| ذکی احسن: فائل فوٹو |
تحریر : المجتمع عربی
ترجمانی: محمد ذکی احسن فہمی
اسلام ایک ہمہ گیر اور آفاقی دین ہے، اس میں اصلاح کی حیثیت صرف سیاسی نہیں ہے، بلکہ سیاسی اصلاح ایک ایسا شرعی، فکری، تہذیبی اور معاشی فیصلہ ہے، جس کا گہرا تعلق اخلاقی قدروں سے بھی ہے۔ اصلاح کا یہ عمل کسی بھی مملکت میں کسی فرد واحد کے فرمان سے مکمل نہیں ہوتا ہے، بلکہ سیاسی اصلاح ایک ایسا ہمہ گیر اور اعلی سطحی فیصلہ ہوتا ہے، جو سربراہ مملکت اور عوام اپنے سیاسی اداروں کے ذریعے کرتے ہیں۔ مملکت کی ایک حالت سے دوسرے حالت کی طرف منتقلی اور ایک سیاسی پالیسی کو چھوڑ کر دوسری سیاسی پالیسی کو اختیار کرنا، ایک ایسا فیصلہ کن اقدام ہوتا ہے، جس میں عوام اور سرکار دونوں کی شرکت لازمی ہوتی ہے، اسی وجہ سے بہت سے ممالک اس طرح کی تبدیلیوں کے وقت عام رائے شماری (ریفرندم) کراتے ہیں اور کبھی کبھی حکومتیں عوام سے ریفرنڈم کرواتی ہیں اور عوام کی مرضی کے مطابق فیصلے لیتی ہیں۔
یہ بات پوری قوت سے کہنا ضروری ہے کہ ہمارے دین مین سیاسی اصلاح کوئی انوکھی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ تو فکر اسلامی اور شریعت اسلامی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی اور مدینہ کو ایک فلاحی ریاست کی شکل دی، تو اس کی بنیاد ایسے اصلاحی اصولوں پر رکھی، جن سے حکومت کی حفاظت ہو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم کرایا، تاکہ سماجی طور پر وہاں مساوات قائم ہو، اس میں طبقہ واریت کی کوئی جگہ نہ رہ جائے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں اور ان یہودیوں کے ساتھ جو مدینہ کے شہری تھے معاہدے کئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نکال باہر نہیں کیا، انھیں جلاوطن نہیں کیا یا ان سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے ان کا قتل عام بھی نہیں کروایا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکمل شہری حقوق عطا کیا-
مستحکم حکومت کےلیے مضبوط خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی، اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسی ممالک کے رؤساء و امراء کے نام دعوتی خطوط لکھے، حفاظتی دستے تیار کروائے اور پرچم ڈیزائن کروایا، مسجدیں تعمیر کیں، تاکہ یہاں مسلمان اپنے اجتماعی کاز کے لئے جمع ہوسکیں، عبادت کریں، ان کے مقدمات فیصل ہوں اور حفاظتی دستوں اور فوجوں کو وہیں سے روانہ کیا جائے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کو غریب مسلمانوں کے لیے ٹھکانا بھی قرار دیا، اس کے علاوہ مسجد کے اور بھی تمدنی کردار ہیں۔
اسلامی قانون سازی نے سیاست کے سلسلے میں الگ سے بے شمار نئے نئے ابواب قائم کیے، تاکہ حکومت کی تشکیل میں اسلام کا نمایا کردار سامنے آئے۔ اسلامی قانون سازی نے حاکم کی شرطیں مقرر کیں، طریقۂ انتخاب وضع کیا، حاکم اور رعایا کے درمیان معاملات کی کیفیت کو بھی واضح کیا۔ شریعت نے معاشرے کی حفاظت کے لیے سزائیں مقرر کیں، احکامات نافذ کئے، ان سب کے ساتھ اسلامی شریعت نے اس معاشی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا، جو معاشرے کو استحکام عطا کرتا ہے، چنانچہ زکوۃ فرض کیا تاکہ مالداروں سے مال لے کر ضرورت مندوں کو دیا جائے، صدقہ و خیرات کی ترغیب دی۔ مالیات سے متعلق یہ احکام معاشرے میں سستی پیدا کرنے کے لیے نہیں دیئے، بلکہ کام پر آمادہ کرنے اور پیداوار بڑھانے کے لیے اس طرح کی قانون سازی کی۔ شریعت نے بےروزگاری اور سستی کی مذمت کی، کام کو ان مسنون و مستحب اعمال میں شمار کرایا، جن پر مؤمن کو اجر دیا جاتا ہے۔ یہ تو بس چند مثالیں ہیں جو مشت از خروارے کے طور پر پیش کر دی گئ ہیں۔ ان چند مثالوں کی حیثیت اس ایک سطر سے بڑھ کر نہیں ہے، جو اسلامی قانون سازی کی جمالیات کے موضوع پر لکھی گئی ایک ضخیم کتاب سے ماخوذ ہو۔
اسی وجہ سے ضروری ہے کہ ہم سیاسی اصلاحات اور ریاست کی صحیح تعمیر کی طرف اس بنیاد پر نہ دیکھیں کہ وہاں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں، قومی اسمبلی اور عوامی اسمبلی کا الیکشن ہو رہا ہے، سیاسی بحران کا حل نکالا جا رہا ہے، بلکہ اصل مسئلہ ایک ایسی مملکت کی تعمیر کا ہے، جو شہریوں کے لیے خوشحالی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کرے، تاکہ وہ شہری آزادی کی فضا میں سانس لیں اور اجتماعی خوشحالی کے ماحول میں زندگی گزاریں۔
امت کی تاریخ کے اس اہم ترین مرحلے میں اسی سیاسی مسئلے کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت "سیاسی اصلاحات کے کچھ اہم نمونے" کو موضوع بحث بنایا جائے کیوں کہ اس وقت عالم عربی اور عالم اسلام عبوری دور سے گزر رہا ہے اور معاشی بحران کا بھی اس کو سامنا ہے۔ چنانچہ دیکھیے لیبیا میں صدارتی انتخاب سامنے ہے، تونس میں صدر نے ہی دستوری حکومت کے خلاف انقلاب برپا کر دیا ہے، ترکی اور خلیجی ریاستوں اور لبنان میں نئے الائنس کی بنیاد رکھی جا رہی ہیں اور سوڈان بھی انقلاب کی سر زمین بن چکا ہے۔ یہ ساری تبدیلیاں بدترین معاشی بحران کے ماحول میں پیش آرہی ہیں، اس کے متعدد اسباب ہیں: ان میں ایک اہم سبب پٹرول کی قیمتوں میں گراوٹ بھی ہے۔
| مترجم : ذکی احسن فہمی |
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں