نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قرآن کریم سے اپنی زندگی کو بابرکت بنائیں:مولانا غالب اسراری ندوی

مولانا غالب اسراری ندوی: فائل فوٹو

بیان بموقع تکمیل قرآن  فی التراویح حافظہ  صالحہ تبسم  مؤمناتی

الحمد للّٰہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین، اما بعد!

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ (الحجر - 9) وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :حامل القرآن حامل راية الاسلام۔

معزز خواتین!

 انتہائی خوشی اور مسرت کی بات ہے آپ کے گاؤں کی بیٹی / پوتی/ نواسی نے اللہ کی آخری کتاب کو مکمل تراویح میں سنایا۔

بچوں میں حفظ قرآن کا رجحان پایا جاتا ہے، لیکن بچیاں بھی قرآن کی حافظہ ہوں یہ مزاج اس علاقے میں اور زمانہ میں بالکل نایاب ہے۔اگر بچیوں کا حافظہ ٹھیک ہو تو عمر کی رعایت کرتے ہوئے قرآن پاک حفظ کرایا جانا چاہیئے ۔

اللہ نے نبیوں کے امام جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت پر تیئس سال کی مدت میں نازل کیا، یہ کتاب لوح محفوظ میں تھا ، اللہ تعالیٰ نے وہاں سے اس قرآن کو آسمان دنیا پر لیلۃ القدر میں نازل فرمایا، یہ ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، تراسی برس چار ماہ ہوتے ہیں۔ اگر اس رات عبادت کی توفیق مل گئی تو وہ کتنا خوش قسمت ہوگا۔

یہ فضیلت نزول قرآن کی وجہ سے ہے۔یہ رمضان کا بابرکت مہینہ ہے، اس مہینہ کے بارہ میں کہا گیا کہ پہلا عشرہ رحمت ہے۔ دوسرا عشرہ مغفرت ہے اور اس کا آخری عشرہ جہنم سے خلاصی کا ہے۔اس مہینہ کی آمد پرجنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بندی کر دئے جاتے ہیں ۔تو یہ تمام برکتیں قرآن کی وجہ سے ہیں، جس رات قرآن نازل ہوئی وہ رات بابرکت ہو گئی۔ جس ماہ میں قرآن نازل ہوا وہ مہینہ بابرکت ہو گیا۔اس کے ساتھ  اس ماہ مبارک میں مؤمن کے  رزق مین  بھی وسعت پیدا کر دی جاتی ہے۔

معزز خواتین!

جب آپ قرآن کا مطالعہ کریں گی، اس کو سمجھیں گی، اس پر عمل کریں گی تو آپ کی زندگی بھی بابرکت ہو جائے گی۔ قرآن سے وابستگی میں عزت ہے، اور قرآن کو چھوڑنے میں ذلت ہے۔

وہ معزز تھے زمانہ میں مسلمان ہو کر

آج ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر

جب مسلمانوں نے قرآن سے اپنا رستہ مضبوط کیا تو اللہ نے مسلمانوں کو عزت عطا کی۔

اللہ نے ایک جگہ فرمایا :یسئلونک عن الروح ، قل الروح من امر ربی، اس آیت میں ایک امر سے انسان مین زندگی آگئی، تو اللہ کے تمام احکامات کی پابندی ہو جائے تو کیا ہی شاندار زندگی ہوگی اس کی یہ تو قرآن کو زندگی میں لا کر ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔جن کی زندگی میں قرآن ہے وہ اس کو محسوس کرتے ہیں۔جس کو قرآن کی دولت مل جائے اور اس کے مقابلہ میں کسی اور چیز کو اس دولت سے بہتر سمجھے گویا ہو قرآن کی تحقیر کر رہا ہے۔

قرآن صرف دیکھ کر پڑھ لینا، یا اس کو یاد کر لینا کافی نہیں، بلکہ ان دونوں کے ساتھ قرآنی پیغامات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کیونکہ یہ ہدایت والی کتاب ہے، تو اللہ نے ہمارے لئے کیا ہدایات نازل فرمائی ہیں ان کو جاننا اہم ہے، اس سے ہماری زندگی سنورے  جائےگی۔ بلاشبہ صرف تلاوت بھی عبادت ہے، ہر ہر حرف پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں، لیکن قرآن کو سمجھ کر تلاوت کرنا اس بھی زیادہ اہم اور اصل مقصد ہے۔اگر کوئی سمجھ کر پڑھے گا، عربی کو سیکھے گا تاکہ قرآن کو سمجھ سکے تو وہ اللہ کی جانب سے ہدایت پر ہوگا اور گمراہ نہیں ہوگا، اور اللہ کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی گزار رہا ہوگا۔

قرآن شریف کا حفظ کرنا بڑی اعزاز کی بات ہے۔ قیامت کے دن اللہ قرآن کے حافظ اور حافظہ سے کہے گا کہ قرآن کو پڑھتا جا اور جنت کے منازل طے کرتا جا، اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسا کہ تو دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ تو یہ بڑی فضیلت ہے کہ جنت کے منازل کو طے کریں گے۔ اللہ تعالیٰ حافظ قرآن کوایسے سرخ جوڑے عطا فرمائیں گے کہ اس جوڑے کی قیمت پوری دنیا کے لوگ مل کر ادا نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ حافظ قرآن سے کہیں گے انتم وعاء کلامی: تم میرے کلام کے برتن ہو، تم نے اپنے سینے میں اس خیر کو جمع کیا ہے جوانبیا کرام علیہم السلام جمع کیا کرتے تھے۔ تم نے نبیوں والا کام کیا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ ان کے پاس وحی آتی تھی اور تم نے محنت سے اپنے دلوں میں میری باتوں کو جمع کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس حافظ قرآن اور حافظہ قرآن کو دس لوگوں کی شفاعت کی اجازت مرحمت فرمائیں گے۔اللہ کے رسول نے فرمایا حافظ قرآن اسلام کے جھنڈے کو اٹھانے والے ہیں، حفظ کرنے والے بچے اور بچیاں اسلام کے پرچم اٹھانے والے ہیں۔ اب حفاظ کی ذمہ داری ہے کہ اس جھنڈے کو گرنے نہیں دینا ہے۔ اس کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے کہ جب اللہ نے یہ نعمت عطا فرمائی ہے تو اس کی حفاظت بھی اہم اور ضروری ہے۔حافظ قرآن کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی دنیا کے سورج سے بھی زیادہ چمکدار اور روشن ہوگی۔ یہ بات اللہ کے رسول ﷺ نے فرمائی۔

حفظ قرآن ایسی دولت ہے کہ دنیا کہ ساری دولت اس کے سامنے ہیچ ہے، یہ دولت حاصل کرنی چاہئے، بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کی دینی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہئے، ایک بچی جب دین کی تعلیم سے آراستہ ہوتی ہے تو اس سے پورا خاندان تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔

صالحہ تبسم اس علاقے میں پہلی بچی ہے جس نے قرآن کو حفظ کیا ہے، یہ خاندان والے اور علاقہ والوں کے لئے سعادت کی بات ہے۔ یہ خواتین کے لئے بھی سعادت کا موقع ہے کہ اب وہ بھی تراویح میں قرآن مکمل کر سکیں گی۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان کی رات میں قیام کرتا ہو اس کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ آپ سب کو خیر کثیر سے نوازے، میں آپ سب کو، اپنی بیٹی کو مبارکباد دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس سعی کو قبول فرمائے اور اللہ تعالیٰ زیادہ سے زیادہ بہتر اعمال کہ توفیق عطا فرمائے۔( آمین یا رب العالمین)

ختم قرآن کی مجلس میں دعا قبول ہوتی ہے، فرشتہ بھی اس مجلس میں شریک ہیں، آپ اللہ سے دل کھول کر دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیے، اللہ اس ملک میں عزت و وقار کی زندگی عطا فرمائے۔ دعاء فرمائیں:۔۔۔۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...