نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زندہ ادب زندہ شعور کی علامت ہے: دانش اقبال ندوی

مدرسہ تفہیم الاسلام میں ادبی نشست کا انعقاد

رپورٹنگ: سعود اشر


تعلیمی و سماجی بیداری مہم" سیمانچل، بہار اور "ٹی. کے. این نیوز"( دی خبر و نظر) " کے زیر اہتمام ایک دلچسپ ادبی نشست کا انعقاد مدرسہ تفہیم الاسلام بھکھری (پورنیہ) میں کیا گیا۔

چند لمحے نو واردان ادب کے ساتھ کے عنوان پر منعقد اس نشست کی نظامت کرتے ہوئے محمد دانش اقبال ندوی (ایم ایڈ) نے کہا کہ زندہ ادب زندہ شعور کی علامت ہے، بغیر تربیت کے یہ شعور پیدا نہیں ہوتا.

 ناظم جلسہ نے مزید کہاکہ آ ج کی اس ادبی نشست کا مقصد نوواردان ادب کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کو منظم رکھنا اور ان کی تخلیقات: نظم و نثر دونوں کو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنا ہے۔

مہمانِ خصوصی ماسٹر محمد ناظم صاحب نے اپنی گفتگو میں نوواردان ادب کی حوصلہ افزائی کی، انھوں نے کہاکہ ادب کے تئیں بیداری لانا ہم سب کی زمہ داری ہے۔ ادب سے وابستگی کا مطلب ہے کہ اُردو زبان وادب کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں استعمال میں لائیں۔

علاقے کے مشہور مغنی جناب دانش قمر راہی ندوی نے نعتیہ کلام پیش کر کے سامعین کرام کے سامنے یکے از نوواردان ادب ہونے کا ثبوت پیش کیا۔

شاعر ظفر امام نے نوواردان ادب کی تعریف میں ایک خوبصورت غزل گنگناکر ان میں خدمت دین و ادب کا جوش بھردیا.

ضلع میڈیا کے انچارج محمد دلنواز نے موجودہ سیاست پر مترنم آواز میں نظم پیش کی۔

تعلیمی وسماجی بیداری مہم کے ممبر محمد محتسن نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

محمود عالم ندوی (صدر: ادھکیلی پیکس) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ زبان وادب کو پڑھیں، لکھیں، سمجھیں اور اس کے لیے ہرممکن کوشش کریں. 

چاکدہ سے تشریف لائے شاہنواز عالم اور سوتی ڈگروا سے محمد دانش نے پروگرام میں شرکت پر مسرت کا اظہار کیا۔

عائشہ اکیڈمی کے پرنسپل حافظ محمد اصغر نے بھی اپنی حاضری سے محفل کی رونق بڑھائی۔

صدارت کے فرائض انجام دئیے مدرسہ تفہیم الاسلام بھکھری کے مہتمم جناب مولانا شہاب الدین صاحب قاسمی نے۔ صدر محترم نے اس طرح کی نشستوں کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی اور منتظمین کی حوصلہ افزائی کی. 

نشست کے کنوینر سعود اشعر نے اخیر میں تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ 

اس موقع پر مشرف عالم صاحب (سکریٹری مدرسہ)، حافظ محمد جہانگیر عالم، مولانا محمد مرسلین، ماسٹر محمود عالم ، حافظ مغفور عالم، جناب مولانا غلام محمد صاحب کے علاو ہ درجنوں سامعین شریکِ بزمِ تھے، شاہجہاں مطلوب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے نشست کا آغاز ہوا اور دعائے ماثورہ پر نشست اختتام پذیر ہوئی۔

رپورٹ:سعود اشعر (دی خبر و نظر)

17-08-2021

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...