نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں


 کتابوں سے عشق کی آخری صدی! 



از قلم: حسان الدین سنبھلی


   کتاب افکاروخیالات کا وہ خوبصورت جزیرہ ہے، کہ چاروں طرف پھیلا پانی بھی جس کو موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہے ۔


   کتاب الفاظ ومعانی کا وہ ہمالہ ہے کہ جس کی پیشانی کو جھک کر آسماں بھی چومتا ہے اور کتاب ہی مثبت سوچ کا وہ باغ ہے کہ جس کی گودی میں ہزاروں خوبصورت ندیاں کھیلتی رہتی ہیں ۔


  کتاب سے عشق کا پہلا بیج خالقِ کائنات نے دنیائے انسانی میں " اقرأ وربك الأكرم " کے ذریعہ بویا تھا، جس سے فکر ونظر کے نئے پھل پھول اگے، نئ نئ تحقیقات کے لہلہاتے باغ تیار ہوے، نئ نئ ٹیکنالوجیز کے وہ چمن مہکے ،جس نے پوری کائنات کو اپنی خوشبو سے معطر کردیا، 


   اسی کتاب سے عشق نے انسان کی سوچ کو بلند فکری اور بلند پروازی کی وہ روشنی عطا کی کہ جس کے سہارے آج وہ مریخ پر کمندیں ڈال رہا ہے، چاند کی زمین پراپنا محل قائم کیے ہوے ہے ، ظاہر ہے کہ اسی کتاب میں مذکور خیال کی طاقت نے انسان کو زمین سے آسمان میں اڑادیا، وہاں کی فضاوں میں جینا سکھادیا، وہاں کی زلفوں میں آباد کردیا ۔۔


   اب کتابوں سے عشق کی یہ آخری صدی ہے ،اب ساری عظمتیں ساری محبتیں صرف موبائیل اور ٹی وی کے گرد طواف کررہی ہیں ، اور اسی کے لئے سعی بھی، آج موبائیل کی اسکرین پر جگمگاتے ایپس نے انسانوں کے لئے کتاب کے دروازے بند کردیے، اب ان کے یہاں کتاب سے محبت کی ساری دیواریں منہدم ہوچکی ہیں، اور اس سے شوق و دلچسپی کے سارے محل پیوند خاک ہوچکے ہیں ۔


   کاش اس موبائل اور ٹی وی کے ہاتھوں برباد ہونے والے لوگوں کو کوئی صدا لگائے، کہ کتاب کے مطالعہ کا مطلب " تاریخ کے اعلی انسان کی صحبت میں بیٹھنا اور ان سے تبادلہ خیال کرنا ہے اور اپنے ذہنی ارتقاء (intellectual development) کاسامان کرنا ہے " انسان کی منزل " -6- 


   جبکہ موبائیل اور ٹی وی اسکرین کا مطالعہ انہیں صرف تاریخ کے اعلی انسانوں کی صحبتوں سے محروم کردے گا، اور ان کے ذہنی ارتقاء کو جمود اور تعطل کے صحرا میں گم کردے گا ۔

       

کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی


فائل فوٹو

      

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...