افکار و خیالات کی ترسیل میں اکیڈمک گروپ ڈسکشن اور دو طرفہ بات چیت عصر حاضر کی اہم ضرورت: مسعود عالم ندوی
| محمد شہنواز: فائل فوٹو |
افکار و خیالات کی ترسیل میں اکیڈمک گروپ ڈسکشن اور دو طرفہ بات چیت عصر حاضر کی اہم ضرورت: مسعود عالم ندوی
(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سیریز کی چوتھی نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)
*دارالبحث والاعلام - لکھنؤ* کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ *اللقاء الثقافى - لکھنؤ* کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات، ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 07/01/2022 مطابق 03/جمادی الاخری 1443ھ بروز: جمعہ بوقت:08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
*میرا انتخاب، میری تخلیق*
*میری تخلیق، میرا انتخاب*
کی چوتھی نشست منعقد ہوئی، جس میں تلاوت کی سعادت محمد شاہ ظفر نے حاصل کی، محمد عزیر نے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور شعری تصنیف ضرب کلیم سے ایک پیغام آفریں نظم:
تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کرقبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوے آب بڑھ کے ہو دریائے تندو تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھویا نہ جا صنم کدۂ کائنات میں
محفل گداز! گرمئ محفل نہ کر قبول
صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک
شرکت میانۂ حق وباطل نہ کر قبول
پیش کیا، جس سے نشست میں ایک سماں بندھ گیا، شرکاء کے استفسار پر موصوف نے علامہ اقبال کا سوانحی خاکہ پیش کیا اور مشکل الفاظ کے معانی بھی بتلائے.
ابھرتے ہوئے نوجوان اہل قلم عبد القادر محبوب نے صدر اسلام کی شاعری کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ صدر اسلام کی شاعری میں جوش و ولولہ پایا جاتا ہے، احباب کی صحبتیں جو انقلاب روزگار سے برہم ہوجاتی تھیں، ان پر دردناک اشعار لکھے جاتےتھے. چراگاہوں، چشموں اور وادیوں کی گزشتہ صحبتوں اور جمگھٹوں کی ہو بہو تصویر کھیچتے تھے. اپنی سرگزشت، واقعی تکلیفیں اور خوشیاں بیان کرتے اور اپنے خاندان اور قبیلے کی شجاعت وسخاوت وغیرہ پر فخر کرتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ یہ روایت کمزور ہوتی چلی گئی اور شعر وشاعری صرف سلاطین وامراء کی مجلسیں گرم کرنے کے لئے رہ گئی، اور یہی رنگ تمام سوسائٹی پر چڑھ گیا۔
اللقاء الثقاقی کے فعال ممبر عبداللہ مجاہد نے علم تاریخ کی تعریف، نقطہائے نظر اور مطالعۂ تاریخ کے حوالے سے اسلام کا موقف بیان کرتے ہوئے کہاکہ: تاریخ دراصل انسانیت کا حافظہ ہے، جو نہ صرف قوموں اور جماعتوں کے بلکہ کل نوع انسانی کے پچھلے تجربات کا دفتر محفوظ رکھ کر انسان کے سامنے پیش کرتا ہے، تاکہ ان تجربات کی روشنی میں انسان اپنے حال کا جائزہ لے اور اپنے مستقبل کو آزمودہ بھلائیوں سے درست اور آزمودہ برائیوں سے محفوظ رکھنےکی کوشش کرے، اس دفتر میں مختلف نمائندہ شخصیتوں، اداروں، قوموں اور جماعتوں کے کارنامے ایک مربوط اور مسلسل طرزعمل کی حیثیت سے ہمارے سامنے آتے ہیں، جنھیں دیکھ کر ہم ان کی نفسیات، ان کی افتاد مزاج اور ان کی طینت کو سمجھ سکتے ہیں، تاکہ آئندہ ان کے ساتھ ہم ایک اجنبی کی طرح نہیں، بلکہ ایک واقف کار کی طرح معاملہ کرسکیں، اس سلسلے میں تین نقطہائے نظر ہیں: ایک نقطۂ نظر معروضی مطالعہ کا ہے، یعنی واقعات وحالات جیسے کچھ بھی گزرے ہیں، ان کو جوں کا توں دیکھا جائے. دوسرا نقطۂ نظر قوم پرستانہ مطالعے کا ہے، یعنی ہم واقعات کو اس نسل یا قوم یا اس ملک کی حمایت کے جذبے سے دیکھیں، جس سے ہمارا تعلق ہے، اسی لحاظ سے نتائج اخذ کریں اور اسی لحاظ سے اشخاص اور اقوام کے متعلق رائے قائم کریں. تیسرا نقطۂ نظر مقصدی اور اصولی ہے یعنی ہم نسلی وقومی تعصبات سے بالاتر ہوکر مجرد انسانی فلاح و سعادت کو مقصود ٹھہرا کر اور نیک وبد کا ایک بے لاگ معیار سامنے رکھ کر نسل انسانی اور اس کے مختلف اجزا کے کارناموں کو چانچیں اور بےلاگ ہی رائے قائم کریں اور دراصل یہی مطالعۂ تاریخ کا اسلامی موقف بھی ہے۔
نوجوان اہل قلم محمد شاہ ظفر نے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مدظلہ العالی کی مشہور نصابی کتاب *منثورات* سے الکذب کا انتخاب پیش کیا، جس میں مضمون نگار نے چھوٹ کے اقسام، چھوٹوں کی پہچان اور اس کے وسیع تر مضر اثرات کا جائزہ لیاہے۔
محمد شہنواز نے مایہ ناز مفکر وادیب حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃاللہ علیہ کی نہایت مؤثر سوانحی تصنیف *پرانے چراغ* سے قاری محمد طیب رحمۃاللہ علیہ (سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بوڑد ۔اور مہتمم دارالعلوم دیوبند) پر لکھی تحریر کو شرکاء نشست کے سامنے پیش کیا، جس سے ممدوح کے اخلاق وکردار، علمی رسوخ اور دارالعلوم دیوبند کے پلیٹ فارم سے ان کے نمایاں کارناموں اور علماء سے اظہار عقیدت ومحبت پر روشنی پڑتی ہے۔
شیخ عبداللہ ابرار نے شہرۂ آفاق کتاب (کلیلۃ ودمنہ) کے طرز پر بچوں اور مراھقوں کےلیے لکھی گئی نئی تصنیف(کلیلۃ ودمنہ للأطفال) سے ایک سبق آموز واقعہ پیش کی. مذکورہ اقتباس میں ایک عابد و زاہد کے صبر و شکر اور پھر حرص و احسان فراموشی کے دو الگ الگ کرداروں کو دلچسپ طریقہ سے بیان کیاگیاہے۔ یہ واقعہ بہت مؤثر اور کتاب کی زبان بہت سہل ہے.
مقالہ نگار محمد فضیل بیگ نے اپنا وقیع مقالہ بعنوان: "منھج دار العلوم ندوۃ العلماء فی حل القضایا المعاصرة" عربی زبان میں پیش کیا، جس میں مقالہ نگار نے بتایا کہ دارالعلوم نے مختلف قومی و ملی مسائل کو کس طرح حل کیا ہے؟ چنانچہ انھوں نے سب سے پہلے بابری مسجد کا مسئلہ پیش کیا اور دکھایا کہ ندوۃ العلماء کا کیا موقف رہا اور یہ موقف کس حد تک ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بہتر اور سازگار تھا، اس کے ساتھ وندے ماترم جیسے حساس موضوع پر ندوۃ العلماء کا طریقۂ کار سامنے رکھا، خاص طور پر موصوف کا بیانیہ اور اختتامیہ تو اس قدرجاذب نظر تھا کہ سامعین مسحور ہوہو کر رہ گئے، تحریر کی روانی وسلاست اور خوبصورت عبارت نے مقالہ کے حسن و تاثیر کو دوبالا کردیا۔
نشست کی صدارت کرتے ہوئے مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر:دارالبحث والاعلام۔ لکھنؤ) نے *اللقاء الثقاقی - لکھنؤ* سے وابستہ طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے تئیں اپنی قدردانی کا اظہار کرتے کہا کہ اپنے افکار و خیالات کی ترسیل کےلیے اکیڈمک گروپ ڈسکشن اور کامیاب دو طرفہ بات چیت بھی عصر حاضر کا بے حد مقبول طریقۂ کار ہے، ہمارے نوجوان اسکالرس خود کو اس کے لئے بھی تیار کریں۔ اس سلسلے میں مختلف ڈراموں اور سنجیدہ ٹی وی ڈبیٹ سے استفادہ کیا جانا بہتر ہوگا۔ اردو ہندی میں دی وائر، آپ کی عدالت، NDTV، دی پرنٹ، اور عربی میں لقاء اليوم، المقابلة اور بلاحدود کا کام نمونہ کا ہے۔ جس سے سوالات وجوابات کی تیاری، ویڈیو گرافی اور ایڈیٹنگ میں بہت مدد ملے گی ان شاءاللہ نیز مولانا نے طلبہ و اسكالرز کی ایک تعداد کو انٹرویو کے لئے پابند بھی کیا ہے۔
راقم سطور محمد شہنواز نے گزشتہ ہفتہ2022/ 01/ 07 کو منعقد: اللقاء الثقافی - لکھنؤ کی مفصل روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی، جسے سامعین نے بغور سنا، قدردانی کا اظہار کرتے ہوئے داد وتحسین سے بھی نوازا۔
اس موقع پر عبد الرحمن فیصل، محمد رضوان اور عبد العلی وغيره بھی موجود تھے.
واضح رہے کہ اس کامیاب علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی - لکھنؤ کے سکریٹری محمد شہنواز نے کی. سوال وجواب اور تاثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا، دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر پر نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: محمد شہنواز
(سکریٹری: اللقاء الثقافی - لکھنؤ)
07/ 01/ 2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں