🖋:عطاء الرحمن رحیمی
ولادت:
علامہ یوسف قرضاوی ؒکی پیدائش 9 ستمبر 1926ء
کو مصر کے محافظہ غربیہ کے مرکز المحلہ الکبری کے ایک
گاؤں "صفط تراب" میں ہوئی۔
تعلیم و
تربیت:
علامہ یوسف قرضاوی دو برس کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے چچا کے یہاں
پرورش پائی۔ ان کے خاندان والے انہیں دکان دار یا بڑھئی بنانا چاہتے تھے۔ تاہم وہ
اس دوران قرآن مجید حفظ کرتے رہے اور نو
برس کی عمر میں مکمل قرآن حفظ کر لیا۔
👈 1944ء سے
1973ء تک جامعہ ازہر قاہرہ میں اعلی تعلیم حاصل کی اور ہمیشہ اپنے کلاس میں اول
آتے رہے۔
👈 1953ء میں
چھبیس سال کی عمر میں عالمیت کی ڈگری حاصل کی۔
👈 1958ء میں
اکتیس سال کی عمر میں تخصص فی اللغۃ والادب میں گریجویشن مکمل کیا۔
👈 1960ء میں
تینتیس سال کی عمر میں علوم القرآن و السنہ میں ایم اے مکمل کیااور اسی سال قطر
آگئے تھے۔
👈 1973ء میں
سینتالیس سال کی عمر میں فقہ میں پی ایچ ڈی مکمل کیا۔
👈 ان کے پی
ایچ ڈی مقالے کا عنوان "الزكاة و أثرها في حل المشاكل
الاجتماعية" (سماجی مسائی کے حل میں زکوۃ کا اثر) تھا۔
تحریک
اخوان المسلمین اور علامہ قرضاوی:
علامہ یوسف قرضاوی مصر کے اندر برپا ہونے والی تحریک
"اخوان المسلمین" سے وابستہ ہی نہیں بلکہ اس کے اساسی، سرگرم، متحرک اور
فعال رکن تھے، جب اس تحریک کے بانی اور وابستگان پر افتاد پڑی اور مصری حکومت کی
طرف سے اس پر مصائب اور مشکلات ،ظلم و زیادتی اور آزمائش کا دور آیا ،حتی کہ ان
ممبران کو قید و بند اور دار و رسن سے گزرنا پڑا، تو اس یوسف کو بھی سنت یوسفی ادا
کرنی پڑی اور کئی برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا اور بڑی دردناک اذیتوں سے
دوچار ہونا پڑا۔ شیخ نے اپنی داستان طلبہ کے سامنے خود بیان کی، اس داستان کو اشعار
اور قصیدہ میں بیان کیا ہے۔ تمام تر صعوبتوں اور آزمائشوں کے باوجود آپ کے پائے
استقامت میں لرزش نہیں ہوئی اور نہ عزم و استقلال اور جرات و بے باکی میں کوئی
کمزوری آئی۔
علمی خدمات
اور کارنامے:
علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی خدمات ہر شعبۂ حیات پر محیط ہیں،
اور ان کے کام اور کارنامے ناقابل فراموش ہیں، تعلیم و تربیت، اصلاح و دعوت، فکر
اسلامی، قیادت و سیادت، تقریر و خطابت، تصنیف و تالیف اور سیاست عامہ، اسلام پر
کئے جانے والے اعتراضات اور پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ، نسل نو اور
نوجوانوں کی عقلی، ذہنی اور فکری تربیت، ان کا دین پر اعتماد بحال کرنا، فکری کجی
اور مغربی انحراف سے بچانا، ترقی یافتہ دور میں یہ ثابت کرنا کہ اسلام ہر دور اور
ترقی کا نہ صرف ساتھ دے سکتا ہے، بلکہ ترقی یافتہ دور کی رہنمائی کر سکتا ہے اورہر دور
میں اپنی قائدانہ صلاحیت رکھتا ہے، جدید مسائل کا عصری تقاضوں کے مطابق حل پیش
کرنا وغیرہ ایسے عظیم الشان کارنامے اور
خدمات ہیں جنھیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
فقیہ امت:
علامہ شیخ یوسف قرضاویؒ اس زمانے میں امت اسلامیہ کے عظیم ترین
فقیہ اور اہلسنت کے نمایاں ترین رہنما تھے وہ احکام شریعت کی عصر حاضر کے مسائل پر
تطبیق کا ملکہ رکھتے ہیں۔فقہی میدان میں وہ وسیع تر معنوں میں ایک فقیہ کے طور پر
نظرآتے ہیں، انہوں نے فقه المقاصد، فقه
الاولویات، فقه السنن، فقه المآلات، فقه الموازنات اورفقه الاختلاف وغیرہ پر قلم اٹھایا ہے۔ ان کی
کتاب ’دراسة فقه المقاصد ‘ مقاصد شریعت کے تعلق سے بہت ہی گہری تحقیق پیش کرتی ہے،جبکہ ’تیسیر الفقه
للمسلم المعاصر‘
میں نئی نسل کے مسلم نوجوانوں کے لیے فقہی مباحث کو بہت ہی آسان اور عام فہم
بناکر پیش کردیا۔ آپ کی کتاب ’الفقه الاسلامی بین الاصالة والتجدید‘ فقہ اسلامی کے سلسلہ میں تجدیدی
خطوط کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
مفید
اداروں اور تنظیموں کے بانی:
شیخ نے ایسے ادارے قائم کیے جو امت کی معاصر ضرورتوں کی تکمیل
کا ذریعہ ہیں:
۱۔ الاتحاد
العالمی لعلماء المسلمین: یہ علمی و فکری ادارہ استعمار کی قائم کردہ سرحدوں سے بے نیاز
ہے، اور امت کے مسائل میں آزادانہ موقف اختیار کرتا رہا ہے، دیگر بہت سے اداروں کی
طرح حکومتوں کے موقفوں کا پابند نہیں رہا ہے۔
۲۔ یورپین
افتا کونسل: یہ ادارہ یورپ کے مخصوص حالات کے تقاضوں کے مطابق شرعی احکام بیان
کرتا ہے، عالم اسلام سے باہر قیام پذیر مسلمانوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہے،
یہ ادارہ ان کی فقہی و فکری رہنمائی کرتا ہے۔
عظیم فکری
کاوشیں:
ان بیش بہا کارناموں کے علاوہ شیخ یوسف القرضاوی نے نہایت گراں قدر
فکری کام بھی کیا ہے، جس کے ذریعے آپ نے اسلامی ورثہ کی بازیابی، زمانے کی تفہیم،
امت کے امراض کے علاج اور اسلام کے تہذیبی ڈھانچے کے خدوخال پیش کرنے جیسے امور پر
توجہ دی۔
تصانیف:
اسلامی معاشیات اور اس سے متعلق مسائل کو لے کر علامہ قرضاویؒ
نے جو کچھ لکھا وہ ان کا منفرد کارنامہ ہے، انہوں نے اس ضمن میں متعدد اہم کتابیں
تصنیف فرمائیں:
۱۔ فقہ الزکوۃ:میں
زکوۃ سے متعلق تفصیلی گفتگو ہے۔
۲۔ مشکلۃالفقر
وکیف عالجہا الاسلام:میں غربت کےمسائل سے متعلق
اسلامی رہنمائی پر تفصیلی بحث ہے۔
۳۔ بیع المرابحہ
للامر بالشراء:میں
اسلامی تجارت ومعیشت سے متعلق رہنما بحثیں ہیں۔
۴۔ فوائد البنوک
ھی الرباالحرام:میں
بینک سے ملنے والی سود کی رقم سے متعلق اسلامی رہنمائی کو پیش کیا گیا ہے۔
۵۔ دور القیم
والاخلاق فی الاقتصاد الاسلامی : میں اسلامی نظام معیشت میں اخلاق واقدار کے کردار اور اہمیت کو
بیان کیا گیا ہے۔
۶۔ دورالزکاۃ فی
علاج المشکلات الاقتصادیۃ : میں معاشی مسائل کے حل کے سلسلہ میں اسلام کے نظام زکوۃ کے رول پر گفتگو کی
گئی ہے۔
۷۔ لکی تنجح
موسسۃ الزکوۃ فی التطبیق المعاصر: میں زکوۃ سے متعلق جدید مباحث پر گفتگو ہے۔
۸۔ القواعد
الحاکمۃ لفقہ المعاملات:میں معاملات کے اسلامی
اصولوں کو بیان کیا گیا ہے۔
۹۔ مقاصد الشریعہ
المتعلقۃ بالمال:میں مالی معاملات سے متعلق مقاصد
شریعت پر بحث کی گئی ہے۔
سیاسی مسائل کے سلسلہ میں بھی علامہ قرضاویؒ علمی اور عملی ہر
دو پہلو سے ایک ماہر سیاست داں کے طور پر نظر آتے ہیں۔ آپ کی کتاب ’الدین والسیاسۃ
(دین اور سیاست) میں دین اور سیاست کے درمیان
رشتے پر گفتگو کی گئی ہے، معاصر سیاسی مسائل پر آپ کی کئی نمایاں کتابیں ہیں،
بطور خاص :
۱۔ قضایا معاصرۃ
علی بساط البحث :میں
مختلف جدید سیاسی مسائل کو زیربحث لایا گیا ہے۔
۲۔لقاء ات
وحوارات حول قضایا الاسلام والعصر : میں علامہ قرضاوی کی افکار کو جدید دنیا کے مسائل کے حوالے سے
ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
۳۔ ۲۵ ینایر۔۔۔ ثورۃ شعب : میں
عرب بہاریہ پر بہت اچھی گفتگو کی گئی ہے۔
ادب اور شاعری کے حوالہ سے بھی علامہ قرضاوی اپنی ایک پہچان
رکھتے ہیں، مثال کے طور پر:
۱۔ نفحات ولفحات: آپ کا معروف شعری مجموعہ ہے۔
۲۔ المسلمون
قادمون:مسلم امت میں جوش
وجذبہ پیش کرنے والا شعری مجموعہ ہے۔
۳۔ یوسف الصدیق :یہ آپ کا ایک منظوم ڈرامہ ہے۔
اعزازات:
👈1990ء میں اسلامی معاشیات کے میدان میں خدمات پر اسلامی ترقیاتی بینک ایوارڈ۔
👈1994ء میں اسلامی دراسات و تحقیقات میں عالمی شاہ فیصل اعزاز۔
👈1996ء میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا کی جانب سے ممتاز علمی ایوارڈ۔
👈1997ء میں فقہ اسلامی میں خدمات پر برونائی کی جانب سے حسن البلقیہ ایوارڈ۔
👈1999ء میں سلطان العویس ایوارڈ برائے علمی و ثقافتی کامیابی۔
👈1421ھ میں سال کی اسلامی شخصیت پر دوبئی قرآن کریم ایوارڈ۔
👈2008ء میں مملکت قطر کی جانب سے ملکی تعریفی و توصیفی ایوارڈ برائے اسلامی علوم، جو امیر قطر حمد بن خلیفہ آل ثانی کے بدست 8 نومبر 2009ء میں دیا گیا۔
👈 2009ء میں حکومت ملائیشیا کی جانب
سے وہاں کے شاہ کی طرف سے ہجرت نبوی اعزاز۔
👈 2010ء میں اردن کے
شاہ عبد اللہ دوم کی جانب سے پوری دنیا کے کئی علما و دانشوران پر مشتمل
منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں یوسف القرضاوی کو استقلال اعزاز سے
نوازا گیا۔
وفات:
۲۹/ صفر
المظفر ۱٤٤٤ه_ مطابق ٢٦/ ستمبر ٢٠٢٢ بروز دو شنبہ عصر کے وقت یہ روشن آفتاب غروب ہو
گیا۔
إنا لله وإنا إليه راجعون۔
ہزاروں
سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی
مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
🖋:عطاء الرحمن رحیمی
824070807

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں