نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آن لائن اجتماع بعنوان "اسلام میں خواتین کے حقوق" کا انعقاد


جناب مولانا سید توحید عالم صاحب ندوی حفظہ اللہ

 اسلام میں خواتین کے حقوق، ہندوستان میں خواتین اسلام کے خلاف  شدت پسند تنظیموں کا پروپیگنڈہ اور ان سے بچنے کی تدابیر کے موضوع پر خواتین اسلام کا ایک آن لائن اجتماع منعقد کیا گیا۔

جناب مولانا سید توحید عالم صاحب ندوی  زید مجدہم نے اس آن لائن اجتماع سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے فرمایا، کہ اسلام نے عورتوں کو بلند مرتبہ عطا کیا ہے، اسلام مساوات کے ساتھ عدل اور انصاف کا قائل ہے۔ دنیا کے موجودہ مذاہب میں صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو خواتین کو ان کے شایان شان مرتبہ عطا کرتا ہے۔ بقیہ تمام اقوام و ملل نے آزادئ نسواں کے نام پر  خواتین کا استحصال کیا ہے۔ مولانا نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں مدلل گفتگو کرتے ہوئے خواتین اسلام کی عظمت و مرتبت کو واضح فرمایا۔
مولانا نے دین اسلام کے اندر خواتین سے حسن سلوک، حسن معاشرت، حجاب، اور طلاق جیسے اہم موضوعات پر مفصل اور تشفی بخش خطاب فرمایا۔

ملک ہندوستان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ اس ملک کی شدت پسند تنظیموں نے مسلم خواتین کے خلاف باقاعدہ مورچہ کھول رکھا ہے، اور مسلم خواتین کو جھانسہ دے کر بے آبرو کر نا ان کی عزت کو پامال کرنا انھوں نے اپنا مشن بنا رکھا ہے ، اس کے لئے باقاعدہ اپنے کارندوں کو آمادہ کرتے ہیں اور انھیں مالی تعاون فراہم کرنے کا نظام بھی بنایا ہے۔ بطور خاص اسکول اور کالج میں زیر تعلیم مسلم بچیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

فکر آخرت، خدا کا خوف اور مناسب تدابیر اختیار کرنا ہی ایسی چیز ہے جو ہمیں ان کے جال سے بچا سکتی ہے۔
جدید ذرائع ابلاغ کا درست استعمال، بطور خاص موبائل کے مفاسد سے اپنے آپ کو بچانا، غیروں کے اختلاط سے حتی الوسع پرہیز کرنا، غیروں سے نرم لہجے میں بات نہ کرنا، زیورات اور زیبائش و آرائش کو غیروں کے سامنے پیش کرنے سے بچنا۔ اسلامی حجاب استعمال کرنا۔ یہ ایسی تدابیر ہیں جو اختیار کی جانی چاہئے۔
  گارجین بطور خاص اپنے بچوں پر نہ صرف یہ کہ گہری نگاہ رکھیں بلکہ ان کی دینی تربیت کا بھی بھرپور نظم کریں۔

اپنے علاقہ کے دینی اجتماعات، درس قرآن اور دیگر دینی مجالس میں شرکت پر بھی زور دیا اور فرمایا کہ اگر  اجتماعات نہ ہو رہے ہوں تو اس کے شروع کرنے کی فکر ہو، آن لائن دینی اجتماعات میں بھی شرکت ہو۔

اچھی صحبت کا خصوصی اہتمام ہو، گارجین اپنے بچے بچیوں کے لئے نیک اور اچھے دوستوں اور سہیلیوں سے تعلق پر زور دیں۔
دینی کتب کا مطالعہ ، گھر میں روزانہ تعلیم کی نششت، دینی کتابوں کی فراہمی بھی تربیت کے اہم ذرائع ہیں، اس  کے لئے دین کی بنیادی اور آسان کتابوں سے شروعات کی جا سکتی ہے۔
چند کتابیں جن کا ذکر مولانا نے دوران خطاب فرمایا وہ درج ذیل ہیں:

1_ قرآن آپ سے کیا کہتا ہے؟: مولانا منظور نعمانی رح

2_ اسلام کیا ہے: مولانا منظور نعمانی رح

3_ پردہ: مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رح

4_ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم

5 در یتیم: ماہر القادری رح

6_ سیرت رسول اکرم: علی میاں ندوی رح

7_ اسلامی تہذیب کے درخشاں پہلو: مصطفی سباعی

8_ معارف الحدیث: مولانا منظور نعمانی

منظم دینی تعلیم کے لئے دینی درسگاہ یا آن لائن دینیات کورس کی جانب بھی توجہ دی جانی چاہئے،  اخیر میں ایک آن لائن دینیات کورس کا تعارف بھی کرایا گیا تاکہ خواہشمند بچیاں اس کورس سے بھی فائدہ اٹھا سکیں، مزید تفصیلات کے لئے مذکورہ نمبرات پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: 
8294062280
7464906990
8429608952
8707654833


فائل فوٹو


واضح رہے کہ اس موقع پر آن لائن دینیات کورس کی طالبات و معلمات و معلمین کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے بطور خاص لکھنؤ، نیپال، بنگلور اور بھوپال سے خواتین کی بڑی تعداد نے اس آن لائن خطاب سے فائدہ اٹھایا، اور مزید اس طرح کے دینی پروگرام کرائے جانے کی درخواست کی۔ مولانا نے خواتین اسلام کے شوق و جذبہ کے پیش نظر مزید اس طرح کے پروگرام کی یقین دہانی کرائی، اور آئندہ پروگراموں میں زیادہ تعداد میں شریک ہونے اور دوسری خواتین کو شریک کرنے کی جانب توجہ دلائی۔ موصوف کی دعاء کے ساتھ اس آن لائن میٹنگ کا اختتام ہوا۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...