شریعہ اکیڈمی ندوۃ العلماء کے تحت وقف ترمیمی بل پر مجلس مذاکرہ کا انعقاد:🖋رپورٹ: کلام رضا فیضی (ندوی، ایل ایل بی)
🖋رپورٹ: کلام رضا فیضی
(ندوی، ایل ایل بی)
شریعہ اکیڈمی ندوۃ العلماء کے تحت وقف ترمیمی بل پر مجلس مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں وقف بورڈ کے بعض ذمہ داران، مسلم پرسنل لاء کے بعض ارکان، علماء اور وکلاء کے علاوہ ندوۃ العلماء کے اساتذہ و طلبہ کی ایک مخصوص تعداد شریک رہی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام اللہ سے ہوا، جس کا ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔
| مفتی ظفر عالم ندوی( استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ) |
وقف کی شرعی حیثیت پر گفتگو کرت ہوئے مفتی ظفر عالم ندوی( استاذ دار العلوم ندوۃ
العلماء ) نے
کہا کہ وقف ایک طرح کی عبادت ہے، صدقہ جاریہ ہے۔فقہا کی تعریف کے مطابق : کسی قیمتی شئی کی ذات کو خدا کی ملک میں مقید
کر دینا اور اس کی منفعت کو غرباء و ضرورت مندوں کے لیے دائما صدقہ کرنا وقف
کہلاتا ہے۔ ان شئت حبست اصلہا : یعنی کسی شئی کی اصل کو باقی رکھتے ہوئے اس کی
منفعت کو خیرات کے کاموں میں خرچ کرنا۔ خلاصہ یہ کہ وقف میں تین چیزیں ہونی چاہیے:
قیمتی شئی کو وقف کرنا، اللّٰہ کے ملک میں دینا، دائمی طور پر دینا۔
انھوں نے مزید کہا کہ وقف حضورﷺ کے زمانہ سے چلا آرہا ہے، البتہ
وقف کے مفصل مسائل فقہاء نے حضرت عمر کے موقف نامہ سے مستنبط کئے۔ وقف سے متعلق
متفرق بنیادی مسائل پر گفتگو کرت ہوئے انھوں نے کہا کہ وقف کے اغراض متعین ہوں،
مذہبی یا خیراتی یا امورِ خیر پر وقف، ہر کام کے لیے اس کا استعمال درست نہیں۔ وقف
کی تولیت یعنی متولی اسی کو بنایا جائے گا جس کی تعیین واقف نے کی ہوگی، اس کی غیر
موجودگی میں قاضی کو اختیار ہو گا۔
واقف کو پورا اختیار ہے کہ جن شرائط کے ساتھ چاہیں وقف کریں، البتہ شرائط غیر شرعی نہ ہوں، واقف کی شرعی
شرائط کی حیثیت نصِ قطعی کی ہے۔مسجد کے وقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، ہاں
مسجد کے علاوہ وقف کو تبدیل کر سکتے ہیں اگر مصرف سے منفعت حاصل نہیں ہو رہی ہو۔
| عبد الحفیظ صدیقی(ایڈوکیٹ ہائی کورٹ) |
عبد الحفیظ صدیقی
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے ہندوستان میں وقف کے موضوع پر مفصل گفتگو کی۔
انھوں نے کہا کہ ندوۃ العلماء کی یہ تاریخ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ
اسلام کے خلاف اٹھنے والی آواز کا مدلل و مفصل جواب دیا ہے۔ 1913جب میں وقف علی
الاولاد کو ختم کرنے کی بات آئی تھی تو علامہ شبلی نے ایک مفصل تحریر تیار کی تھی،
اور اس کا بڑا اثر ہو تھا۔
ہندوستان میں 1810 سے باقاعدہ وقف کی قوانین کی شروعات ہوتی ہے۔
یہ قوانین کلکتہ کے علاقہ کے لیے بنایا گیا تھا۔1817 پھر 1836میں سابقہ تمام قوانین کو ختم کر کے ایک نیا وقف کا قانون بنایا گیا۔1913 کے
بعد 1954
میں ایک نیا
قانون بنایا گیا۔ 1995 میں
موجودہ قانون بنایا گیا۔ الغرض 1810 سے 1995 تک وقف ایکٹ سے متعلق
کل چوبیس ایکٹ پاس کئے گئے۔
انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے قانون کے مطابق اپنی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کو خیر کے
کام لیے وقف کرنا وقف کہلاتا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں کہا ہے کہ ایک
بار وقف ہونے کے بعد وہ چیز ہمیشہ وقف رہے گی۔غیر مسلموں کے ذریعہ بھی وقف کی گئی
جائداد پر بھی اسی ایکٹ کا نفاذ ہوگا۔ مزید کہا کہ پہلے مسلمان کے ساتھ ساتھ غیر
مسلم بھی وقف کر سکتا تھا، اب غیر مسلم
وقف نہیں کر سکتا بلکہ مسلمان بھی پانچ سال پرانا ہو۔
سروے کمشنر کی تقرری سے متعلق
تحفظات کا بھی تذکرہ کیا ، کہا کہ
پہلے اوقاف کی فہرست شائی کی جاتی تھی، چھ ماہ میں اس کو اپڈیٹ کیا جاتا
تھا، اب ایک عوامی پورٹل بنا کر اس پر یہ
تفصیلات رکھے جائیں گے۔
پہلے وقف کے نظام اور اس کی نگرانی وقف بورڈ کے پاس تھی، متولی
اگر وقف بورڈ کا حکم نہیں مانتا تو اس کے خلاف کارروائی کہ جاتی تھی، اب اس کے
داخلی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا ر ہے۔ممبران کے انتخاب اور ان میں غیر مسلموں
کی شمولیت بھی قابل تشویش ہے۔ اسی طرح پہلے1995 کا سیکشن چالیس طے کرتی تھی کہ وہ
وقف ہے یا نہیں، اب اس کا فیصلہ ڈی ایم کرے گا۔ اوقاف کا اڈیٹ خود بورڈ کراتی تھی،
اب سرکار کسی سے بھی کرا سکتی ہے۔
مفتی ابرار حسن ندوی (ایل ۔ایل۔ ایم) نے وقف ترمیمی بل کے مجوزہ
ترمیمات کا
جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئے بل میں کل
44 دفعات کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس بل کے نئے بل کے بنانے کا وجوہات بھی بیان
کئے گئے ہیں اور وہ یہ کہ 1995 کا ایکٹ
ناکام ہے۔حلانکہ مسلم دانشوران نے 1995 ایکٹ پر کہا تھا کہ یہ ایکٹ کافی نہیں ہے
لیکن اس وقت یہ بات نہیں مانی گئی جس کا اعتراف اب کیا گیا ہے۔مسلم پرسنل لاء کی کوشش سے 2013 کے ترمیمات کچھ حد تک مفید رہے، مگر اب اس نئے بل کے ذریعہ
اس کو بھی ختم کرنے کی کوشش ہے۔
انھوں نے اپنی گفتگو میں وقف بائی یوز(یعنی ایسا وقف جس کے
کاغذات نہ ہوں، یعنی وقف نامہ نہ ہولیکن ایک مدت سے جائداد وقف کے طور پر استعمال
کیا جا رہا ہو) کو کالعدم قرار دئے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے مزید
کہا کہ مسلمان بھی یہ چاہتے ہیں کہ وقف کا
قانون مظبوط اور موثر ہو لیکن مؤثر بنانے کے نام پر غیر مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔اس
ایکٹ کے نافذ ہونے کے چھ ماہ کے اندر جو جائداد وقف کے تحت رجسٹر نہ ہوسکیں گی اس
کی کوئی حیثیت وقف کی نہ ہوگی، یہ بھی بڑا مسئلہ ہے۔
| مولانا خالد رشید فرنگی محلی: امام عیدگاہ، لکھنؤ |
مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے پروگرام کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کیا، بطور
خاص صدر مفتی عتیق بستوی صاحب کا کہ انھوں نے یہ زرین سلسلہ شروع کیا ہے۔ انھوں نے
کہا کہ ،موجودہ صورتحال میں وقف بورڈ سے متعلق تین اہم باتیں ذہن میں رکھنی چاہئے وقف
کی شرعی حیثیت اور اس کے مقاصد۔ موجودہ
صورتحال میں وقف سے متعلق پھلائی گئی غلط
فہمیاں اور اس کےنتیجہ میں نئے بل میں موجود نقصاندہ ترمیمات
کی اصلاح کی فکر۔
انھوں نے کہا کہ وقف کے سلسلے میں میڈیا کے ذریعے یہ
غلط فہمی پھیلائی گئی ہے کہ آدھے سے زیادہ ہندوستان پر مسلمانوں کا قبضہ ہے۔
حالانکہ یہ ایک خالص مذہبی معاملہ ہے جس کا تعلق شروع زمانہ سے ہے،حضور نے یہودی
کے دئے ہوئے کھجور کے باغ کو وقف کیا، اس کے بعد صحابہ و بزرگان میں واقفین کا
سلسلہ رہا ہے۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ کی وجہ سے بھی ایک غلط فہمی پیدا ہوئی کہ کمیٹی
نے عمومی طور پر مالیت کا اندازہ لگا کر اس کی قیمت بتا دی۔لیکن نوے فیصد جائیداد
مساجد، قبرستان، و مقابر ہیں، جن سے نہ کوئی منفعت مل رہی ہے نہ اس کو بیچا جا
سکتا ہے، بلکہ اس کے انتظام و انصرام پر خرچ ہو رہا ہے۔
یہ سب حکومت کی جانب سے ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ غیر
مسلموں کو بد ظن کیا جائے اور مسلموں کا اعتماد اپنے رہنما و علماء سے ختم کر دیا
جائے۔ کہا گیا کہ دو سو لوگ ملک کے وقف پر قابض ہیں اور غرباء کا فائدہ نہیں ہو
رہا ہے۔ حالانکہ حکومت خود وقف کی بڑی جائیدادوں پر قابض ہے۔
سید شعیب صاحب( سابق سی ای او سنی وقف بورڈ یوپی) نے کہا کہ وقف انتہائی حساس موضوع ہے۔اوقاف کی جائداد سے متعلق
بہت غلط فہمیاں پھیلائی
گئی بلکہ پروپیگنڈے کئے گئے ہیں ۔چار لاکھ
ایکڑ زمین کی بات ہے سچر کمیٹی کی طرف سےکہی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ زمین آئی
کہاں سے؟ اوقاف کی جائداد میں باونڈریز مینشن کی گئی ہیں، متعین ایریا نہیں بتایا
گیا ہے۔ اس لیے ایک اندازہ سے کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں چار لاکھ ایکڑ زمین ذکر کر دی۔
اوقاف کی تفصیلات آپ دیکھیں تو یوپی میں ایک لاکھ چوبیس ہزار
رجسٹر اوقاف ہیں جن میں مساجد، قبرستان، درگاہیں، نوے فیصد سے زائد ہیں۔ اوقاف کی زمین کی پیمائش کے لئے جی آئی ایس میپنگ
کا بھی استعمال کیا گیا ہے، اس
کی پیمائش بہت درست نہیں ہوتیں ، کئی
مرتبہ اس کا تجربہ کیا گیا ہے۔اس کی وجہ سے بھی اوقاف کی زمین کا درست اندازہ نہیں
کیا جا سکا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سروے کے وقت ہر پراپرٹی پر سروے کرنے والے کو پیمنٹ ہونا تھا، اس لیے ایک ایک
پراپرٹی کی کئی کئی پراپرٹیز بنا دی گئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پیمینٹ لیا جا سکے۔
اس مسئلہ کا حل صرف ریجیکشن نہیں چلے ہے، دو کروڑ لوگ کہیں گے
کہ ہم اس بل کو بہتر نہیں سمجھتے تو دس
کروڑ لوگ وہ لے آئیں گے کہ ہم اس بل کو
بہتر مانتے ہیں ۔ یہ پیمانہ نہیں ہونا چاہئے۔ ریجیکشن کو سبجیکٹو کے بجائے آبجیکٹو رکھا جایے،
ایموشن سے بچنے کی سخت ضرورت ہے۔شکریہ کے ساتھ دعاء ہے کہ اللّٰہ بہتری کے حالات پیدا
فرمائے۔
| زفر احمد فاروقی چیئر مین سنی سنٹرل وقف بورڈ |
زفر احمد فاروقی چیئر مین سنی سنٹرل وقف بورڈ نے کہا کہ اس وقت پیش کئے گئے بل کا سب سے سنگین مسئلہ
یہ کہ وقف بائی یوزر (وقف
بالاستعمال) کو ختم کیا جا رہا ہے۔ 1989میں
ختم ہونے والے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 1989 تک اوقاف کی تعداد ایک لاکھ چھ ہزار تھی جو اس وقت ایک لاکھ بائیس ہزار کے قریب ہیں۔
جن میں وقف بائی یوزر کی تعداد ایک لاکھ
بارہ ہزار ہے۔
قبرستانوں کی تعداد 65
ہزار ہے جن میں صرف49 قبرستانوں کے وقف نامے موجود ہیں۔
34
ہزار دو سو چودہ مساجد میں صرف 618مساجد کے نامے موجود ہیں بقیہ
تمام وقف بائی یوزر ہیں۔ 2453 مدارس میں سے صرف 182 مدارس کے وقف نامے ہیں بقیہ سب وقف
بالاستعمال ہیں۔1140 درگاہوں
ہیں صرف پچیس کے وقف نامے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سو دو سو سال قبل اس کا رواج
نہیں تھا کہ لوگ باقاعدہ وقف نامے بنوائیں ، جہاں مسجد بن گئی مدرسے بن گئے وہ
زبانی بن گئے۔ ایک طرف تو صرف اس صوبہ میں
وقف نامے کوجود نہ ہونے کی یہ صورتحال ہے ، اب
اس وقت یہ کہا جا رہا ہے کہ از سر نو جانچ کی جائے گی اور پھر بتایا جائےگا
کہ وہ جائداد وقف کی ہے یا نہیں، تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا ارادہ ہے حکومت کا،
اس لئے وقف بالاستعمال کا مسئلہ سب سے بڑا
سوالیہ نشان ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ عام طور پر جو مقدمات حساس نوعیت کے ہیں
وقف سے متعلق وہ سب وقف بالاستعمال سے متعلق ہیں۔پہلے متولی کا تحریری طور پر یا
زبانی طور پر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اب زبانی نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ٹرسٹ یا ریلیجس
انڈوامنٹ کے لیے ایسی کوئی ضرورت نہیں محسوس کی گئی کہ عوامی پورٹل پر اس کی ساری تفصیلات
موجود ہوں لیکن وقف کے لئے اسے ضروری قرار
دیا جانا بھی محلِ نظر ہے۔ٹرسٹ یا ریلیجس
انڈوامنٹ سے بھی سخت قوانین اوقاف کے لیے کیوں؟ایک طرح کے تمام ادارے ایک ہی ایکٹ سے گورن ہوں!
جو حکومت کی پراپرٹی بن جائے گی تو وہ وقف نہیں مانی جائے گی۔
اگر تنازعہ ہوا تو ڈی ایم کو مکمل اختیار ہے کہ وہ اپنی صواب دید پر جانچ کریں،
اور سوال کون اٹھائے گا کہ یہ زمین وقف کی نہیں ہے؟ اس کا اختیار کسی کو بھی ہوگا،
حیرت کی بات ہے!اب ڈی ایم صاحب دس سال بھی
اس کیس کو پینڈنگ میں رکھیں تو اس دوران
وہ جائیداد وقف نہیں رہے گی۔
سینٹرل وقف کونسل کی حیثیت 2013 سے پہلے صرف ایک مشاورتی کونسل
کی تھی، اب اس کے اختیارات بڑھائے جا رہے ہیں۔
بائیس ممبران میں سے دس مسلم، دو غیر مسلم بقیہ دس کو غیر واضح چھوڑ نا بھی قابل توجہ ہے۔ یہ کونسل میں غیر کی اکثریت بنانے کی بھی ایک چال
ہو سکتی ہے۔ وقف بورڈ ایک ایلیکٹیڈ باڈی ہے۔ دو تہائی ایلیکٹیڈ (منتخب)ہوتی ہے بقیہ
نامینیٹیڈ( نامزد) ہوتی ہے۔ علماء،
متولی، ایم ایل اے، ایم پی سب کا کوٹا گھٹایا گیا۔ پنچایت اور میونسپلٹی کے لوگوں
کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس بل میں زبانی طور پر وقف کو ختم کیا جا رہا ہے، حالانکہ
اس کا بہت چلن رہا ہے۔ رولس اور ریگولیشن بنانے کے بہت سے اختیارات جو بورڈ یا اسٹیٹ
حکومت کے پاس تھی اب اس کو سینٹرل گورنمنٹ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ ڈی ایم کے
اختیارات غیر ضروری تنازعات کھڑا کرنے کا راستہ سکتے ہیں۔
| جناب مفتی عتیق احمد صاحب بستوی |
مفتی عتیق احمد بستوی صاحب (صدر مذاکرہ) نے کہا کہ وقف استعمالی کو ختم کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے، اگر یہ
قانون نافذ ہوگیا تو نوے فیصد وقف ہاتھ سے
نکل جائے گا۔ غور کرنے کی بات
یہ ہے
کہ کیا یہ بل اس قابل ہے کہ اس کی اصلاح کی جا سکتی ہے؟ یا پھر سرے سے
تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ڈرافٹ اس قابل نہیں کہ اس کی اصلاح کی جا سکے تو
حکومت کو ماہرینِ شریعت سے مشورہ کرنا چاہئے، اگر واقعی مسلمانوں کی اور ان کے اوقاف کی خیر خواہی مطلوب ہے۔
صدر مذاکرہ نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ پہلے ایک قانون سے آپ
نے طے کیا کہ یہ وقف ہے، اب ایک نیا قانون بنا کر یہ چانچ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ
وقف ہے یا نہیں ، یہ تو ایک مذاق ہے۔ وقف ایک خالص مذہبی معاملہ ہے،تمام ائمہ
مانتے ہیں کہ غیر مسلم بھی وقف کر سکتا ہے، پھر وقف سے متعلق یہ قانون بنانا کہ غیر مسلم وقف
نہیں کر سکتا یہ توہماری شریعت میں مداخلت ہے۔شریعت کی رو سے مسلم اور غیر مسلم دونوں کو وقف کی منفعت سے
فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے ۔ایک بات اور بھی ہے کہ آج حکومت کو خیال آیا کہ وقف کی جائداد سرکاری
زمینیں بھی ہو سکتی ہیں، حالانکہ خود سرکار وقف کی زمین کو استعمال کر رہی ہے۔ پھر
یہ کہ اگر غیر مسلم واقف ہو سکتا ہے تو
حکومت بھی واقف کو سکتی ہے۔
آج کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ کتنی مندروں کا رجسٹریشن ہے ؟ کہیں
وہ صرف وقف استعمالی تو نہیں، اور یہ کہا جائے کہ اتنے مندروں کی وجہ سے ملک کی اتنی جگہ بے کار پھنسی ہوئی ہے تو یہ بے
وقوفی ہوگی، کیونکہ ہر مذہب کے لوگوں کو اختیار ہے کہ مذہبی امور کی انجام دہی کے
لیے اپنی عبادت گاہیں اور جگہیں مختص
کریں۔
اوقاف کا مسئلہ صرف مسلمانوں سے متعلق ہے تو رائے بھی مسلمانوں سے
ہی لینی چاہیے۔ حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ غیر مسلم وقف نہیں کر سکتا پھر انتظام میں
غیر مسلم کو شامل کرنے کا کیا مطلب؟ دیگر مذاہب کے مذہبی امور میں کوئی دوسرے مذہب
کا شامل نہیں ہو سکتا مگر مسلمانوں کے مذہبی امور میں سب شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ
سرار سر زیادتی ہے مسلمانوں کے ساتھ۔
صدر مذاکرہ نے کہا کہ زندہ قوموں کو ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ضرورت ہے کہ
ہم ایسے مواقع پر ہوشمندی سے کام لیں، تدابیر کے ساتھ اللہ سے خیر کی دعاء کرتے رہیں۔
| مولانا مفتی منور سلطان ندوی |
واضح رہے کہ اس مذاکرہ کی نظامت سلسلہ مذاکرات کے منتظم مولانا مفتی منور سلطان ندوی نے کی۔سوالات و جوابات کا موقع کا سیشن بھی مفید رہا۔ اس موقع پرعلماء ، وکلاء، دانشوران کے علاوہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے اساتذہ و طلبہ کی ایک تعداد شریک رہی، صدر مذاکرہ کی دعاء کے ساتھ نششت کا اختتام ہوا۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں