مسجد صفا کریم گنج میں دس محرم الحرام کو بعد نماز عشاء جلسہ عظمت صحابہ کے عنوان سے رابطہ آئمہ مساجد حلقہ بالا گنج کے ذمہ دار استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ حضرت مولانا و مفتی ابوالحسن علی صاحب ندوی دامت برکاتہم کا اہم خطاب ہوا۔ نشست کا آغاز جناب قاری صدیق صاحب زید مجدہم کی تلاوت سے ہوا، نعت مدرسہ فیض العلوم، مسجد صفا کے طالب علم محمد ابراہیم نے پڑھی۔
حضرت مولانا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اللہ کی نعمتوں میں گھرے ہوئے ہیں، سورج چاند، کھیتی، باغات، ہوائیں ، بارش سب کو اللہ نے ہماری خدمت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اللّٰہ نے فرمایا وسخر لکم الشمس والقمر دائبین: کہ ہم نے سورج و چاند کو مستقل تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے۔
اللّٰہ کا بنایا ہوا اتنا بڑا نظام ہمارے لیے ہے، تیرہ لاکھ زمین سورج میں سما جائیں، صرف سورج نہ ہو تو بارش نہ ہو، درخت نہ ہوں، انسانیت ختم ہو جائے۔ ہم سورج سے بجلی پیدا کر رہے ہیں کوئی بجلی بل نہیں، یہ سب اللہ کا کرم ہے۔ اللہ کہتا ہے کہ واتاکم من کل ما سألتموہ جو بھی مانگا اللہ نے عطا فرمایا ، خواہ زبان حال سے یا زبان قال سے، اس لیے کہ وہ رب العالمین ہے، تمام جہانوں کا پالنہار ہے، یعنی صرف انسان کا نہیں بلکہ انسانیت کا، کائنات کا پالنہار ہے۔
پالنہار کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہاں بیٹھے ہیں اور کسان آپ کے لیے محنت کر رہا ہے، آپ کی مختلف ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے مختلف حصوں میں مختلف لوگ اپنے اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں۔ یہ ہے اللہ کا نظامِ ربوبیت ہے۔ اور نہ جانے اس طرح آپ کی پرورش کے لیے کتنے لوگ کہاں کہاں کس کس حال میں محنت کر رہے ہیں۔ ایسا کریم، ایسا پیارا ایسا قادر اللہ ہمارا پالنہار ہے۔ قل اللہم مالک الملک تؤتی الملک من تشاء: ہر چیز کا عطا کرنے والا اللہ ہے، یاد رکھیں کہ اپنی نعمتیں ہمارے حوالے کرنے کے بعد بھی ان نعمتوں کا اصل مالک وہی ہے۔ اس لیے اس کہ نعمتوں کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔ورنہ جو نعمتیں عطا کر سکتا ہے وہ نعمتوں کو چھین لینے پر بھی پوری طرح قادر ہے۔ بہانہ کچھ بھی ہو، کبھی ہوا سے، کبھی پانی سے، کبھی بیماری کے ذریعہ مالداروں کو فقیر اور فقیروں کو مالدار کرنے والا وہی اللہ ہمارا رب ہے۔ جب ایسا قادر، ایسا عظیم پالنہار ہے ہمارا خدا، تو اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنا بڑا عظیم جرم ہے۔
یاد رکھیں کہ مزار بھی مورت ہے، زمانہ جاہلیت میں بزرگوں کے نام سے مورت ہوتی تھی، کوئی مورت بدمعاش لفنگے کے نام سے نہیں ہوئی، مورت کی پوجا بزرگوں کی حد سے زیادہ عظمت سے شروع ہوئی۔ ہر قوم کے دھرم گرووں نے اپنی عوام کو بہکایا، ان لوگوں نے عوام کو یہی کہہ کر بہکایا کہ یہ انبیاء تمہارے بزرگوں اور پرانے لوگوں کے گستاخ ہیں۔ آج بھی یہی مسئلہ ہے کہ صحیح دین سے بہکانے کا یہی طریقہ ہے کہ بزرگوں کا گستاخ بتاتے ہیں خواہ دین کہیں بھی جائے۔ان دھرم کے ٹھیکیداروں نے اس امت سے یہی کہا کہ ان بدعتوں کو مت چھوڑوں یہ بزرگوں کا طریقہ ہے۔
اللہ نے ہر قوم کے ساتھ ایسا کیا کہ ماننے والوں کو بچایا اور نہ ماننے والوں کو ہلاک و برباد کر دیا، لیکن اس امت کی خاصیت ہے، حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعاء ہے کہ ہم محفوظ ہیں، ورنہ نہ ماننے والوں کی وجہ سے سب ہلاک ہو چکے ہوتے۔
آج دس محرم الحرام ہے، آج کے دن کا روزہ رکھنے سے ایک سال کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، سوائے حقوق العباد سے متعلق گناہوں گے۔، لیکن کتنے لوگ روزہ رکھتے ہیں ؟! اور کتنے لوگ آج کے دن بدعتوں اور خرافاتوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں؟! نماز دین کا ستون ہے، اللّٰہ کی طرف بڑھنے کا پہلا قدم نماز ہے، سیدھے راستہ کی طرف آنے کا پہلا قدم ہے۔ اصل سیدھا راستہ انبیاء صدیقین اور شہداء کا راستہ ہے۔ ان کے راستہ پر ان کے طریقہ پر چلنا ہے، نہ کہ خود ان کو پوجنا شروع کر دینا ہے۔ شرک بزرگوں سے ہی شروع ہوتا ہے، کسی بدمعاش لفنگے سے شرک شروع نہیں ہوتا۔ اس لیے خوب احتیاط سے ان کے راستے پر چلنا ہے، تعظیم اور عبادت کے فرق کو واضح رکھنا ہے۔
آج جن لوگوں نے انبیاء کو یا بزرگوں کا معبود بنا رکھا ہے، یا اللہ کا کسی طرح بھی شریک بنایا ہے، کل وہ انبیاء اور بزرگ سب سے پہلے ان مشرکین سے اپنے آپ کو بری الذمہ کر لیں گے، جیسا کہ قرآن میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا جائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا شرک کرنے؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود کو بری قرار دیں گے ایسے مشرکین سے۔ اس لیے دین پر عمل اپنی مرضی سے نہیں بلکہ سنت سے سیکھ سمجھ کر کرنا ہے۔ مشرکین اور بدعت کرنے والوں کو سمجھانا بھی ہمارا فریضہ ہے، مشرکین، اسی کے ساتھ اپنی صفوں میں موجود لوگوں کو گناہوں سے بھری زندگی سے نکالنا ہے۔
واضح رہے کہ اس نشست میں بڑی تعداد میں مصلیان نے شرکت کی، بطور خاص اس کے انعقاد میں مسجد کے ذمہ دار جناب مولانا زین الحق صاحب ندوی، و جناب حاجی عمر علی صاحب نے بحسن و خوبی اپنا کردار ادا کیا۔ اللّٰہ تعالیٰ دونوں حضرات کو خوب جزائے خیر عطا فرمائے۔
مغرب تا عشاء بچوں کا تعلیمی مظاہرہ ہوا۔ جسے جناب قاری حسیب صاحب صدیقی نے بحسن و خوبی چلایا۔ اس موقع پر مسجد مروہ کے امام جناب قاری عبد العلیم صاحب، قاری اشفاق صاحب کے علاوہ بڑی تعداد میں مسجد کے مصلیان و اطراف و اکناف کے باشندگان شریک رہے۔ حضرت مفتی صاحب کی دعا کے ساتھ نشست کا اختتام ہوا۔
اللّٰہ تعالیٰ اس نشست کو قبول فرمائے، اور ہم سب کو سنت و شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں