نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

طویل المیعاد منصوبے پر کام کرنے کےلیے اغراض و مقاصد کی وضاحت لازمی: شرکائے نشست

گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا کا قیام اور اس کا استحکام وقت کی ضرورت: قمر الزماں ندوی

مؤرخہ 30/ مارچ 2022ء بروز: بدھ بعد نماز مغرب، دار البحث والاعلام، لکھنؤ کے آفس میں ایک مذاکراتی نشست منعقد ہوئی، جس میں اس پلیٹ فارم سے وابستہ اسکالرز نے شرکت کی۔ گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا کے اغراض و مقاصد کی توضیح و تشریح پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے تمام شرکاء نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔

شمس تبریز ندوی (اسکالر شعبۂ بین الاقوامی تعلقات، جامعہ ملیہ اسلامیہ و ممبر ایڈوائزری بورڈ آف گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا) نے کہا کہ ہم لوگ مقاصد کے سلسلے میں جب خود تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں تو دوسروں کو سمجھانے سے بھی قاصر رہ جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کسی ادارے کے مقاصد واضح اور تحریری شکل میں موجود نہ ہوں تو اس میں دوسرے افراد الگ نظریہ شامل کرکے اس پورے ادارے کو یا تو ختم کردیتے ہیں یا پھر اسے ہائی جیک کرلیتے ہیں۔ اس لیے ادارے کی بقاء و ارتقاء کے لیے مقصد کی وضاحت ناگزیر ہے۔

قمر الزماں ندوی (لکچرار: جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات، ندوہ روڈ، لکھنؤ) نے کہا کہ گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا کے تین بنیادی مقاصد ہیں: (1) ایک پلیٹ فارم پر الگ الگ صلاحیتوں کے حامل افراد کو جمع کرنا، کہ یہ بجائے خود ایک مقصد ہے (2) ان تمام افراد کے ساتھ مل کر ایک واضح مقصد اور نظریہ (امن و سلامتی، تعلیم و تربیت، ملازمت کے حصول اور رفاہ و فلاح وغیرہ) کےلیے کام کرنا (3) الگ الگ میدانوں میں تخصص پیدا کرنے اور اپنی خدمات پیش کرنے کےلیے طلبۂ و اسکالرز کی رہنمائی کرنا اور ان کےلیے وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا۔

اسامہ طیب ندوی (اسکالر: دار البحث والاعلام، لکھنؤ و ممبر: گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا) نے مذکورہ مقاصد کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جلد از جلد ان مقاصد کو تحریری شکل میں مرتب کیا جانا چاہیے تاکہ اس اکیڈمک فورم کے پیغامات کی ترسیل اور ہم خیال طلبہ و اسکالرز کو فورم سے قریب کرنے میں آسانی ہو۔ مذاکرہ میں ایس ایم حسینی اور سعید الرحمن ندوی کی رائے سے بھی استفادہ کیا گیا۔ 

مذاکرۂ علمی کے صدر مولانا مسعود عالم ندوی (ڈایریکٹر: دار البحث والاعلام، لکھنؤ و فاؤنڈر: گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا) نے تمام اسکالرز اور گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا کے جملہ ممبران کے تئیں اپنی قدر دانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شاءاللہ جلد ہی گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا کے اغراض و مقاصد، خدمات اور عزائم پر مشتمل تعارفی فولڈر شائع کیاجائے گا، جس سے سرگرمیوں کو ارتکاز حاصل ہوگا اور کام کو تقویت ملے گی ان شاء اللہ۔

واضح رہے کہ اس موقع پر اسکالرز کو اللقاء الثقافی، لکھنؤ (زیر انتظام: دار البحث والاعلام، لکھنؤ) کے تحت حسب کارکردگی سرٹیفیکیٹ سے بھی نوازا گیا۔ اس نشست میں اسامہ طیب ندوی، قمر الزماں ندوی، سعید الرحمن ندوی، شمس تبریز ندوی، ایس ایم حسینی، سالم برجیس ندوی، غازی مصطفی ندوی، مرغوب الرحمن ندوی، نور القمر ندوی اور شہباز احمد ودیگر شریک تھے۔

دعاء اور کلماتِ تشکر پر نشست کا اختتام ہوا۔

🖋

سالم برجیس ندوی

(اسکالر ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی، علی گڑھ

ممبر گلوبل اکیڈمک فورم، انڈیا)

30/مارچ2022

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...