نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مستشرقین کون ہیں؟

 وہ علماء مغرب جنہوں نے اسلامیات اور مشرقیات کے مطالعے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردی ہیں اور اعلی تعلیم گاہوں میں اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے، ان کا مقصد صرف یہی ہے کہ مشرق کے رہنماؤں اور حکمراں طبقہ کے دماغوں میں اسلام سے مایوسی پیدا کردی جائے. یہ مغربی دانشور مشرق پر اپنی حکومت چاہتے ہیں، اسلام اور اسلامی (sources)کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ان کا خالص مقصد ہے۔

 استشراق کی تاریخ 

 استشراق کی تاریخ تو بہت پرانی ہے، مگر تیرھوی صدی مسیحی سے اس کے علمبرداروں نے بہت منظم طریقے سے اس پر کام کیا، اس میں یہودی اور عیسائی دونوں پیش پیش رہے ہیں. 

 استشراق کے مقاصد و محرکات

عالم اسلام کومغربی حکومت کا غلام بنا دینا اور اسلام کی ایسی تاریک تصویر پیش کرنا کہ مذہب عیسوی کی برتری ثابت ہو جائے، جس سے مشرقی قومیں خود بخود اسلام کو چھوڑ کر، ان کی پیروی کرنے لگیں،  اس طرح ان کے دل سے اسلام کی اہمیت و وقعت ختم ہو جائے گی.


 بنیادی طور پر استشراق کے چار محرکات تھے:

 1    دینی 

2     سیاسی 

3    اقتصادی

4     تعلیمی


1- دینی محرک 

دین اور اسلام کی ایسی تاریک تصویر مشرق کے نئےطبقہ کے لوگوں کے سامنے پیش کرنا کہ وہ اسلام سے شرم کرنے لگیں اور اس کو ترک کرکے مسیحیت کو اپنائیں۔

 2- سیاسی محرک

مستشرقین عام طور پر مشرق  میں مغربی حکومتوں اور اقتدار کا ہراول دستہ رہے ہیں، وہ مشرقی اقوام کے رسم و رواج، طبیعت ومزاج، طریقہء ماندہ بود اور زبان و ادب کے متعلق صحیح اور تفصیلی معلومات بھی مغربی حکومت کو پہنچاتے ہیں، تاکہ ان کا حکومت کرنا آسان ہو جائے، ان کے عقائد و خیالات کا توڑ کرتے ہیں، ایسی علمی و ذہنی فضا پیدا کرتے ہیں کہ جس سے ان کی حکومتوں کی مخالفت کا خیال بھی پیدا نہ ہونے پائے.

 اس کے بالمقابل اپنی تہذیب واخلاق کی عظمت بروقت پیدا ہو اور ایسا جزبہ موجزن ہو کہ ان مغربی حکومت کے ہٹ جانے کے بعد بھی ان کا ذہنی اور تہذیبی اقتدار قائم رہے.

 3- اقتصادی محرک

اس محرک میں مستشرقین کتابیں تصنیف کرتے تھے، انھیں شائع کرتے تھے، بہت سے فضلاء اور ناشرین اس کام کی ہمت افزائی اور سرپرستی کرتے ہیں کہ یہ ایک کامیاب پیشہ ہے اور اس کی یورپ اور ایشیا میں بڑی منڈی ہے، جو بہت بڑی مالی منفعت کا اور کاروبار کی ترقی کا سبب ہے، بڑی تیزی کے ساتھ ان موضوعات پر کتابیں شائع ہوتی ہیں۔

4- تعلیمی محرک 

مغربی نظام تعلیم درحقیقت مشرقی اور اسلامی ممالک میں ایک گہرے اور خاموش نسل کشی کے مرادف ہے، عقلاء مغرب نےپوری نسل کو جسمانی طور پر ہلاک کرنے کے لیے فرسودہ اور بدنام طریقہ کو چھوڑ کراس کو اپنے سانچہ  میں ڈھال لینے کا فیصلہ کیا  اور اس کام کےلیے جابجا مراکز قائم کئے جن کو کالجوں کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے .


 مشرق ومغرب میں مستشرقین کا مقام

مشرق میں جدید طبقہ نے مستشرقین کی تصنیفات کو ان کی ہنر مندی، انداز پیشکش اور حسن ترتیب سے بہت زیادہ مرعوب ہو کر قبول کرلیا  اور اس طرح ان کی عزت و احترام ان کے دلوں میں بس گیا ہے. 

ان کے اکرام کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشرق وسطی کی تینوں مجالس _ المجمع العلمی  اللغوی_ (مصر ) _المجمع العلمی العربی (شام) الجمع اللغوی العراقی( بغداد) میں مستشرقین کی خاصى تعداد رکن ہے  اوران کے مطالعے سے بہت استفادہ کیا جاتا ہے.

 انہوں نے تہذیب و زبان کی ایک تحریک چلائی تھی جو اس زمانے کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ہے ( فرعونی، فینقی، بربری)سے احیاء کی تحریک چلائی جو اتنی خوبصورتی کے ساتھ کہا اور  اتنی بار کہا کہ مصر کے اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی اس تحریک کی حمایت کرنا شروع کر دی۔


 مستشرقین کا میدان عمل اور طریق کار  

انھوں نے تصنیفی اور تعلیمی میدان میں زیادہ  کام انجام دیا ہے، یہ لوگ اپنے کاموں میں بڑی چالاکی اور چابکدستی سے کام لیتے ہیں. یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محاسن کو بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں، مگر جب تاریخی حقائق کی بات آتی ہے تو اس کو مسخ کرکے پیش کرتے ہیں، مسلمانوں کو متاثر کرنے کے لئےسیرت کا مطالعہ کیا، یہ ان کا سب سے اہم ہتھیار ہے. جھاد سے بھی غا فل کرنا چاہتے تھے، اس کی تاویل و توجیہ کرتے ہیں. یہ چاہتے ہیں کہ آرام پسندی کا درس دیا جائے تاکہ مقابلہ کی قوت پاش پاش ہو جائے، اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی سلطنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں، اسلام کی امتیازی خصوصیات کو ختم کر دیا جائے. مسلمانوں کی امتیازی خصوصیات میں ان كا تعلیمی، تربیتی اور تشریعی نظام ہے، یہ اس نظام کو تباہ کردینا چاہتے ہیں. یہ لوگ مسلم قائدین، فاتحین، علماء اور فضل و کمال والی مسلم خواتین وغیرہ کی شخصیتوں کو مجروح کرنے اور ان کا مقام و 

مرتبہ کم کرنے کے لیے فرضی واقعات تک گڑھ  لیتے ہیں.

انہوں نے اسلامی تہذیب اور عربی زبان کے خلاف ایک تحریک چلائی تھی، کہتے تھے یہ زبان اور یہ تہذیب بہت قدیم ہے موجودہ زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتی ہے، لیکن دوسری طرف انھوں نے انتہائی بے فیض اور فرسودہ فرعونی، فینقی اور بربری تہذیبوں کے احیاء کےلیے کام کیا تاکہ مسلم کو منتشر کرسکیں، یہ باتیں انھوں نے اتنی خوبصورتی کے ساتھ کہا اور  اتنی بار کہا کہ مصر کے اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی اس تحریک کی حمایت کرنے لگے۔


 مستشرقین کی غلطیاں

ان کی غلطیاں بھی بے شمار ہیں، یہ بعض مرتبہ تعصب کی تسکین کے لیے تحقیق کے معیار سے اس قدر گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے قرآن و حدیث میں لفظی تبدیلیاں کر دیتے ہیں، تقریباً ڈیڑھ دو صدی کے بعد انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ان کے طریقے کار میں بنیادی غلطی تھی، جس کی وجہ سے ان کی جدوجہد کا  پورا نتیجہ نہیں نکل پارہا ہے.  بعض اسلامی حلقوں میں شدید اشتعال ہو جاتا تھا جو ان کے تبلیغی و دعوتی نقطہ نظر سے خطرناک تھا. تو پھر انھوں نے اصلاح مذہب کی بھی تحریک چلائی، جس کی وجہ سے امت اور انسانیت کا شدید نقصان ہوا. 


اس پرخطر مسئلہ کا حل اور علاج

اس پرخطر مسئلہ کا حل اور مستشرقین کے اثرات کو روکنے کی صرف یہی صورت ہے کہ علمی موضوعات پر مسلمان محققین قلم اٹھائیں اور مستشرقین کی ان تمام قابل تعریف خصوصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بلکہ ان کو ترقی دیتے ہوئے  مستند و صحتمند اسلامی معلومات اور نقطہ نظر کو پیش کریں، یہ تصنیفات ایسی ہوں جو تحقیقات کی اصلیت، مطالعہ کی وسعت اور نظر کی گہرائی، ماخذ کے استناد اور اپنے محکم استدلال میں ان کی کتابوں سے کہیں زیادہ فائق و ممتاز ہوں اور ان میں ان كى تمام خوبیاں ہوں، ان کی تمام کمزوریوں سے پاک ہوں، مستشرقین کی کی کتابوں کا محاسبہ  کیا جائے اور متن کو سمجھنے میں ان کی غلطی کو واضح کیا جائے اور ان کےاخذ  کیے گئے نتائج کی غلط فہمیوں کو واضح کیا جائے اور ان کی دعوت و تلقین میں جو سیاسی ومذہبی مقاصد شامل ہیں، ان کو طشت از بام کیا جائے اوراس بات کو پورے عالم اسلام میں بتایا جائےکے یہ ہمارے لئے کتنی گہری اور خطرناک سازش ہے، اس کام کو  مرد و خواتین دونوں مل کر انجام دیں، خصوصا نوجوان طلبۂ و طالبات اور اسکالرز اس کی ویڈیو اور فلمیں بنا کر نئے نئے انداز سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔


 یورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہے 

 حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات 

 یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت 

 پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات


 بقلم: زینب پرویز           

جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات - لکھنؤ 

تبصرے