شمال مشرق کا سرسید محبوب الحق: نقوش و افکار
انگریزی تحریر: سید زبیر احمد
ترجمانی : مرزا ریحان بیگ
1993 میں جب محبوب الحق بطور انڈر گریجویٹ طالب علم کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے اس وقت وہ محض ٢٠/سال کے تھے، لیکن ان میں پہلے سے ہی ایک عظیم سرسید پروان چڑھ رہا تھا، انھوں نے جدید تعلیم کے محرک، عظیم ریفارمر، زمانہ شناس اور دوراندیش رہنما سرسید احمد خان کے مقاصد، ان کی قربانیوں اور کارناموں کو خوب پڑھ رکھا تھا.
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنے سات سالہ زمانۂ طالب علمی کے دوران وہ سرسید کے مزار پر جاتے اور گھنٹوں وہاں بیٹھ کر زبان حال سے کہہ رہے ہوتے
تمنا ہے جہان علم میں چمکوں سہا بن کر
جمود ظلمت ہستی پہ چھا جاؤں ضیا بن کر
تمنا ہے کہ دنیا مجھ سے یکسر نور ہو جائے
یہ تاریکی سمٹ کر ایک دن کافور ہو جائے
الٰہی خاک سرسید سے کچھ چنگاریاں دے دے
مذاق دل ترستا ہے تپش سامانیاں دے دے
جب کریم گنج کا یہ انقلابی نوجوان محبوب الحق 2000 میں بی ایس سی فرسٹ کلاس کے ساتھ یونیورسٹی چھوڑ رہا تھا تبھی ان کے پاس کنگ فہد یونیورسٹی اور خود AMU کی طرف سے ایم سی اے کی اعلیٰ معاوضہ والی منافع بخش ملازمت کی پیشکشیں آئیں، لیکن اس ابھرتے اور شاہین صفت سرسید نے تمام پیشکشوں کو ٹھکرا دیا اور اپنے آبائی صوبہ آسام لوٹ گئے۔ 2001 میں اپنے خوابوں کی شروعات بہت ہی معمولی کام سے کیا، جو کہ اگلے دس سالوں میں شمال مشرق کے لئے ایک معجزہ ثابت ہوا۔
جب میں نے آسام سے تعلق رکھنے والے محبوب الحق نامی علیگیرین کی ناقابل یقین کامیابیوں کے بارے میں سنا تو مجھ میں جلد ان سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی، اتفاقاً وہ دہلی ہی میں اپنے ایک ایوارڈ کے لئے موجود تھے، جب میں ان سے ملنے ان کے ہوٹل پہونچا تو بہت خوشی ہوئی، ساتھ ہی حیرت و استعجاب بھی، کیوں کہ جس طرح آپ شکل وصورت میں سرسید کے حقیقی وارث ہیں، اسی طرح فکر و عمل میں بھی سرسید متاثر نظر آتے ہیں۔ انھوں نے سرسید جیسا خواب دیکھا اور اللہ نے اس کو پورا بھی کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد، وہ اپنے پرانے کمپیوٹر کے ساتھ گوہاٹی پہنچے اور دس سال کے اندر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میگھالیہ قائم کی۔
محبوب الحق کی ولادت یکم دسمبر 1973ء کو آسام کے ضلع کریم گنج، پاتھرکنڈی، پوربوگول میں ہوئی۔ کریم گنج سے ہی میٹرک کا امتحان دیا اور اعلی نمبرات سے کامیاب ہوئے، جی سی کالج سلچر سے ایچ ایس (سائنس) کیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے ہندوستان کے سب سے پسماندہ علاقے سے نکل کر علم پرور اور تہذیب و ثقافت کے مرکز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا، جہاں اپنے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کیا۔ 1993ء تا 2000ء آپ علی گڑھ کے وقار الملک ہاسٹل میں مقیم رہے، انھوں نے بی ایس سی (کیمسٹری) میں فرسٹ پوزیشن کے ساتھ سیکنڈ رینک حاصل کی۔
