ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کے انسائکلو پیڈیا ’’الوفاء باسماء النساء‘‘ پر علمی مذاکرہ کا انعقاد
رپورٹ: محمد صادر ندوی
(اسکالر ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی ،علی گڑھ)
گزشتہ روز مؤرخہ 14؍جولائی 2021 ادارہ میں معروف محقق ومصنف ڈاکٹر محمد اکرم ندوی آکسفورڈ کی مشہور ِ زمانہ موسوعہ ’’الوفاباسماء النساء‘‘ کے تعارف وتجزیہ پر علمی مذاکرہ منعقد ہوا۔ یہ انسائکلو پیڈیا ۴۳ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس میں امہات المؤمنین اور صحابیات کے دور سے لےکر پندرہویں صدی ہجری تک کی خواتین اسلام کی حدیثی خدمات اور حدیث نبوی سے کسی بھی ناحیہ سے ان کے شغف واشتغال کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ انسائکلو پیڈیا مؤلف محترم کا عظیم کارنامہ ہے۔ مؤلف محترم اس کی تالیف پر پوری ملت اسلامیہ کی جانب سے شکریہ کے مستحق ہیں۔
پروگرام کا آغاز محمدصادر ندوی کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ سکریٹری ادارہ نے تمہیدی کلمات میں مذاکرہ کے انعقاد کے اغراض ومقاصد بیان کیے۔ اس کے بعد ادارہ تحقیق وتصنیف اسلامی کے کار گزار صدر ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے مصنف کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ’’جب میں ندوہ میں تھا تبھی سے ان سے ہمارے گہرے تعلقات ہیں، ایک مرتبہ ہم نے ایک جگہ بیٹھ کر مختلف موضوعات کی لمبی فہرست بنائی کہ مستقبل میں ان موضوعات پہ کام کریں گے، اللہ تعالی نے مؤلف کے لیے ایسے مواقع میسر کیے کہ ان کے لیے یہ عظیم کام کرنا ممکن ہوا، ان کی ایک دلچسپ کتاب’’ ندوہ کا ایک دن‘‘جب انگلش میں ترجمہ ہوئی تو یورپ میں اسے بے حد مقبولیت حاصل ہوئی، اس کے علاوہ انھوں نے ہندوستان کی مختلف شخصیات کی اسانید کو مرتب کیاہے، فقہ پر بھی ان کی عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں گراں قدر تحریریں ہیں۔ مزید کہا کہ’’میری معلومات کے مطابق اب تک اس انسائکلو پیڈیا پر چار پانچ پرو گرام ہوچکے ہیں، لیکن ان تمام پروگراموں میں اس ادارے کے پروگرام کی خصوصیت یہ ہے کہ اب تک صرف تعارف اور تعریف کے پروگرامز ہوئے ہیں لیکن آج کا یہ پروگرام تعارف اور تجزیہ دونوں پر مشتمل ہے‘‘۔
انسائکلو پیڈیا کا سبب تالیف ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کا پس منظر یہ ہے کہ لندن میں ایک یہودی مستشرق نے نوے کی دہائی میں The Times میں ایک مضمون لکھا جس میں انھوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اسلام نے عورتوں کو تعلیمی میدان میں پیچھے رکھاہے، دیگر مذاہب کی طرح اسلام نے انھیں آزادی نہیں دی ہے۔ اسی کے جواب میں یہ انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا گیا ہے۔ اس پس منظر کو جب سامنے رکھا جائے تو اس کی غیر معمولی اہمیت کا صحیح اندازہ ہوتاہے۔
محترم ڈاکٹر ندوی کی گفتگو کے بعدرکن ادارہ محمد انس مدنی نے انسائکلو پیڈیا کی پہلی جلد پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے اس کے مشمولات کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ جلد مقدمہ، تقریظ، تمہید اور خاتمہ کے ساتھ دس ابواب پر مشتمل ہے۔ اس میں مؤلف محترم نے خواتین کی علمی سرگرمیوں، تعلیم کی آزادی، حدیث نبوی ﷺ میں ان کے اشتغال ،دلچسپی اور نمایاں خدمات کا خوب صورت تذکرہ اور احاطہ کیا ہے۔ اس کے بعد اسکالر ادارہ محمد صادر ندوی نے جلد ۲تا۱۴ جو امھات المومنین، صحابیات، تابعیات اور دوسری صدی ہجری کی خواتین کی حدیثی خدمات کے تذکرہ پر مشتل ہے اس کا تعارف اور تجزیہ پیش کیا۔ انسائکلو پیڈیا کا منہج بیان کرنے بعد محمد صادر ندوی نے کہا کہ اس میں مؤلف نے حدیث سے شغف رکھنے والی کئی خواتین کا تذکرہ دو دوجگہ کیا ہے، ایک جگہ نام کے ساتھ اور دوسری جگہ کنیت کے ساتھ، اسی طرح جگہ جگہ طویل فقہی مباحث ہیں جن کی وجہ سے ضخامت بڑھ گئی ہے۔
انسائکلو پیڈیا کی جلد ۱۵ تا ۱۹ جو تیسری، چوتھی پانچویں اور چھٹی صدی ہجری پر مشتمل ہے۔ اس کا تعارف وتجزیہ انوارسلیم ندوی نے پیش کیا۔ انھوں نے اس کے غیر ضروری طوالت کاتذکرہ کیا نیز اس کے نام پر بھی تبصرہ کیا۔ محمد طارق بدایونی نے ساتویں ہجری کے تذکرہ پر مشتمل جلد ۲۰ تا ۲۴ کا تعارف پیش کیا، انھوں اس عہد کی مشہور خواتین کے ناموں اور کاموں کا ذکر کے ساتھ انسائکلو پیڈیا کی خصوصیات کا بھی ذکر کیا۔ بعد ازیں محمد اشہد فلاحی نے آٹھویں صدی ہجری کی خواتین کے تذکرہ پر مشتمل جلدیں ۲۵ تا ۳۳ کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد شارق نسیم نے نویں صدی ہجری کی خواتین کے ناموں اور کاموں کے تذکرہ پر مشتمل جلد ۳۴ تا ۳۹ کا جامع تعارف کے ساتھ اس انسائکلو پیڈیا پر اپنے ملاحظات بھی پیش کیے۔ انھوں نے کہا کہ اس انسائکلو پیڈیا میں جن خواتین کا تذکرہ نام اور کنیت کے ساتھ دو جگہ الگ الگ مقام پر آیا ہے وہاں جلد اور صفحہ کی تعین نہیں کی گئی ہے۔ ’’کما تقدم ‘‘ کہہ کر آگے بڑھ گئے ہیں۔ اگر جلد اور صفحہ کا تذکرہ کیا جاتا تو زیادہ بہتر تھا۔
عبید اللہ فلاحی نے دسویں ،گیارہویں ،بارہویں اور تیرہویں صدی کی خواتین کے تذکرہ پر مشمل جلد ۴۰ تا ۴۱ کا تعارف پیش کیا اور ان عہد کی مشہور محدثات کے نام اور کاموں کا تذکرہ کیا۔
اس کے بعد سینئر رکن ادارہ مولانا محمد جرجیس کریمی نے جلد ۴۲ جو چوہویں صدی کی محدثات خواتین کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ اس کا تعارف و تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں۲۷۶ خواتین کے ناموں اور کاموں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ البتہ اس میں متعدد ایسی خواتین کے نام ہیں جن کی حدیث سے اشتغال و شغف کی کوئی نسبت نظر نہیں آتی۔
اس جلد میں ہند وپاک، سعودی عرب، عراق، مصر، یمن، الجزائر، شام اور انڈونیشیا کی خواتین کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس میں ۲۹ برصغیر ہندو پاک کی خواتین کا تذکرہ شامل ہے۔ مولانا محترم نے کہا کہ یہ انسائکلو پیڈیا بلاشبہ مؤلف محترم کا عظیم کارنامہ ہے، اس میں اعلام نگاری کے اصولوں کی پوری پابندی کی گئی ہے اور صاحب تذکرہ کے نام، نسب، تاریخ پیدائش، وفات، تعلیمی تفصیلات اور اساتذہ کے حالات کو ضبط تحریر میں لانے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ مولانا نے مزید کہاکہ یہ انسائکلو پیڈیا خزانۃ العلوم ہے اور آئند ہ اس سے خواتین کی علمی خدمات کے بارے میں تحقیقات کی راہ ہموار ہوگی۔
اس کے بعد رکن ادارہ مولانا محمد کمال اختر قاسمی نے عہد حاضر کی خواتین کے تذکرہ پر مشتمل آخری جلد (۴۳)کا تعارف وتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ۶۱۳ محدثات کے نام درج ہیں۔ جن میں سے بعض وہ خواتین ہیں جن کے گراں قدر علمی کارنامے ہیں۔ بعض خواتین کی ولادت، سیاسی جد وجہد اور وفات کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے، مثال کے طور پر خدرج بنت ھاشم العلوی رحمھا اللہ کے تذکرہ میں صرف ان کی تحریکی جد وجہد کا ذکر ہے۔ حدیث نبوی ﷺ سے اشتغال کے تعلق سے کچھ بھی معلومات نہیں ملتی ہیں۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ اس انسائکلو پیڈیا میں علمی خواتین کا عمدہ تعارف پیش کیا گیا ہے۔ تعلیم یافتہ اور تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے تعارف پر مشتمل یہ گراں قدر علمی اور دستاویزی سرمایہ ہے۔
مہمان خصوصی مدیر زندگی نو ڈاکٹر محی الدین غازی نے اس علمی مذاکرہ کے انعقاد پر خوشی کا اظہا ر کیا اور شرکائے مذاکرہ کو مبارکباد دی۔ ڈاکٹر غازی نے اپنی گفتگو پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر زمانے کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، موجودہ دور میں نمبر اور تعداد کو بڑی اہمیت حاصل ہے، اگر ہم یہ کہیں کہ اسلامی تاریخ میں ایک بڑی تعداد میں خواتین نے علمی ودینی خدمات انجام دی ہیں تو ہماری بات کا کوئی وزن نہیں رہتا، لیکن اس کے بجائے اگر یہ کہیں کہ فی الحال تو دس ہزار کا مجموعی تذکرہ میرے پاس موجود ہے باقی ان کے علاوہ کتنی ہیں اس کا پتا نہیں، تو اس بات سے سامع پر گہرا اثر پڑتا ہے، اس لحاظ سے یہ کتاب اہمیت کی حامل ہے، البتہ ہمیں خوش گمانی میں مبتلا ہو نے کے بجائے تاریخ کا گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے، ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے دور میں اور پیچھے کے ادوار میں خواتین کی علمی کارکردگی کے لحاظ سے کیا فرق ہے؟ ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کے بارے میں کہاجاتاہے کہ ان دو صدیوں میں کوئی ایسا محدث نہیں ہے جن کے شیوخ میں کوئی عورت نہ ہو۔ پروگرام میں پیش کیے گیے مقالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تنقید کے سلسلے میں دو باتیں اہم ہیں۔ اول یہ کہ تنقید تحقیق اور حوالوں کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اس معیار پر آپ کے مقالات پورے اترتے ہیں، البتہ دوسرے پہلو پر بھی توجہ ہونی چاہیے یعنی زبان کو بھی شگفتہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد صدر مجلس پر وفیسر محمد سعود عالم قاسمی (ڈین آف سنی تھیالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے اپنے صدارتی کلمات میں اس اہم علمی مذاکرے کے انعقاد پر ذمہ دارن ادارہ اور شرکائے مذاکرہ کو مبارکباد دی۔ پروفیسر محترم نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ ’’فن اسماء الرجال دیگر تمام مذاہب سے ممتاز ایک فن ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کے احوال کو اس انداز میں بیان کیاگیا کہ دوسرے مذاہب میں اس کی ادنی نظیر بھی نہیں ملتی، لفظ اگرچہ اسماء الرجال کا استعمال کیا جاتاہے لیکن اس فن کی کتابوں اور مسانید میں جگہ جگہ بے شمار خواتین کا تذکرہ ہے۔ ’’ الطبقات الشافعیۃ‘‘، ابوالقاسم طبرانی کی ’’ معاجم‘‘ اور ’’ طبقات ابن سعد‘‘ وغیرہ میں اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ عہد رسول اور عہد صحابہ میں خواتین، علوم کی تحصیل، احادیث کی سماعت اور نشرواشاعت میں مردوں کے شانہ بشانہ نظر آتی ہیں، وہاں ان کی آواز کا کوئی پردہ نہیں تھا، حضرت عائشہ اوردیگر امہات المؤمنین سے روایت کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد صحابۂ کرام کی ہے۔ یہ حضرات بسا اوقات ان سے ایسے مسائل میں بھی رجوع کرتے تھے جن کا تعلق شخصی اور ذاتی زندگی سے ہوتا ہے، لیکن بعد کے ادوار میں ان کی آواز کا بھی پردہ کر دیا گیا، اس طرح انھیں پچھلے ادوار کے مقابلہ میں زیادہ مواقع میسر نہیں آئے، لیکن ہمارے اس دور جدید کو ایک اہم خصوصیت حاصل ہے کہ خواتین کے لیے مستقل درسگاہیں اور یونیورسٹیز قائم ہوگئی ہیں، پچھلے زمانہ میں قرآن، حدیث اور فقہ میں ان کے تخصص کا رواج نہیں تھا جب کہ اس دور میں بے شمار جگہوں پر ان کے لیے تخصص کا نظام قائم ہوگیا ہے۔اس انسائیکلوپیڈیا کی تحسین وتوصیف کرتے ہوئے فرمایا کہ اکرم صاحب نے ایک گراں خدمت انجام دی ہے، انھوں نے پوری امت کی طرف سے ایک فرض بلکہ قرض ادا کیا ہے جس پر وہ شکریہ کے مستحق ہیں۔
![]() |
| پروگرام کا ایک منظر |
اخیر میں سکریٹری ادارہ مولانا اشہد جمال ندوی نے شرکائے مذاکرہ کو مبار ک باد دی اور مہمانان کرام کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے اسکالرس کو اپنی کتاب ’’علوم اسلامی میں خواتین کی خدمات‘‘ پیش کیں۔ پروگرام میں ادارہ کے وابستگان کے علاوہ علی گڑھ کے دیگر شائقین علم شریک ہوئے۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں