نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی!

 




 محبت کے نام پر مرمٹنے والوں کے افسانے آپ نے بہت سنے ہونگے ، محبوب کی راہ میں جان کے نذرانے پیش کرنے والوں کی داستانیں آپ کی سماعت سے ٹکرائیں ہونگی، 

محبت محبت کے جھوٹے قصیدوں کے راگ الاپنے والے بھی آپ کو قدم قدم پر نظر آئے ہونگے ، لیکن سچ پوچھیں تو یہ کتابوں کے اوراق میں مدفون وہ محبتیں ہیں جو صرف زیب داستاں کے لئے گڑھی گئ تھیں ،یا سیریل اور ڈراموں میں دکھائیں جانے والی وہ محبتیں جس کا اثر صبح آفتاب کی روشنی کے ساتھ ظاہر ہو اور پھر شام ڈھلتے ہی اسی محبت کا سورج غروب ہو جائے، جو صبح کی بہاروں کے ساتھ رقصاں نظر آئے، اور شام کو اندھیروں کے سمندر میں ڈوبتی دکھائ دے، لیکن خدا کی قسم وہ پاک وپاکیزہ محبت جو دنیا نے حضرت ابراہیمؑ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روپ میں دیکھی جو صبح کی چمک کے ساتھ ابھری اور دیکھتے ہی دیکھتے جس نے ذروں کو چمکاکر رکھ دیا، گویا زمین سے آسمان تک ہر چیز روشنی میں نہا رہی ہو، ایک ایک گوشہ ستاروں کی طرح جگمگارہا ہو، 

یہاں تو محبتوں کی موجیں لے ڈوبتی ہیں، لیکن وہاں محبت کے پاکیزہ جذبات اور خلوص کے رنگ میں ڈوبے ہوئے احساسات کی موجوں نےتو رب تک راستہ بناڈالا ، یہاں محبت تو بس اس ریت کی مانند ہوتی ہے جو ہر لمحہ ہاتھ سے پھسلتی جارہی ہے ،لیکن وہاں محبت تو اس براق کی طرح معلوم ہورہی ہے جو ہر لمحہ رب سے ملاقات کے لئے فضا میں اڑان بھرتی نظر آرہی ہے، یہاں تو محبت کی بہاروں کو خزاں کے موسم کی نظر لگ جاتی ہے ،لیکن وہاں تو بس محبت کا انداز اس چمن کا ہے جو کھلتے پھول مہکتی کلیوں کے ساتھ فضا کے اندر خوشبو بکھیرنے میں مصروف ہو،

ذرا تصور کریں ارمانوں سے مانگی ہوئ اولاد برسہا برس کی نالہ نیم شبی اور آہ وگریہ وزاری کے بعد خدا نے حضرت ابراہیم کو حضرت اسماعیل عطا کیا، لیکن حضرت اسماعیل جب تیرہ برس کی عمر کو پہنچے ،تو خدا نے کہا کہ اب اسے میرے نام پہ قربان کرنے کے لئے تیار ہوجاؤ، تیرہ برس کی عمر کا وہ پھول جو ابھی صحیح سے کھل کر مسکرابھی نہ سکا تھااور ناہی اپنی لطافت کی دادپاسکاتھا ، جسے ابھی اپنے آرزوؤں کا محل تعمیر کرنا تھا، اور امیدوں کاتاج محل قائم کرناتھا، لیکن حکم ہوتا ہے کہ اپنی قیمتی چیز کو ہمارے نام پر قربان کردو، یہاں ایک طرف تو بیٹے کی محبت کا جوش تھا، دوسری طرف خدائے جل شانہ کی عظمت اور اس سے وفا احساس، لیکن عقل یہاں آکر حیران رہ جاتی ہے کہ وہ باپ کی خدائے جل شانہ سے محبت پر سر دھنے، یا بیٹے کی وفاداری یا جاں نثاری پر تعجب کرے، وہ باپ کی رب سے عشق وسرمستی پر دادا وتحسین کے کلمات کہے، کہ بیٹے کی فدائیت پر شاباشی دے، لہذا بیٹے نے بجائے اس کے کہ وہ زندگی کا سوال کرتا، عمر دراز کی دہائ دیتا، کچھ سانسیں اور مانگتا،سانسوں میں بسی اس محبت کو پورے وجود کے ساتھ رب پر قربان کرنے کے لئے راضی ہوگیا، اور موت کو یوں گلے لگانے پر مسرت کا اظہار کرنے لگا جیسے خدا نے اسے حیات دے دی ہو، اور بے چینی کے عالم میں رب کو پالینے کی جلدی کے احساس نے یہ الفاظ زبان سے نکلواےکہ " ابا جلدی کریں، اور فکر وخیال سے آزاد ہوکر جلد ہی اس خواب کو حقیقت کا لباس پہنادیں، گواہ رہیں کہ میں صبر وبرداشت کی آہنی دیوار بن کر دکھاؤں گا"، روایت میں آتاہے کہ یہ خواب حضرت ابراہیم علیہ السلام پر برابر تین دنوں تک آتا رہا، اور انبیاء کا خواب بھی وحی ہوا کرتا ہے، تفسیر ابن کثیر( ٣٥١)

اب وقت آگیا ہے کہ خواب کو تعبیر دیں، کہ یہی تعبیر خدا تک جانے کا بہترین راستہ ہے، لہذا حضرت اسماعیل کو ان کے والد نے زمین پر لٹادیا، تاکہ وہ خدا کے حکم کی تعمیل کرسکیں ۔

مفتی شفیع عثمانی صاحب رحہ نے تفسیر مظہری کے حوالہ سے یہ لکھا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس طرح لٹایا کہ پیشانی کا ایک کنارہ زمین کوچھونے لگا، اور کچھ نے یوں بیان کیا کہ اوندھے منہ لٹایا تاکہ قربان کرتے وقت کہیں باپ کی محبت میں کوئی لرزش نہ پیدا ہوجائے، ادھر خدا کی محبت سے سرشار باپ، اور ادھر وفا اور خلوص کا علمبردار بیٹا، یہ دونوں مل کر خدا کی عظمت ومحبت ،صدق وصفا، عشق وفا کے نئے صنم تراشتے نظر آرہے تھے، اب وہ لمحہ قریب ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کو ان کی وفا کا صلہ ملے، محبت کی راہ کا وہ اعلی مسافر اب منزل پہنچے ہی والا تھا کہ خدا نے خود اس کے لئے راہوں کو کھول دیا، تاکہ وہ اس کا استقبال کرسکے،اور اس کی محبت پر جشن مناسکے، اچانک ایک آواز حضرت ابراہیمؑ کے گوشہ سماعت سے ٹکراتی ہے" يآابراهيم قد صدقت الرءیا" 

اے ابراہیمؑ، اے خواب کو حقیقت کے پھول سے سجانے والے، اے محبت کو بلند مقام عطا کرنے والے، اے وفا کو بلندیوں پہ اڑانے والے، آج محبوب کو تیری محبت پہ رشک ہے، آج سے تو محبت کا امام ہے، اور آنے والی امت قیامت تک تیری اس محبت پہ نثار ہوتی رہے گی ، اورتیری اس پاکیزہ سنت کو اپنے سینے سے لگاکر رکھے گی ۔

خدا کی عظمت اور فنائیت سے معمور جس وجود نے جب خون کے آخری قطرہ سے محبت نچوڑ کر رکھ دی، تو خدا کو ان کے نثار پر پیار آیا، اور ان کی قربانی قبول فرمائ، اور اس کے بدلہ جنت سے ایک مینڈھا بھیجا تاکہ وہ خدا کی راہ میں قربان کردیا جائے ۔جسے قرآن نے "ذبح عظيم " سے یاد کیا ہے ۔ یاد رکھیں ضروری نہیں کہ محبوب کی راہ میں جان قربان کرنے سے ہی آپ کانام مرمٹنے والوں میں شمار ہو بلکہ سچا جذبہ اور خلوص کی سرحدوں کو چھوتا عمل بھی آپ کو جان فداکرنے والوں سے زیادہ بلند مقام عطاکرسکتا ہے ،اس آیت میں دیکھیں کہ حضرت ابراہیم کا وہ لافانی جذبہ اور خلوص و محبت کے دریا میں نہاتے عمل نے ان کو کیسی بلندی نصیب کی، اور ان کو کس طرح اوج ثریا پہ پہنچادیا ۔۔


محبت انسان کو امامت کا درجہ عطا کرتی ہے، وہ محبت نہیں جو صرف الفاظ کا قطب مینار تعمیر کرے ، بلکہ وہ محبت جس میں ایمان ویقین کی وہ بجلیاں ہوں جو شک وارتیاب کے نشیمن کو جلاکر خاکستر کرڈالے، وہ محبت جو وفا اور عزم کا ایسا سورج روشن کرے جو بے وفائی اور بے ثباتی کے اندھیروں کو نگل لے، وہ محبت جو صبر وثبات کی ایسی شاہراہ پر قائم ہو کہ کوئی طوفان بھی اس کو ہلا نہ سکے،

 حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہی وہ یقیں محکم اور عمل پیہم تھا جو "محبت فاتح عالم "کا سبب بنا، جس محبت نے انہیں تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ وجاوید بنادیا ۔۔۔


          حسان الدین سنبھلی!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...