اگرچہ اسے ملٹی نیشنلز اور آئی ٹی انڈسٹری میں اعلیٰ ملازمت کی پیشکشیں آئیں، لیکن اس نے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور ایجوکیشنل انٹرپرینیور کے کرنا چاہا، 2001 میں انہوں نے اپنے ایک پرانے کمپیوٹر اور چار طلباء کے ساتھ سکم منی پال یونیورسٹی کے اشتراک سے سنٹرلIT کالج شروع کردیا اور وہ فنانس کے انتظام کے لیے کمپیوٹر جمع کرتے اور اضافی وقتوں میں فروخت کا کام کرتے۔ اسی سال آپ نے 100 سے زیادہ کمپیوٹر فروخت کیے۔ طلباء کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا رہا۔ 2002 میں 28 طلباء، 2003 میں 128 طلباء، 2004 میں 236 طلباء، 2005 میں 450 طلباء، 2006 میں 1300 طلباء، 2007 میں 2200 طلباء اور 2008 میں ان کے سنٹرل آئی ٹی کالج میں 35000 طلباء نے داخلہ لیا۔ اس طرح آپ نے ایک شاندار کمپیوٹر لیب کے قیام کا خواب پورا کیا جو بعد میں ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا سنٹر بن گیا۔
آئی ٹی کالج کے قیام کا خواب تو پورا ہوگیا۔ لیکن ان کی رگوں میں سرسید کی طرح اک تموج خیز دل تھا جو برابر ان کو امت کی تعمیر و ترقی کے لئے پریشان رکھتا تھا، وہ بھی دماغ و ذہن میں انھیں کی طرح خیالوں کی جنگ برپا کئے رہتے تھے، چنانچہ انھوں نے قوم کو ایک عظیم یونیورسٹی دینے کا خواب دیکھا، اس کے لیے خوب کوششیں کیں۔ آپ کے اس خواب کو قدرت نے میگھالیہ ہی کی زمین سے پورا کیا۔ گوہاٹی سے گیارہ کلومیٹر دور آپ نے اس کے لیے زمین حاصل کی اور 2008 میں میگھالیہ حکومت نے ان کی یونیورسٹی کو منظوری تو دے دی، لیکن محبوب کے پاس تعلیمی سیشن شروع کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ عمارت کی تعمیر کے لیے بینک سے 10 کروڑ روپے کا قرض لینا پڑا، تب جاکر وہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میگھالیہ (USTM) بنانے میں کامیاب ہوئے اور میگھالیہ کے گورنر کی جانب سے یونیورسٹی کے چانسلر نامزد ہوئے۔
یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میگھالیہ کو 350 ایکڑ کی وسیع وعریض زمین میں قائم کیا گیا، جو میگھالیہ کے دارالحکومت شیلانگ سے تقریباً 85 کلومیٹر اور آسام کے دارالحکومت دیسپور گوہاٹی سے تقریباً 11 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کاموں کے ہجوم اور شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ بھی سرسید کی طرح کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ لیکن انھیں پوری امید ہے کہ 5-6 سال بعد ان مسائل پر قابو پالیں گے۔ سر سید کو تو بہت سے مسلم نواب اور عوام کی حمایت حاصل تھی۔ بدقسمتی سے ہمارے زمانے کا سرسید ان جیسا خوش نصیب نہیں ہے۔ اس لیے وہ تنہا لڑ رہا ہے۔
پچھلے سال جب بوڈولینڈ تشدد نے لاکھوں مسلمانوں کو بے گھر کر دیا تو محبوب نئے مسیحا کی شکل میں آئے۔ اس نے ریلیف کیمپوں میں رہنے والے بے گھر بچوں کی تعلیمی بحالی کے لیے انتھک محنت شروع کر دی۔ تشدد سے 35 ہزار سے زائد طلباء متاثر ہوئے جن میں سے 13 ہزار اسکول جانے والے بچے تھے۔ تعلیمی بحالی پروگراموں کے تحت تنظیموں اور مخیر حضرات کو مدعو کیا گیا تھا کہ وہ ان بچوں کی کفالت، مالی امداد، گود لینے، لڑکیوں کے لیے رہائشی اسکولوں کے قیام، صنعتی تربیتی ادارے کے قیام اور کوچنگ اور رہنمائی مراکز کے ذریعے مدد کریں۔ "زندگی اور مال ہمیں اللہ تعالیٰ نے اچھے اعمال کرنے اور اس معاشرے کی خدمت کے لیے دیا ہے، جس کے لیے ہم قیامت کے دن جوابدہ ہوں گے"۔ یہ الفاظ تو سب سے زیادہ محبوب الحق پر ہی صادق آتے ہیں۔
فکر و عمل میں سرسید کے حقیقی وارث ہونے کی حیثیت سے محبوب الحق کہتے ہیں کہ ہم علیگیرین ہر سال اپنے طور پر ایک یونیورسٹی قائم کر سکتے ہیں۔ کیا ہم میں سے 50000 ہزار یا 10000 ہزار سالانہ عطیہ نہیں کر سکتے؟ کیا ہم 500 کروڑ میں یونیورسٹی نہیں بنا سکتے؟ کیا یہ ہمارے لیے ناممکن ہے؟ نہیں ہرگز نہیں! مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمارے پاس ویژن ہی نہیں ہے!!
اپنے گزشتہ مضمون میں میں نے لکھا تھا: "مجھے سرسید پر فخر ہے لیکن علیگیرین ہونے پر نہیں"۔ لیکن محبوب سے ملاقات کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں تو کوئی قابل فخر علیگیرین نہیں لیکن مجھے اس عظیم علیگیرین پر فخر ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ دن آئے گا جب میں کہوں گا کہ مجھے سرسید پر فخر ہے اور علیگیرین پر بھی فخر ہے۔
ذیل میں ہم اس نابغۂ روزگار ہستی کے چند اہم کارناموں کو مختصراً بیان کرتے ہیں:
👈آپ سال 2005 میں قائم ہونے والی ERD فاؤنڈیشن (ایجوکیشن، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن) کے بانی چیئرمین ہیں۔
👈ریجنل کالج آف ہائر ایجوکیشن، گوہاٹی کے بانی اور چیئرمین، یہ نارتھ ایسٹرن ہل یونیورسٹی، شیلانگ سے منسلک ایک پیشہ ور کالج ہے۔
👈ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بانی اور چیئرمین، یہ دونوں NEHU Shillong سے وابستہ اور آل انڈیا کونسل آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، نئی دہلی سے منظور شدہ ہیں۔
👈کریم گنج میں سی بی ایس ای سے منسلک دو اسکولوں، سینٹرل پبلک اسکول- پاتھرکھنڈی اور سینٹرل پبلک اسکول- بدرپورکے بانی ہیں.
👈آپ ہی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، میگھالیہ کے بانی اور چانسلر ہیں.
👈حق 20 آئی اے ایس کوچنگ کے بانی.
👈آپ فخرالدین علی احمد سینٹر فار کوچنگ اینڈ گائیڈنس، گوہاٹی کے بانی ہیں.
آپ کے ذریعہ شروع کی گئی چند اسکیمیں:
١- پروفیسر قمر الحق میموریل اسکالر شپ۔
٢- خیر النسا بیگم وقف براۓ خواتین۔
٣- ڈاکٹر بھوپین ہزاریکا فیلوشپ۔
٤- پروفیسر قمر الحق میموریل انڈومنٹ(وقف) برائے مائیکرو فنانس۔
👈سینٹر فار (Education rehabilitation) کے بانی، جس کے تحت مختلف ادارےبی ٹی اے ڈی کے 100 اور 115 اعلی تعلیم یافتہ طلباء کو مکمل سپانسر کر رہے ہیں، ساتھ ہی اگلے تعلیمی سیشن کے لئے مزید 2000 طلبہ کے وظائف کی پیشکش کی گئی ہے۔
آنے والے پروجیکٹس:
1) بدر پور میں خواتین کے کالج کا قیام
2) بی ایڈ کالج، کریم گنج کا قیام
3) 9 ویں میل میں بی ایڈ کالج
4) کریم گنج میں نرسنگ کالج
5) گوہاٹی میں خواتین کا ہوسٹل
6) مزید 8 CBSE اسکولوں کا قیام
اضافی ذمہ داریاں:
👈مسٹر محبوب الحق متعدد پیشہ ورانہ اور تحقیقی اداروں کے سرپرست اعلی بھی ہیں جنھیں ERDF نے قائم کیا ہے۔
👈نیشنل مانیٹرنگ کمیٹی برائے اقلیتی تعلیم (NMCME)، وزارت حکومت ہند کے ممبر۔
👈شمال مشرق فورم کے تکنیکی اداروں(NEFTI) کےصدر
👈اقلیتی شہری کونسل(MCC) آسام کے جنرل سیکرٹری۔
یہ تھی شمال مشرق کے سرسید محبوب الحق کی فعال و مثالی زندگی اور ان کے انمٹ نقوش و افکار کی ایک جھلک، جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ توفیق سے نوازے!
بہت خوب ماشاءاللہ، اللہم زد فزد ووفقنا اجمعین۔
جواب دیںحذف کریں