نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قواعدِ فقہیہ مسائل حل کرنے کی شاہ کلید: مفتی محمد عالمگیر ندوی

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سریز کی اڑتیسویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)

دارالبحث والاعلام، لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى، لکھنؤ کے زیراہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 10/ 21 مطابق 24/ ربیع الأول 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:

میرا انتخاب، میری تخلیق

میری تخلیق، میرا انتخاب

کی اڑتیسویں نشست کا آغاز مرزا فرحان بیگ کی تلاوت سے ہوا ۔ مرزا ریحان بیگ (سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "مطالعۂ سیرت: وقت کی ضرورت" کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: علوم و فنون کی صف میں سیرت (Biography) کا ایک خاص درجہ ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کی سوانح حیات بھی حقیقت شناسی، عبرت پذیری اور تدبیر منزل کے لیے دلیل راہ ہوتی ہے۔ چہ جائیکہ وہ ایک تاریخ ساز، ایک انسان ساز، ایک قائد تمدن اور ایک انسان عظیم یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک ہو۔ سیرت کے مطالعہ سے جہاں انسانوں کے اندر آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحیح قدر پیدا ہوگی، ایک گہرا جذبۂ سپاس ابھرے گا۔ عقیدت والہیّت پیدا ہوگی، وہیں اس سے اونچی اڑان اڑنے کی امید بھی جاگے گی، کامیابی کے نسخے ہاتھ آئیں گے، عزیمت و استقلال کا درس حاصل کیا جاسکے گا، بہتر زندگی جینے کا سلیقہ ملے گا اور عمدہ معاشرہ کی تشکیل، صالح تہذیب کی تعمیر کے زریں اصول ملیں گے۔ بہترین اخلاقی قدریں ملیں گی۔ گویا نوع انسانیت اس سے ہر عمل کی نت نئی روحیں اخذ کرتی رہے گی؛ اس لیے مطالعۂ سیرت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔


نور القمر (معاون جنرل سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے ڈاکٹر محمد واسع ظفر کے مضمون "قرآن کریم اور غور و فکر کے مناہج"  کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: "قرآن نے غور و فکر کے مختلف مناہج بتائے ہیں جن سے انسان کو نہ صرف یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ اسے اپنی قوتِ عقلیہ و فکریہ کا استعمال کہاں کہاں کرنا چاہیے بلکہ ان سے علوم  و معارف کی بہت سی نئی راہیں کھلتی ہیں اور نئے شعبوں کی طرف رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس مضمون کا خاص مقصد اسی نکتہ کی وضاحت ہے۔ قرآن کے ذریعہ بتائے گئے مناہج کو درج ذیل عناوین کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے: (1) تفکر فی القرآن  (2)تفکر فی الآفاق (3) تفکر فی الخلق (4) تفکر فی الاحکام (5) تفکر فی الانفس (6) تفکر فی الاقوام". 


محمد عزیر (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم العالی کی تصنیف "علوم القرآن" سے "وحی کی ضرورت" پر اپنا انتخاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ: صرف عقل اور مشاہدہ انسان کی رہنمائی کے لئے کافی نہیں بلکہ اس کی ہدایت کے لئے وحئ الہی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ وحی انسان کے لیے وہ اعلی ترین ذریعۂ علم ہے جو اسے اس کی زندگی سے متعلق ان سوالات کے جواب مہیا کرتا ہے جو عقل اور حواس کے ذریعے حل نہیں ہوتے۔ 

محمد شاہ ظفر (معاون سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے مشہور آئی اے ایس کوچ، اکیڈمی آف لائف اینڈ فیوچرسٹک سائنس کے شریک بانی سمیر صدیقی کا تعارف کراتے ہوئے ان کی ایک ویڈیو کلپ پیش کی۔ سمیر صدیقی سول سروسز کوچنگ کی دنیا کا اہم نام ہے۔ صدیقی سر کی متعدد ویڈیوز تعلیم کی اہمیت، جدید وسائل سے استفادہ کے طریقے، تعلیمی مشکلات اور اس کا حل، مسلمانوں کے تعلیمی زوال کے اسباب اور اس جیسے دیگر نئے موضوعات پر آپ کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہیں، جنھیں پچیس سے تیس ملین لوگ سنتے ہیں۔  

مرغوب الرحمٰن ندوی (جنرل سیکرٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "خصائص يوم الجمعة" پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: "ابن قیم الجوزی نے زاد المعاد میں یومِ جمعہ کی تینتیس خصوصیتیں ذکر کی ہیں، وہیں مشہور عالم دین جلال الدین سیوطی نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی کتاب "نور اللمعة في خصائص يوم الجمعة" میں ایک سو ایک خصوصیات کا تذکرہ کیا ہے"۔ 

شیخ عبداللہ (ممبر: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے "مولانا ابوالکلام آزاد کی حیات و خدمات" پر اپنی تخلیق پیش کرتے ہوئے کہا کہ: " ابوالکلام آزاد کی پیدائش 1888ء میں مکہ معظمہ میں ہوئی۔ اپنے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آزاد مصر کی مشہور درسگاہ جامع ازہر چلے گئے، جہاں انھوں نے مشرقی علوم کی تکمیل کی۔ عرب سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تو کلکتہ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ یہیں سے انھوں نے اپنی صحافتی اور سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ کلکتہ سے ہی 1912 میں ’الہلال‘ کے نام سے ایک ہفتہ وار اخبار نکالا۔ یہ پہلا با تصویر سیاسی اخبار تھا۔ 1914 میں انگریزوں نے اس پر پابندی لگا دی۔ اس کے بعد مولانا نے ’البلاغ‘ کے نام سے دوسرا اخبار جاری کیا، یہ اخبار بھی آزاد کی انگریز مخالف پالیسی پر گامزن رہا۔ مولانا ابوالکلام آزاد سیاسی محاذ پر بھی سرگرم رہے۔ کانگریس پارٹی کے صدر بھی رہے۔ "تحریک عدمِ تعاون"، "ہندوستان چھوڑو" اور "خلافت تحریک" میں بھی حصہ لیا۔ اس طرح وہ ایک اہم قومی لیڈر کی حیثیت سے ابھرے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد مولانا آزاد ملک وزیر تعلیم بنائے گئے۔ انھوں نے وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے بہت اہم کارنامے انجام دیے۔ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن اور دیگر تکنیکی، تحقیقی اور ثقافتی ادارے ان ہی کی دین ہیں۔ 

مولانا آزاد صرف ایک سیاست داں ہی نہیں تھے، بلکہ ایک صاحب طرز ادیب، بہترین صحافی اور مفسر بھی تھے۔ انھوں نے شاعری بھی کی، انشائیے بھی لکھے، سائنسی مضامین بھی تحریر کیے، علمی و تحقیقی مقالات بھی لکھے۔ قرآن کی تفسیر بھی لکھی۔ مختصر یہ کہ وہ اپنے عہد کے نہایت جینیس شخصیت کے مالک تھے، جس کا اعتراف پوری علمی دنیا کو ہے اور اسی ذہانت، لیاقت اور مجموعی خدمات کے اعتراف میں انھیں "بھارت رتن" سے نوازا گیا تھا۔ مولانا آزاد کا انتقال 2 فروری 1958 کو ہوا۔ ان کا مزار اردو بازار جامع مسجد دہلی کے احاطہ میں ہے۔

جناب مولانا مسعود عالم ندوی ( ڈائریکٹر: دار البحث والاعلام، لکھنؤ) کی نیابت کرتے ہوئے نشست کی صدارت کر رہے مفتی محمد عالمگیر ندوی (رفیقِ علمی: دار البحث والاعلام، لکھنؤ) نے قواعد فقہیہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: قواعد فقہیہ سے مراد وہ بنیادی قواعد اور اصول و ضوابط ہیں، جن سے فقہ اسلامی کے جزوی احکام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر یہ فقہی قواعد  سامنے ہوں تو بہت سے احکام کو سمجھنے میں سہولت ہو جاتی ہے۔ مزید انھوں نے ایک فقہی قاعدہ "الضرورات تبيح المحظورات" کا مآخذ، اس کی رو سے حل ہونے والے مسائل پر بڑی عمدگی سے روشنی ڈالی۔ 

نور القمر ندوی (معاون جنرل سیکرٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) نے 14/اکتوبر 2022 مطابق 17/ربیع الأول 1444ھ کو منعقد نشست کی مفصل روداد پیش کی۔ واضح رہے کہ اس علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی، لکھنؤ کے جنرل سکریٹری: مرغوب الرحمن ندوی نے کی۔ سوال وجواب اور تأثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔

 دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا  


بقلم: مرزا ریحان بیگ

(سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ)

                                                                21/10/2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...