نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

سو ملین سے زائد افریقیوں کو بھوک کا سامنا: ریڈ کراس


شیخ عبداللہ ابرار 

ریڈ کراس: سو ملین سے زائد افریقیوں کو بھوک کا سامنا 

                                                                                                                           تحریر:  نیوز ایجینسی اناطولیہ                                                                                                                                 ترجمانی: شیخ عبداللہ ابرار 


     براعظم افریقہ میں سو ملین سے زائد افراد ‏‏غذائی تحفظ (FOOD SECURITY) کےبحران کا سامناکررہے ہیں، ریڈ کراس انٹر نیشنل فیڈریشن کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بر اعظم افریقہ طویل مدت سے غذائی تحفظ(FOOD SECURITY) کے بحران کا سامنا کررہا ہے، اس کے کئی اسباب ہیں: جن میں جنگوں کا تسلسل، امن و امان کا فقدان، ٹڈیوں کا ہجوم، باران رحمت کی قلت اور مارکیٹ کی گراوٹ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔


    گزشتہ جمعرات کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک کے بیشتر شہروں اور دیہاتوں میں غذائی تحفظ(فوڈ سیکیورٹی) کے خاتمہ کا سب سے بڑا سبب کورونا وائرس(CORONA VIRUS) کو بتایا گیا ہے، رپورٹ میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرقی اور شمال مشرقى افریقہ کے ممالک: صومالیہ، جنوبی سوڈان، اتھوپیا(حبشہ)، خصوصا تیجرائی وغیرہ میں بد ترین نتائج رونما ہونے کا خدشہ ہے۔ 


    مذکورہ رپورٹ کے مطابق نیجیریا، مالی، برکینا فاسو، نیجر اوربحیرہ تشاد کے سرحدی خطے بھی کئی طرح کے سنگین مسائل سے دوچار ہیں، جن میں پیداوار ودیگر وسائل کا محدود دائرہ میں سکڑ کر رہ جانا، سول سیکیورٹی کا ختم ہوجانا اور داخلی کشمکش کا سنگین ہوجانا وغیرہ بہت اہم ہیں۔


     ریڈ کراس انٹر نیشنل کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اب وقت بالکل نہیں ہے، اس لئے خطہ میں بھوک کے خاتمہ کے لیے  مکمل دانشمندى کے ساتھ، بڑے پیمانہ پر ایسی طویل المیعاد اور جرأت مندانہ کاروائی کی ضرورت ہے، جو فوری ہو اور جس میں اجتماعیت بھی ہو۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

آن لائن عالمہ کورس

اسلامی علوم سے واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ عالمیت ہے، جس کے نصاب میں علوم اسلامیہ کے تقریباً تمام اہم مضامین شامل ہوتے ہیں۔  دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ خواتین تعلیم یافتہ ہوں۔ خواتین اسلام کا اسلامی علوم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کے ذریعہ پورے گھر کی تربیت ہو سکتی ہے۔ عالمیت کا کورس لڑکوں کے لئے آسان ہے، کیونکہ ان کے لیے گھر سے باہر رہنا آسان ہے، اور لڑکوں کے لیے عالمیت کے ادارے بھی بہت ہیں۔  البتہ لڑکیوں کے لئے مذکورہ دونوں وجوہات سے کورس کرنا دشوار ہے۔اس لئے آن لائن عالمہ کورس کا نصاب تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ بچیاں اور خواتین جو عالمیت کرنے کا شوق رکھتی ہیں، گھر بیٹھے عالمیت کے نصاب کو پڑھ سکیں۔ دی حق اکیڈمی، لکھنو نے اسی خلا کو پر کرنے کے لئے شروعاتی مرحلے میں دو سالہ نصاب تیار کیا ہے، جس کے ذریعہ طالبات عربی زبان اور بنیادی علوم اسلامیہ (تفسیر،حدیث، فقہ) سے واقفیت حاصل کر سکیں گی۔ اس کورس کی تدریس دو معلمات (فارغات: جامعۃ المؤمنات الاسلامیہ، دوبگہ لکھنؤ) کے ذمہ ہے، البتہ وقتاً فوقتاً مؤقر علماء کرام کے محاضرات (لیکچرز) کا انعقاد کی...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد

جامعہ اسلامیہ اعظم گڑھ میں سالانہ مسابقہ خطابت کا انعقاد کیا گیا۔ مسابقہ کی صدارت جناب مولانا محمد ارشد قاسمی مدنی صاحب مد ظلہ العالی نے کی۔ فن خطابت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر علی وقار  نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ خطابت انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کا مؤثر ترین آلہ ہے۔گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ خطابت ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن میں صراحتا مذکور علوم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان میں ایک اہم علم گمراہ فرقوں کا رد اور اس کا جواب دینا ہے۔  خطابت گمراہ فرقوں کو جواب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دیا جائے تاکہ فصاحت کے ساتھ مدعو قوم کو خطاب کیا جا سکے۔ فصیح خطابت سامعین پر جادو سا اثر کرتی ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے دو آدمیوں نے تقریر کی، دونوں نے اپنے اپنے مفاخر بیان کیے، خود کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا، صحابہ کو تعجب ہوا، اس پر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کی طرح اثر کرتے ہیں۔  ب یان اگر اخلاص سے کیا جائے...