مرزا ریحان بیگ( سکریٹری:  اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "محسن انسانیت ﷺ " از نعیم صدیقی سے  "اصلاح تمدن کےلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نصب العین" کے عنوان پر اپنا انتخاب پیش کیا، جس میں فاضل مصنف نے حضور ﷺ کے پیش نظر تبدیلی کے دائرہ کار اور کام کے پیمانہ کو عمدہ انداز میں واضح کیا ہے۔ صدیقی صاحب لکھتے ہیں: "سیرت سے صحیح استفادہ کرنے کےلئے اس اہم پہلو کو ضرور سامنے رکھنا چاہئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمدنی نظام میں کوئی جزوی اصلاح چاہتے تھے یا ہمہ گیر؟ دعوت مذہبی و اخلاقی تھی یا وہ سیاسی اہمیت بھی رکھتی تھی؟ اس سوال کا جواب خود قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے موجود ہے اور مختلف پیرایوں میں تکرار سے اسلامی دعوت کا مدعا واضح کیا گیا ہے۔ لقد أرسلنا رسلنا بالبينات وأنـزلنا معهم الكتاب والميزان ليقوم الناس بالقسط [الحديد: 25] اس کے بعد جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دین کی اقامت اور اسلامی نظام کا برپا ہوجانا تو اصل مطلوب نہ تھا، محض انعام خدا وندی کے طور پر یکا یک ہی بیچ میں آ نمودار ہوا تو وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم مسلم  کے کارنامے اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی قائدانہ بصیرت اور اور سیاسی عظمت  پر غبار ڈالتے ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ اس ہستی نے کتنی تگ و دو کرکے مدینہ کے مختلف عناصر کو چند ماہ کے اندر اندر دستوری معاہدے کے تحت جمع کیا۔ کس عرق ریزی سے اردگرد کے قبائل سے حلیفانہ تعلقات قائم کئے۔ کس مہارت سے مٹھی بھر انسان کے بل پر ایک مضبوط فوجی نظام اور طلایہ گردی کا سلسلہ قائم کیا،  کس عزیمت کے ساتھ قریش کے خنجر برّاں کا مقابلہ کیا۔ کس بیدار مغزی کے ساتھ بے شمار شرپسند قبائل کی علاقائی شورشوں کی سرکوبی کی۔ پھر بھی اقامت دین کو خدا کا انعام کہہ کر اگر کوئی شخص رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد، جاں فشانی، حکمت و بصیرت اور سیاسی شعور کی نفی کرنا چاہتا ہے، تو وہ بڑا ظلم کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاسی پہلو  کو جب تک پوری سیرت میں سامنے نہ رکھا جائے وہ فرق سمجھا ہی نہیں جا سکتا جو محدود ذہنیت اور دین کے وسیع تصور میں ہے۔ اس لیے ہمیں یہ شعور ہونا چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جامع اور وسیع معنوں میں تمدنی اصلاح اور انسانیت کی تعمیر نو کی تحریک چلانے آئے تھے اور اس تحریک کو چلانے کے لیے بہترین قائدانہ بصیرت اور اعلی درجے کے سیاسی شعور سے آپ کی ہستی مالامال تھی"۔ 


مرغوب الرحمن ندوی (جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے کتاب خصائص یوم الجمعة از أبو الحسن محمد بن حسن بن عباس حفظہ اللہ سے اس سوال کا جواب پیش کیا کہ "کیا لفظ جمعہ کی رو سے ہر اس دن کو جس میں نماز کے واسطے لوگوں کی ایک کثیر تعداد اکھٹی ہوجائے جمعہ کہا جاسکتا ہے؟"  اس سوال کے ضمن میں صاحب کتاب لکھتے ہیں: ہر نماز کے واسطے لوگوں کے ہونے والے اجتماع کو جمعہ نہیں کہا جاسکتا؛ کیوں کہ عرب کسی چیز کا نام اسی وقت خاص کرتے ہیں جب دوسروں کے بالمقابل اس میں کوئی زیادتی پائی جاتی ہو".


 محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم العالی کی تصنیف "علوم القرآن" سے "قرآن کریم میں الفاظ کا اعجاز" پر اپنا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ:کسی زبان کا کوئی شاعر یا ادیب یہ دعویٰ ہرگز نہیں کرسکتا کہ اس کے کلام میں کوئی لفظ غیر فصیح استعمال نہیں ہوا ہے۔ لیکن قرآن کریم میں الحمدللہ سے لے کر والناس تک ہر لفظ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے ایسا اٹل ہے کہ اسے بدل کر اسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ دوسرا لفظ لانا ممکن ہی نہیں ہے۔ عربی زبان انتہائی وسیع زبان ہے، چنانچہ اس میں ایک ایک مفہوم کے لئے صرف معمولی معمولی فرق سے بہت سے الفاظ پائے جاتے ہیں، قرآن کریم الفاظ کے اس ذخیرے سے اپنی مقصد کی ادائیگی کے لئے وہی لفظ منتخب کرتا ہے جو عبارت کے سیاق و سباق، معنی کی ادائیگی اور اسلوب کے بہاؤ کے لحاظ سے موزوں ترین ہو". 

 

راقم الحروف نور القمر ندوی (معاون جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے سیرت النبی  (سوم) از علامہ سید سلیمان ندوی سے "دلائل و معجزات اور فلسفۂ قدیمہ و علم کلام"کے عنوان سے اپنا انتخاب  پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "اسلام میں جب تک عقائد کی سطح صاف اور ہموار رہی، دلائل اور معجزات کے متعلق عقلی مباحث نہ پیدا ہوسکتے تھے اور نہ ہوئے، لیکن  دوسری صدی میں جب یونانی علوم کے تراجم مسلمانوں میں پھیلے تو وہ ہمارے علم کلام کے ضروری جزو بن گئے اور اس فن کی اس درجہ اہمیت ہوگئی کہ اب ان سے تعرض کئے بغیر گویا موضوع مزید بحث کے لئے تشنہ رہ جاتا ہے۔ مسلمانوں میں سب سے پہلے فلسفی یعقوب کندی ہوئے، اس کے بعد فارابی کا زمانہ آتا ہے، اسی نے سب سے پہلے ان مسائل کے متعلق اپنے خاص نظریے قائم کئے۔ فلسفہ وعقل کی راہ سے جو حکمائے اسلام منزلِ حقیقت کے جویاں ہیں، ان کے نزدیک نبی وہ ہے جس میں یہ تین باتیں جمع ہوں: پہلا وہ امور غیب پر مطلع ہو، دوسرا ملائکہ ان کو نظر آئیں اور تیسرا اس سے خوارق عادات ظاہر ہو۔ 


جناب مولانا مسعود عالم ندوی ( ڈائریکٹر: دار البحث والاعلام، لکھنؤ) کی نیابت کرتے ہوئے نشست کی صدارت کر رہے حذیفہ مدثر ندوی (رفیق علمی: دار البحث والاعلام، لکھنؤ) نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ: "اللقاء الثقافی، لکھنؤ کی ہفتہ واری نشست بالکل انوکھی اور  منفرد انداز کی نششت ہے، جو بلاناغہ قریب بارہ برسوں سے منعقد ہورہی ہے۔ میں نے اس طرح کی نششت کہیں نہیں دیکھی۔ مزید کہا کہ: "سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ہر  پہلو کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے؛ تاکہ سیرت کا ہر پہلو ہم پر واضح ہوجائے اور اس سے خود بھی فائدہ اٹھائیں اور دوسروں کو بھی مستفید کرسکیں"۔  


مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)  نے 7/اکتوبر 2022 بمطابق 10/ربیع الأول 1444ھ کو منعقد نشست کی مفصل روداد پیش کی۔  واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے جنرل سکریٹری : مرغوب الرحمن ندوی نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔

 دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا  


بقلم: نور القمر ندوی

(معاون جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

                                                          14/10/2022 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...