نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

استشراق: ایک تعارف👈🖋️📒

استشراق کسے کہتے ہیں؟💬

  مغرب کے اہل علم اور ارباب دانش کا مشرقی علوم و فنون، تہذیب و تمدن اور سیاست و معیشت کا وسیع مطالعہ کرنا اور ان علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنا، اس کواستشراق کہتے ہیں۔


 مستشرقین کون ہیں؟💭

 مغرب کے وہ ماہرین جنہوں نے اسلامیات کے مطالعہ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں، جو تحقیقی انہماک میں تفوق اور مشرقیات سے گہری واقفیت رکھتے ہیں، اسلامی مباحث و مسائل میں ان کی تحقیق و نظریات کو حرف آخر اور قول فیصل سمجھا جاتا ہے، ان کو ہی عام طور پر مستشرقین *(Orientalist)* کہا جاتا ہے.


 استشراق کی تاریخ:

 اس استشراق کی تاریخ بہت پرانی ہے، وہ واضح طریقے پر تیرہویں صدی مسیحی سے شروع ہوجاتی ہے.


 استشراق کے مقاصد و محرکات:

 استشراق کا بڑا مقصد مذہب عیسوی کی اشاعت و تبلیغ اور اسلام کی ایسی تصویر پیش کرنا ہے کہ مسیحیت کی برتری اور ترجیح خود بخود ثابت ہو اور نئے تعلیم یافتہ اصحاب اور نئی نسل کے لیے مسیحیت میں کشش پیدا ہو ہو، عام طور پر ان مستشرقین کا مقصد کمزوریوں کی تلاش کرنا اور اس کو دینی یا سیاسی مقاصد کے تحت نمایاں کرنا اور چمکانا ہوتا ہے۔

اس کے محرکات دینی، بھی تھے سیاسی، بھی اقتصادی، بھی تھے اور تعلیمی بھی.


  • دینی محرک:

دین اسلام کی ایسی تاریک تصویر مشرق کے نئےطبقہ کے سامنے پیش کرنا کہ وہ اسلام سے شرم کرنے لگیں اور اس کو ترک کرکے مسیحیت کو اپنائیں اور مغرب بھی کبھی اسلام کے عظیم آفاقی اور فطری پیغام کی طرف کبھی متوجہ نہ ہو. 


  • سیاسی محرک:

سیاسی محرک یہ ہے کہ یہ مستشرقین عام طور پر مشرق میں مغربی حکومتوں اور اقتدار کا ہراول دستہ رہے ہیں، مغربی حکومتوں کو علمی کمک اور رسد پہونچانا ان کا کام ہے، وہ ان مشرقی اقوام و ممالک کے رسم و رواج، طبیعت ومزاج، طریق ماند و بود اور زبان و ادب بلکہ جذبات و نفسیات کے متعلق صحیح اور تفصیلی معلومات بہم پہنچاتے ہیں تاکہ ان پر اہل مغرب کو حکومت کرنا آسان ہو ۔

اسی بنا پر مغربی حکومتوں نے مستشرقین کی اہمیت و افادیت کو پوری طرح محسوس کیا اور ان کے سربراہوں نے ان کی پوری سرپرستی کی۔


  • اقتصادی محرک:

اقتصادی محرک یہ ہے کہ بہت سے فضلاء اس کو ایک کامیاب پیشے کے طور پر اختیار کرتے ہیں، بہت سے ناشرین اس بنا پر کہ ان کتابوں کی جو مشرقیات اور اسلامیات پر لکھی جاتی ہیں، یورپ اور ایشیا میں بڑی منڈی ہے، اس کام کی ہمت افزائی اور سرپرستی کرتے ہیں اور بڑی سرعت کے ساتھ یورپ و امریکہ میں ان موضوعات پر کتابیں شائع ہوتی ہیں، جو بڑی مالی منفعت اور کاروبار کی ترقی کا ذریعہ ہیں۔ 


  • تعلیمی محرک:

مغربی نظام تعلیم و تربیت درحقیقت مشرقی اور اسلامی ممالک میں ایک گہرے اور خاموش نسل کشی کے مرادف ہے، عقلاء مغرب نےپوری نسل کو جسمانی طور پر ہلاک کرنے کے لیے فرسودہ اور بدنام طریقہ کو چھوڑ کر اس کو اپنے سانچہ میں ڈھال لینے کا فیصلہ کیا اور اس کام کےلیے جابجا تعلیمی مراکز قائم کئے، جن کو اسكولوں اور کالجوں کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے.



 مستشرقین کے کام کا میدان:

انھوں نے تاریخ عرب و اسلام، تاریخ ادبیات اسلامیہ، تاریخ ادبیات عرب، پر ایسی مقبول کتابیں تصنیف کی ہیں کہ وہ اپنے موضوع پر کتاب مقدس کی حیثیت رکھتی ہیں۔

یہی نہیں انھوں نے قرآن، سیرت نبوی،فقہ و کلام، صحابہ کرام، تابعین ائمہ مجتہدین، محدثین و فقہاء، مشائخ و صوفیہ، رواۃ حدیث، فن جرح و تعدیل، اسماء الرجال، حدیث کی حجیت، تدوین حدیث، فقہ اسلامی کے ماخذ، فقہ اسلامی کا ارتقاء؛ ان میں سے ہر موضوع کے متعلق کتابیں تصنیف کی ہیں، مستشرقین کی ان کتابوں اور تحقیقات میں اتنا تشکیکی مواد پایا جاتا ہے، جو ایک ذہین و حساس آدمی کو جو اس موضوع پر وسیع اور گہری نظر رکھتا ہو، پورے اسلام سے منحرف کر دینے کے لیے کافی ہے۔

ان مستشرقین نے ایک طرف اسلام کے دینی افکار و اقدار کی تحقیر کا کام کیا اور مسیحی مغرب کے افکار و اقدار کی عظمت ثابت کی تو دوسری طرف اسلامی تعلیمات و اصول کی ایسی تشریح پیش کی کہ اس سے اسلامی اقدار کی کمزوری ثابت ہو اور ایک تعلیم یافتہ مسلمان کا رابطہ اسلام سے کمزور پڑ جائے اور وہ اسلام کے بارے میں متشکک ہوجائے، ايک طرف انھوں نے بدلتی ہوئی زندگی اور ترقی یافتہ زمانہ کا نام لے کر خدا کے آخری دین پر عمل کرنے کو روایت پرستی اور قدامت و دقیانوسیت قرار دیا تو دوسری طرف اس کے بالکل برعکس انھوں نے قدیم ترین تہذیبوں اور زبانوں کے احیاء کی دعوت دی جو اپنی زندگی کی صلاحیت اور ہر طرح کی افادیت کھو کر ماضی کے ملبہ کے نیچے سیکڑوں ہزاروں برس سے مدفون تھے، جن کے احیاء کا مقصد مسلم معاشرے میں انتشار پیدا کرنے، اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کرنے، اسلامی تہذیب اور عربی زبان کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔


استشراقی تحریروں کا اثر:

چنانچہ انھیں تحریروں کے اثر سے مصر میں *"فرعونی"* عراق میں *"آشوری"* شمالی افریقہ میں *"بربری"* تہذیب و زبان کے احیاء کی تحریکیں شروع ہوئیں،انھیں مستشرقین نے شدومد کے ساتھ یہ کہنا شروع کیا کہ قرآنی عربی زبان *"فصحٰی عربی"* اس زمانے کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی، اس کے بجائے عامی اور مقامی زبانوں کو رواج دینا چاہیے، یہ بات انھوں نے اتنی خوبصورتی سے کہی کہ مصر میں اچھے پڑھے لکھے اور صاحب قلم لوگوں نے اس تحریک کی حمایت شروع کر دی، جس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا تھا کہ قرآن مجید اور اسلامی ادب سے عربوں کا رشتہ کٹ جائے اور وہ ان کے لئے ایک اجنبی زبان بن جائے اور عربی زبان کی اپنی بین الاقوامی حیثیت ختم ہوکر رہ جائے۔


مستشرقین کا اسلوب:

وہ اپنے اس کام میں اس سبکدستی، ہنرمندی اور صبر و سکون سے کام لیتے ہیں، جس کی نظیر ملنی مشکل ہے، وہ پہلے ایک مقصد تجویز کرتے ہیں اور ایک بات طے کر لیتے ہیں کہ اس کو ثابت کرنا ہے، پھر اس مقصد کے لیے ہر طرح کے رطب و یابس: مذہب و تاریخ، ادب و افسانہ شاعری کے مستند و غیر مستند ذخیرہ سے مواد فراہم کرتے ہیں اور جس سے ذرا بھی ان کی مطلب برآری ہوتی ہو، خواہ وہ صحت و استناد کے اعتبار سے کتنا ہی مجروح و مشکوک اور بے قیمت ہو، اس کو بڑے آب و تاب سے پیش کرتے ہیں۔

 

مستشرقین کا طریقۂ کار:

ان کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک برائی بیان کرتے ہیں اور اس کو دماغوں میں بٹھانے کے لئے بڑی فیاضی کے ساتھ اپنے ممدوح کی دس خوبیاں بیان کرتے ہیں تاکہ پڑھنے والے کا ذہن ان کے انصاف، وسعتِ قلب سے مرعوب ہو کر اس ایک برائی کو (جو تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیتی ہے) قبول کر لے۔


استشراق کا سب سے بڑا نقصان:

استشراق کا نقصان یہ ہوا کہ لوگ شریعت اسلامی سے دور اور مسیحیت کے قریب ہوگئے اور یہ سمجھنے لگے کہ اسلامی شریعت اس ترقی یافتہ زمانہ کے ساتھ ساتھ چلنے سے قاصر ہے۔



 مستشرقین کی ایک غلطی:

تقریبا ڈیڑھ دو صدی کے طویل و مسلسل تجربہ کے بعد مستشرقین نے محسوس کیا کہ ان کے طریقہ کار میں بنیادی غلطی تھی، جس کی وجہ سے ان کی جدوجہد کا پورا نتیجہ نہیں نکل رہا تھا اور بعض اوقات اس کے خلاف اسلامی حلقوں میں شدید ردعمل اور اشتعال پیدا ہو جاتا تھا، جو تبلیغی و دعوتی نقطۂ نظر سے خطرناک تھا، وہ برابر اپنی مساعی اور ان کے اثرات و نتائج کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے رہتے تھے۔

ان نتائج کی روشنی میں انھوں نے طے کیا کہ ان کو اپنے طریق کار میں بنیادی تبدیلی پیدا کرنی چاہیے اور بجائے مسلمانوں کو بدلنے کی کوشش کے اسلام کی جدید تعبیر پیش کرنے اور اصلاح مذہب کی تحریک چلانی چاہئے اور جہاں جہاں تجدد و اصلاح مذہب کی تحریک چل رہی ہے اس کی ہمت افزائی اور تائید کرنی چاہیے۔


مشرق و مغرب میں مستشرقین کا مقام ومرتبہ:

مستشرقین نے مشرق میں جو مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ مشرق وسطی کے تینوں موقر مجالس علمیہ *"المجمع اللغوی"* (مصر) *"المجمع العلمی العربی* (شام) *"المجمع اللغوی العراقی"* (بغداد) میں مستشرقین کی ایک خاص تعداد رکن ہے اور ان کے مطالعہ و آراء سے استفادہ کیا جاتا ہے، عالم اسلام میں عربی موضوعات پر بھی عرصہ دراز سے مستشرقین ہی کی کتابوں پر دارومدار ہے، جو کہ اپنے موضوع پر ایک طرح سے کتاب مقدس کی حیثیت رکھتی ہیں


 اس پر خطر مسئلہ کا موزوں حل:

 اس صورت حال کی اصلاح اور مستشرقین کی تخریبی و تشکیکی اثرات کو روکنے کی ۔۔۔

1️⃣ پہلی صورت:

 یہ ہے کہ ان علمی موضوعات پر مسلمان محققین و اہل نظر قلم اٹھائیں اور مستشرقین کی ان تمام قابل تعریف خصوصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بلکہ ان کو ترقی دیتے ہوئے جو ان کا حصہ سمجھی جاتی ہیں، مستند و صحتمند اسلامی معلومات اور نقطۂ نظر پیش کریں، 

یہ ایسی تصنیفات ہوں جو اپنی تحقیقات کی اصلیت، مطالعہ کی وسعت، نظر کی گہرائی، مآخذ کے استناد و صحت اور اپنے محکم استدلال میں مستشرقین کی کتابوں سے کہیں فائق و ممتاز ہوں، ان میں ان کی تمام خوبیاں ہوں، اور وہ تمام کمزوریوں اور عیوب سے پاک ہوں۔


 2️⃣دوسری جانب:

 ان مستشرقین کی کتابوں کا علمی محاسبہ کیا جائے ان کی تلبیسات کو بے نقاب کیا جائے، متن کے سمجھنے میں ان کی غلط فہمیوں اور ترجمہ واخذ مطلب میں ان کی غلطیوں کو واضح کیا جائے، ان کے مآخذ کی کمزوری اور ان کے اخذ کئے ہوئے نتائج کی غلطی کو روشن کیا جائے اور ان کی دعوت و تلقین میں ان کی جو بدنیتی: مذہبی اغراض اور سیاسی مقاصد شامل ہیں، ان کو طشت ازبام کیا جائے اور بتایا جائے کہ یہ اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف کیسی گہری اور خطرناک سازش ہے۔


 3️⃣تیسری بات جو قابل توجہ ہے:

وہ یہ ہے کہ صرف لکھنے سے بھی مسائل حل نہیں ہوں گے آج کے دور کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ معیاری ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں تک پہنچایا جائے تاکہ بات فوری طور پر پہنچ سکے۔

اس کام میں مرد و خواتین دونوں کو اسلامی اقدار کے مطابق مل جل کر کام کرنا ہوگا جس طرح خیر القرون میں باطل کے خلاف پوری ملت صف آراء ہوکر کام کرتی تھی۔


 جب ہم مسلسل اس کی پلاننگ کریں گے اور عملی میدان میں قدم رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوگی اور ہم مشرقی ممالک سے مستشرقین کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکیں گے اور اسلام کی اصل روح لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں گے.


 جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد

 ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

 تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو

 کر اس کی حفاظت کے یہ گوہر ہے یگانہ


📝نوٹ: اس مضمون میں مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی مایۂ ناز تصنیف مسلم ممالک میں اسلامیت و مغربیت کی کشمکش سے استفادہ کیاگیا ہے.


✍🏻بقلم: زہراء پرویز

(عالیہ رابعہ شریعہ)

🕌جامعہ ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ للبنات، لکھنؤ)



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...