نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ختم قرآن کی دعا: ترجمانی محمد مسرور جمال فاخری ندوی ازھری

     

                                                 

    ترجمہ🖋: محمد مسرور جمال فاخری ندوی ازھری 

اللہ نے جو بلند اور بڑا ہے سچ فرمایا، اوراس کے رسول نبی کریم نے سچ فرمایا، اور ہم اس پر گواہ ہیں۔ اے ہمارے رب ہمارے جانب سے قبول فرما بیشک تو سننے والا جاننے والا ہے۔ اے اللہ ہمیں قرآن کے ہر حرف کے عوض میں  حلاوت وشیرینی اور قرآن کے ہر پارے وجزء پر بدلہ عطا فرما۔ اے اللہ ہمیں الف کے بدلے میں محبت اور با کے بدلے میں برکت اور تا سے توبہ اور ثا سے ثواب اور جیم سے جمال اور حا سے حکمت اور خا سے خیر اور دال سے رہنمائی اور ذال سے دانائی اور راء سے رحمت اور زاء سے طہارت اور سین سے سعادت اور شین سے شفاء اور صاد سے سچائی اور ضاد سے روشنی اور طا سے تازگی اور ظا سے کامیابی اور عین سے علم اور غین سے تونگری ومالداری اور فا سے کامیابی اور قاف سے تقرب الہی اور کاف سے کرامت اور لام سے لطف ومہربانی اور میم سے نصیحت اور نون سے نور اور واؤ سے اللہ کا وصال اور ہا سے ہدایت اور یا سے یقین عطا فرما،۔ 

اے اللہ ہمیں قرآنِ عظیم کے ذریعے سےنفع عطا فرما،اور ہمیں آیات اور ذکرِ حکیم کے ذریعہ سے بلندی عطافرما، اور ہماری جانب سے (قرآن) پڑھنے کو قبول فرما اور ہمارے جانب سے تلاوتِ قرآن میں جو غلطیاں یا بھول ہو گئی ہوں اسے معاف فرما خواہ خطآ یا نسیانا ہو یا کسی کلمے میں ان کی جگہوں سے تحریف ہو گئی ہو یا تقدیم و تآخیر یا کمی و بیشی ہو گئی ہو (یعنی آگے کرنا یا پیچھے کر دینا یا زیادہ کردینا یا کم کر دینا ) یا ایسی تاویل جوتیرے اتارے ہوئے کے خلاف ہو یا شک وشبہ ہو یا بھول ہو یا غلط طریقے سے پڑھا گیا ہو ( یعنی تجوید کی رعایت کئے بغیر) یا قرآن کی تلاوت جلدی جلدی کیا گیا ہو ،یا سستی یا جلدی سے یا زبان کی کجی سے یا وقف بغیر وقف کے یا ادغام بغیر ادغام کے یا اظہار بغیر بیان کے یا مدّ یا تشدید یا ہمزہ یا جزم یا اعراب میں غلطیاں ہوگئی ہو یا رحمت کی آیتوں کے پڑھنے کے وقت قلت رغبت کم رغبتی ہو یا آیاتِ عذاب کے وقت خوف خدا کا نہ ہونا یا کم پایا جانا ہو، لہذا اے ہمارے رب ان تمام لغزشوں کو معاف فرمادے اور ہماری مغفرت فرما دے، اور ہم کو شاھدین گواہوں کے ساتھ لکھ دے۔ 

اے اللہ ہمارے دلوں کو قرآن سے روشن کردے اور ہمارے اخلاق کو قرآن سے مزین کردےاور ہم کو قرآن کی برکت سے جہنم سے نجات دے ،اور اسکی برکت سے ہم کو جنت میں داخل فرما دے، اے اللہ قرآن کو ہمارے لیئے دنیا میں ساتھی اور قبر میں مونس اور پل صراط پر نور اور جنت میں ساتھی اور جہنم سے پردہ اور حجاب اور ہر اچھائی کی طرف رہنما بنا دے اور ہمارے لیئے قرآن کی پوری دعائیں لکھ دے، اور ہمیں دل اور زبان سے ادا کرنے کی توفیق دے ، اور خیر کی محبت اور سعادت اور ایمان کی بشارت عطا فرما دے اور اللہ کا درودو سلام ہو اسکے بہترین مخلوق یعنی ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی آل و اصحاب پر اور ان پر بہت بہت سلام ہو۔ 

  ترجمہ🖋: محمد مسرور جمال فاخری ندوی ازھری 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...