نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

علمی و ثقافتی سرمایہ کی حفاظت ہمارا ملی و قومی فریضہ: شرکائے نشست

 علمی و ثقافتی سرمایہ کی حفاظت ہمارا ملی و قومی فریضہ: شرکائے نشست

(طلبہ اور اسکالرز کےلئے تخلیقی اور تربیتی سیریز کی تیسری نشست کا خیر النساء بہتر ہال میں کامیاب انعقاد) 

    دارالبحث والاعلام - لکھنؤ کی ہفت روزہ علمی، ادبی اور فکری یونٹ اللقاء الثقافى - لکھنؤ کے زیر اہتمام جامعہ خدیجۃ الکبری للبنات ندوہ روڈ، لکھنؤ کے خیر النساء بہتر ہال میں 2021/ 12/ 31 مطابق 26/جمادی الاولی 1443ھ بروز: جمعہ بوقت: 08:00 - 09:00 بجے دن طلبہ اور نوجوان اسکالرز کے لیے ايک نئی تخلیقی سیریز بعنوان: 


   میرا انتخاب، میری تخلیق 

   میری تخلیق، میرا انتخاب 

کی تیسری نشست منعقد ہوئی، جس میں تلاوت کا شرف حافظ عبدالرحمن فیصل نے حاصل کیا، ابھرتے ہوئے نوجوان اہل قلم شیخ عبداللہ نے پندرہ روزہ عربی میگزین الرائد سے منتخب ایک معلومات افزا مضمون کا رواں اردو ترجمہ پیش کرتے ہوئےکہا کہ ریڈ کراس انٹرنیشنل فیڈریشن کی جاری کردہ رپوٹ کے مطابق براعظم افریقہ طویل مدت سے غذائی تحفظ کے بحران کا سامنا کررہا ہے، اس کے کئی اسباب ہیں: جن میں جنگوں کا تسلسل، امن و امان کا فقدان، ٹڈیوں کا ہجوم، باران رحمت کی قلت اور مارکیٹ کی گراوٹ وغیرہ خاص طور پرقابل ذکر ہیں۔ 


    نوخیز قلمکار عبداللہ مجاہد نےاپنا عربی روزنامچہ پیش کیا، جس میں موصوف نے اپنی صبح و شام، نماز وتلاوت اور اساتذۂ کرام سے اپنی علمی و فکری وابستگی کا تذکرہ کیا، روزنامچہ کا اسلوب بہت سہل اور تحریر میں بلا کی روانی تھی. اللقاء الثقافی کے فعال ممبر محمد عزیر نے انیسویں صدی کے ممتاز شاعر، بچوں کے ادیب مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کی مشہور تصنیف اردو زبان کی پانچویں کتاب سے ایک رہنما اقتباس پیش کیا، جو دوستی کی ضرورت، اور دوست کے انتخاب کے متعلق ہدایات پر مشتمل ہے، جس میں صاحب کتاب نے سچے دوست کی خصلتوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔


    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ کتاب جدید تقاضوں کے مطابق  زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آئی ہے. خوبصورت تحریر، دیدہ زیب اوراق اور پرنٹنگ کی غلطیوں سے پاک نسخہ طلبۂ و اساتذہ اور باذوق قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کےلیے مکتبہ احسان مکارم نگر، لکھنؤ شکریہ کے مستحق ہیں. 

 

    محمد شاہ ظفر نے نامور محقق ومفسر اور اردو ادب کے مایۂ ناز انشاء پرداز عبد الماجد دریابادی کی ادبی و تاریخی تصنیف ذکر رسول کے منتخب ادبی شہ پاروں سے شرکائے محفل کو محظوظ کیا۔ محمد معظم نے مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی بصیرت کےموضوع پر تحریر شدہ ایک وقیع مقالہ کا انتخاب پیش کیا، جس میں مقالہ نگار نے مولانا آزاد کی سیاسی قابلیت اورتقسیم ہند کے وقت اس عظیم قائد کی دوربینی اور دوراندیشی کا تذکرہ کیا، جو نئی نسل اورخصوصا تاریخ ہند سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئےخاصےکی چیز ہے.


     نوخیز خطیب محمد فضیل بیگ نے اپنا موثر اور دلآویز عربی خطبہ پیش کیا، جس میں نماز کی اہمیت وافادیت، پڑھنے پر رب کریم کی طرف سے ملنے والے اجر و انعام، ترک کرنے پرملنے والی خوفناک سزا کا تذکرہ تھا، جس سے سامعین کو نماز کی ترغیب ہوئی. خطیب کا اسلوب نہایت پرکشش اوربیانیہ بہت مدلل وبلیغ تھا۔ 


    مسعود عالم ندوی (ڈائریکٹر :دارا البحث والاعلام۔ لکھنؤ ) نے قناۃ الأدب العربي کے نام سے موسوم ایک گراں قدر عربی یوٹیوب چینل کا تعارف کرایا، جس میں قدیم وجدید مستند عربی شعراء کے کلام کو خالص عربی لب ولہجہ میں آواز دی گئی ہے، اس عربی چینل سے جہاں طلبۂ وطالبات، نوجوان اسکالرس اور اساتذۂ ادب؛ عربى اشعار پیش کرنے کاخوبصورت لب ولہجہ سیکھ سکتے ہیں، وہی وه ایڈیٹنگ اور بیک گراؤنڈ کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکیں گے، موقع ومحل کےمطابق تصویروں کی ترتيب اور مناظر فطرت کی عکاسی سے تاثیر میں مزید اضافہ کو بھی محسوس کرسکیں گے. معلومات افزا ویڈیو گرافی، صالح اقدار پر مبنی فلم سازی عصر جدید کی اہم ترین ضرورت ہے، جس میں ہمارے طلبہ ونوجوان اسکالرس کو دلچسپی لینی چاہیے. 


    تعارف کے  ساتھ مولانا نے مذکورہ چینل سے عنترۃ بن شداد، متنبی، ابو عبادہ بحتری اور ابو فراس حمدانی جیسے نامور شعراء کے کئی منتخب ویڈیو کلپس بھی دکھائے، جن سے شرکائے نشست نے بھر پور استفادہ کیا اور خالص عربی لب و لہجہ اختیار کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔


    راقم سطور محمد شہنواز نے گزشتہ ہفتہ2021/ 12/ 24 کو منعقد: اللقاء الثقافی - لکھنؤ کی مفصل روداد سامعین کی خدمت میں پیش کی، جسے سامعین نے بغور سنا، قدردانی کا اظہار کیا اور کہا کہ علمی اور ثقافتی سرمایہ کی حفاظت ہمارا فریضہ ہے. 

    واضح رہے کہ اس کامیاب علمی، ادبی، فکری، تصویری، ابلاغی اور تربیتی نشست کی نظامت اللقاء الثقافی - لکھنؤ کے سکریٹری محمد شہنواز نے کی. سوال وجواب اور تاثرات و تصحیح کے سیشن سے بھی شرکاء نے خوب فائدہ اٹھایا، دعائے ماثورہ اور کلمات تشکر پر نشست کا اختتام ہوا۔


بقلم: محمد شہنواز

(سکریٹری: اللقاء الثقافی - لکھنؤ)

31/ 12/ 2021

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...