نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

وقار مادر ہندوستاں تھے گاندھی جی

 ارمان دلکش

   وقار مادر ہندوستاں تھے گاندھی جی 

موہن داس کرم چند گاندھی ہندوستان کی جنگ آزادی کے قائد و رہنما تھے، انھوں نے عدم تشدد کی بدولت ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے رہائی دلائی، جو دنیا کےلئے بالکل نیا تجربہ تھا، یہی وجہ ہے کہ عدم تشدد ( Non voilence ) پوری دنیا کے انسانوں کے لئے آزادی اور حقوق انسانی کی بازیافت کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا‌۔مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کی طاقت پر کیف احمد صدیقی کے چند اشعار ذہن و دماغ پر چھا جاتے ہیں ۔

سنی نہ بات تشدد بھرے اصولوں کی 

مہک لٹائی اہنسا کے نرم پھولوں کی

خلوص و عجز کے اک گلستاں تھے گاندھی جی

وقار مادر ہندوستان تھے گاندھی جی


مہاتما گاندھی کی پیدائش ایک قدامت پسند گجراتی ہندو کنبہ میں ہوئی تھی، لیکن انھوں نے بڑی ایمانداری سے دیگر مذاھب کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ شہید کربلا امام حسین کی شجاعت نے انھیں اپنے وقت کی سپر پاور طاقت انگریزوں سے ٹکرانے کا حوصلہ دیا۔امام حسین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

امام حسین کی انتہائی درجہ کی سادگی، اپنی ذات کی مطلق نفی، عہد کی پاسداری، اپنے دوستوں اور پیر کاروں کے لئے اخلاص، ان کی بہادری اور ان کا بے خوف ہونا، ان کا خدا پر غیر متزلزل ایمان اور ان کا اسلام کو بچانے کا ذاتی مشن یہ وہ چیزیں تھیں جنھوں نے اسلام کو تقویت بخشی۔

       

گاندھی جی نے سچ اور عدم تشدد کے انوکھے اور بے مثال ہتھیار کو اپنا کر جو انوکھا کردار ادا کیا وہ بیشک دنیا میں نرالا اور بہت ہی خاص مانا اور جانا جاتا ہے ۔ان کی دیگر خدمات، بلند ترین افکار و خیالات پوری دنیا کے انسانوں کے لۓ تھے‌۔ سچائی اور عدم تشدد ( non voilence) کو ہی وہ اپنا ہتھیار سمجتھے تھے اور انھیں دونوں چیزوں کا سہارا لے کر کے اپنے کام کی ہمیشہ شروعات کرتے تھے.

ان کی ذاتی زندگی ہو یا پھر باہر کے مسائل ،سچ اور انسانیت کو انہوں نے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا‌۔جنوبی افریقہ میں رہ کر ان کے اصولوں اور منصوبوں (Planning ) کو قوت ملی، ویسے تو گاندھی جی بے شمار خوبیوں کے مالک تھے، لیکن گاندھی جی کی جو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی خوبی تھی وہ ہے ہندو مسلم ایکتا ۔مثال کے طور پر ۔ گاندھی جی کہا کرتے تھے اگر ہندو اپنے بھائیوں کے نزدیک آنا چاہتے ہیں تو انھیں اردو پڑھنی چاہیے اور ہندو بھائیوں کے نزدیک آنے کی خواہش رکھنے والے مسلمان کو بھی ضرور ہندی سیکھ لینی چاہیے. 


گاندھی جی نے 27/جنوری 1974ء کو دکشن بھارت ہندی پرچار سبھا مدراس میں بولتے ہوے کہا: ہندی اور اردو دو ندیاں ہیں اور ہندوستان ساگر ہے۔ان دونوں میں سے ہمیں کسی سے نفرت نہیں ہونی چاہۓ ہمیں تو دونوں کو اپنانا ہے، لیکن آج کے دور میں جب سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے دلوں میں دوریاں پیدا کی جارہی ہیں اور نئی نسل کے نوجوان جن کے مضبوط شانوں پر مستقبل کے ہندوستان کو سجانے، سنوارنے اور مضبوط کرنے کی ذمہ داری ہے اور اپنے فرائض سے غافل ہو کر مذہبی جنون میں مبتلا ہو کر مذہبی منافرت کی فضابندی میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں تو اس طرح کے ماحول میں آج مہاتما گاندھی کی ملک کو شدید ضرورت ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے تھے۔


ہمارے دل منور کردئے نور محبت سے

ہوۓ آگاہ اہل دہر رمز آدمیت سے

وطن کے آسماں پر ایک رخشندہ ستارے تھے

ہمیں یہ فخر ہے اہل جہاں گاندھی ہمارے تھے 


 گاندھی ہمارے تھے، ہمارا یہ دعویٰ اسی وقت حقیقت میں تبدیل ہوگا، جب ہم ان کے اصولوں پر چل کر سب کو اپنے اپنے طور پر جینے کا حق دیں گے۔ ہمارے نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک اسی وقت ترقی کر سکتا ہے جب امن و امان ہوگا، ملک میں چین سکون ہوگا، کسی کے دل میں اپنے مذہب کے تعلق سے کوئی خوف نہ ہوگا، سب کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی ہوگی، جب ایسا ہوگا تو ہم لوگ فخر سے کہ سکیں گے کہ باپو ہمارے راشٹریہ پتا ہیں۔


✍️ ارمان دلکش



تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...