قومی و ملی مسائل کے حل میں ندوۃ العلماء کا موقف قابل تقلید رہاہے: مقالہ نگار
| محمد شہنواز: فائل فوٹو |
(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سیریز کی پانچویں نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد)
*دارالبحث والاعلام - لکھنؤ* کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ *اللقاء الثقافى - لکھنؤ* کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2022/ 01/ 14مطابق 10/جمادی الاخری 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرس کے لئے ایک نئی تخلیقی سیریز بعنوان:
*میرا انتخاب، میری تخلیق*
*میری تخلیق، میرا انتخاب*
کی پانچویں نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں تلاوت کا شرف محمد شاہ ظفر نے حاصل کیا، محمد معظم نے طلبہ کے لئے ایک رہنما کتابچہ *جو کچھ تم بننا چاہو از فرید حبیب ندوی* سے ایک سبق آموز اقتباس بعنوان: "درسی کتب میں مہارت کیسے حاصل کریں" پیش کیا، جس میں منصف نے درسی کتب میں مہارت کے اصول وضوابط کو آسان طریقہ سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہےکہ: "اگر طالب علم ایک ایک موضوع کی طرف منتقل ہو مثلا پہلے زبان کی بنیادی چیزوں سے واقفیت حاصل کرے، اس کے بعد عربی ادب پر توجہ دے، پھر کسی دوسرے موضوع کو پڑھے، اس طرح تدریجا وہ ہر موضوع کو ہضم کرتا چلا جائے گا اور اسے کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا“۔ عبداللہ مجاہد نے پندرہ روزہ عربی میگزین *الرائد* سے ایک معلومات افزا رپورٹ پیش کی، جس میں اقوام متحدہ کے وفد برائے سوڈان کے صدر بیرتس نے سوڈان میں پھوٹ پڑنے والے احتجاجات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ بحران کے حل میں مکمل طور پر مدد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نوجوان اہل قلم عبدالقادر محبوب نے مایۂ ناز مفکر اور داعی وحید الدین خان کی تحریر *ادب اور اس کی تخلیق* پیش کی، جس میں موصوف نے ادب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ: "ادب نام ہے احساسات کو لفظوں کی شکل میں ڈھالنے کا، اپنے کسی تصور کو جب ہم کسی قابل فہم اشاروں میں تبدیل کردیتے ہیں تو اسی کو ادب کہا جاتاہے، نیز ادب کی تخلیق کے لئے بنیادی طور پر تین چیزوں کی ضرورت ہے، جس کو قوت اظہار، وسعت مطالعہ اور شدت احساس کے لفظ سے تعبیر کروں گا“- اللقاء الثقافی - لکھنؤ کے ممبر عبدالعلی صدیقی نے مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور تصنیف *آداب المتعلمین* سے ”علم کی حصولیابی میں نیت کی درستگی“ پر ایک نصیحت آموز اقتباس پیش کیا۔ محمد شاہ ظفر نے *ذکر رسول: ایک مطالعہ* کے عنوان پر اپنا وقیع مقالہ پیش کیا، جس میں مقالہ نگار نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے مرکزی عناوین کی خصوصیات بیان کی، کتاب کی زبان و بیان اور اسلوب پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے قابل تقلید قرار دیا، سامعین کے استفسار پر منصف کا سوانحی خاکہ بھی پیش کیا۔
اس علمی وفکری اور ابلاغی یونٹ اللقاء الثقافی - لکھنؤ کے تحت انٹرویو سیشن بھی بہت دلچسپ رہا، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، ندوۃ العلماء لکھنؤ کی طرف سے منعقد مقالہ نگاری کے انعامى مسابقہ میں کامیاب عربى مقالہ نگار محمد فضیل بیگ سے اللقاء الثقافی - لکھنؤ کے سکریٹری محمد شہنواز نے متعدد سوالات کئے، جس کا رواں عربی میں مدلل جواب محمد فضیل بیگ نے دیا۔
واضح رہے کہ عربی زبان میں اکیڈمک انٹرویو کا یہ سیشن اللقاء الثقاقی - لکھنؤ کے رکن محمد فضیل بیگ کی نمایاں کامیابی کے سیاق میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں مضمون نگاری کی اہمیت وافادیت اور اس کے لازمی عناصر کے علاوہ قومی وملی مسائل کے حل میں دارالعلوم ندوۃ العلماءکے موقف کی تفہیم پر مشتمل سوالات کئےگئے تھے۔ انٹرویو سیشن کے دلچسپ انعقاد پر شرکائے نشست بہت مسرور نظر آئے اور ہر ایک نے اس فن میں قابلیت پیدا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
نشست کی صدارت کرتے ہوئے مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر: دارالبحث والاعلام۔ لکھنؤ) نے انٹرویو سیشن کی تعریف کی، مہمان اور شرکاء کے تئیں قدر دانی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر اکیڈمک گروپ ڈسکشن اور دوطرفہ بات چیت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مشق کا یہ سلسلہ جاری رہے۔ ان شاء اللہ آپ لوگ مستقبل کے کامیاب مذاکرات شمار کیے جائیں گے۔ شبكة المجد کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں مولانا نے فرمایا: ” عربی یوٹیوب چینل *شبکۃالمجد* عالم عربی میں مغربی تہذیب کے فروغ اور اس کے مفادات کے لئے کام کرتا ہے۔ مقامی عربی زبان اور اس کےلب ولہجہ کو فروغ دینے کے لئے کوشاں رہتا ہے، تاکہ عربوں کے درمیان لسانی عصبیت پھوٹ پڑے، وہ اپنے اپنے لہجوں اور قواعد و ضوابط سے آزاد اپنی اپنی علاقائی بولیوں پہ فخر کرنے لگیں، فصیح عربی زبان و ادب، قرآن وحدیث اور وسیع تر علمی سرمایے سے عرب اقوام کا رشتہ ٹوٹ جائے، یہ در حقیقت متعصب مستشرقین کے ایجنڈے کو بڑھانے والا چینل ہے۔
یہ چینل وقتا فوقتاً اسلامک اسکالرس کو بھی مدعو کرتا ہے، تاکہ چینل کی اصل سرگرمیوں پر پردہ ڈالا جاسکے اور لوگ یہ سمجھیں کہ اس میں تو صالح مواد ہے، اچھے اسکالرس تشریف لاتے ہیں، اس طرح ناظرین دوکھے کا شکار ہوجائیں اور دھیرے دھیرے یہ زہر پیتے جائیں۔
مولانا نے مزید فرمایا کہ مشرقی ممالک میں صحت، تعلیم، انفارمیشن، کلچرل پروگرامز، کھیل کود اور سیاحت وتحقیق وغیرہ کے نام پر ایسے بے شمار مراکز اور گروپس ہیں، جو مغربی مفادات کے لئے کام کرتے ہیں، ان سے واقف رہنا، ان کے ساتھ ڈائیلاگ کرنا اور معاشرہ کو ان کے شر سے بچانا بہت ضروری ہے۔
راقم سطور محمد شہنواز نے گزشتہ ہفتہ 2022/ 01/ 14 کو منعقد :اللقاء الثقافی - لکھنؤ کی مفصل روداد شرکائے نشست کی سامنے پیش کی اور اخیر میں محمد رضوان کشمیری نے پرسوز آواز میں ٹھہر ٹھہر کر اس طرح سورة القيامه کی تلاوت کی کہ نشست پر ایک کیفیت طاری ہوگئی۔ واضح رہے کہ اس کامیاب علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی - لکھنؤ کے سکریٹری محمد شہنواز نے کی۔ سوال وجواب اور تاثرات و تصحیح کا سیشن بھی خوب رہا، جس سے محفل کی افادیت دو چند ہوگئی۔
دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر پر نشست کا اختتام ہوا۔
بقلم: محمد شہنواز
(سکریٹری: اللقاء الثقافی - لکھنؤ)
14/01/2022
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں