امریکہ: قتل کے جرائم میں %30 فیصد کا اضافہ
تحریر : المجتمع عربی
ترجمانی: عبد اللہ مجاہد
ایف بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں امریکہ میں 21500 سے زیادہ قتل کے واقعات پیش آئے۔ یعنی اس میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے بڑے بڑے شہروں کے اعلی سطحی افسران اشارہ دے چکے ہیں کہ قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور یہ جو سرکاری اعداد و شمار ہیں یہ تو امریکہ میں موجود 16 سے 18 ہزار سیکورٹی فورسز کے سینٹروں میں درج ریکارڈ پر مبنی اعداد و شمار ہیں۔
جون سے خصوصی طور پر رپورٹ ہونے والے اعداد وشمار سےظاہر ہوتا ہے کہ قتل کے واقعات میں یہ زیادتی امریکہ کے کسی مخصوص خطے کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ پورے امریکہ کی یہی صورتحال ہے، البتہ لویزیانا اس معاملے میں باقی ریاستوں کے مقابلے میں ٹاپ پر رہا۔ قتل کے واقعات میں اس روز افزوں زیادتی کا اعتبار گذشتہ ساٹھ برسوں سے ہے، جب سے فیڈرل انوسٹیگیٹو سینٹر نے اس کی رپورٹ جمع کرنا شروع کیا ہے ۔گذشتہ پچیس برسوں میں جرائم کی مجموعی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ البتہ یہ تعداد اسی کی دہائی میں پیش آنے والے اس طرح کے واقعات سے کم ہی ہے ۔
ماہرین کو اس کی وجہ بتانے میں شدید دشورای پیش آرہی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس کی وجہ کورونا اور اس سے پیدا شدہ امن و امان کی خراب صورتحال ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ پولس کی زیادتی کے خلاف جو بڑے بڑے مظاہرے ہوئے ہیں، یہ اس کا نتیجہ ہے۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ پورے امریکہ میں آتش خيز اسلحہ کی فروخت میں ہونے والا اضافہ ہے۔ فیڈرل انوسٹیگیٹو سینٹر کے مطابق 2020 میں قتل کے جرائم میں %77فیصد آتش خیز اسلحے کا استعمال ہواہے، جب کہ 2019 میں اس کا استعمال %74 فیصد تھا۔
ایف بی آئی نے اب تک 2021 کی رپورٹ شائع نہیں کی ہے، مگر جن اولین اعداد وشمار کو بڑے بڑے شہروں نے نشر کیا ہے، اس سے تو لگ رہا ہے کہ جرائم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے. انٹر نیشنل بینک سے جاری تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2020 میں امریکہ میں ہر ایک لاکھ میں 5 یا 6 افراد قتل کے جرم میں ملوث رہے ۔ اس کے مقابلے میں 2018 میں میکسیکو میں 35، برازیل میں 27، روس میں آٹھ، فرانس اور جرمنی میں ایک ایک شخص اس جرم میں ملوث پائے گئے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں