نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

چاند کی بات:توقیر أحمد عبد الفتاح ندوی


 ایک سوال ہے کہ کہ رویت ہلال کے پس منظر میں ڈگری کا ذکر آتا ہے، کہ چاند چار ڈگری سات ڈگری پر ہو تو نظر نہیں آئے گا، اور اگر چاند ١٠ ڈگری سے زیادہ پر ہو تو نظر آئے گا۔

یہ ڈگری کیا چیز ہے؟

یاد رہے کہ ڈگری ایک ابتدائی حجم، پیمانہ یا اکائی ہوتی ہے جو ہر مسافت یا وزن کی پیمائش کے لیے الگ الگ ہے۔

ہم اس تحریر میں رؤیت سے وابستہ کچھ مزید معلومات بھی رقم کرنے کی کوشش کریں گے، اور اسی دوران ڈگری کا مفہوم بھی واضح ہو جائے گا۔

ہر رمضان اور عید کے موقع پر چاند دیکھنے کا اہتمام ہوتا ہے۔ اس مناسبت سے آج کل فلکیاتی حساب اور اصطلاحوں کا ذکر بھی آتا ہے، اس موقع پر اس کا سمجھنا ہمارے لیے فائدے سے خالی نہ ہوگا۔ ہم نے بھی اس کو طالب علمانہ طور پر سمجھ کر قلمبند کرنے کی کوشش کی ہے۔

چاند زمین کا ذیلی سیارہ ہے، بہت سے پلانیٹس یعنی کواکب کے ذیلی سیارے ہوتے ہیں، ان کو بھی چاند ہی کہا جاتا ہے۔

چاند زمین کے گرد گھومتا ہے، اور زمین سورج کے گرد۔ چاند زمین کے گرد اپنا چکر 27 دن 7 گھنٹے 34 منٹ میں پورا کرتا ہے۔ مگر زمین اپنے مدار پر گھومتے ہوئے کچھ آگے نکل جاتی ہے، اس لیے گردش مکمل کرنے میں اسے مزید وقت لگتا ہے، اور وہ 29 دن 12 گھنٹے تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ فرق اس سلسلے میں مزید مطالعہ کرکے واضح ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ مہینوں کا حساب تاریخ انسانیت میں زیادہ تر چاند پر ہی رہا ہے، اسی لیے ایک انگریزی کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ انگریزی میں مہینے کے لیے لفظ Month بھی اسی لفظ Moon سے مشتق ہے۔

چاند 26 دنوں کے بعد سورج کی روشنی سے غائب ہو جاتا ہے، اس لیے وہ نظر نہیں آتا، اس کی وجہ چاند کا زمین اور سورج کے درمیان ایک ہی خط پر موجود ہونا ہے۔ اس مدت کو فلکی اصطلاح میں محاق کہتے ہیں، اس لیے کہ اس دوران اس کی روشنی مٹ چکی ہوتی ہے، جو عربی کے اس لفظ کے معنی سے ادا ہورہا ہے۔ کبھی یہ مدت دو دن اور کبھی تین دن رہتی ہے۔ چونکہ اس مدت میں سورج، زمین اور چاند ایک ہی خط پر جمع ہوتے ہیں، اسلیے اسے فلکی اصطلاح میں اقتران بھی کہتے ہیں۔(conjunction)

اس خط سے الگ ہونے یعنی اقتران سے گزر کر آگے بڑھنے کو ولادۃ الہلال کہتے ہیں، یعنی نئے چاند کا ظہور۔ اب فلکی اعتبار اور تجربے سے یہ معلوم کرلیا گیا ہے کہ اقتران کے بعد چاند پر اتنی روشنی کب پڑتی ہے جو زمین پر آنکھوں سے یا ٹیلی اسکوپ سے چاند کو نظر آنے کے قابل بنا سکے۔

👈    ۱

چاند کا دیکھنا اقتران سے قبل ممکن ہی نہیں، ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ چاند کی ولادت پر کم از کم ١٦ گھنٹے گزرنا ضروری ہے، اس سے پہلے چاند خط اقتران سے اتنا باہر نہیں آتا کہ سورج کی روشنی اسے نظر آنے کے قابل بنا سکے، بارہ گھنٹوں کے بعد ٹیلی اسکوپ سے دیکھنا کبھی کبھی ممکن ہوتا ہے۔ اقتران کے بعد بائیس گھنٹے گزرنے پر اس کا نظر آنا بہت آسان ہوتا ہے۔

چاند کی باریکی اور موٹاپن کا تعلق اس کی ولادت پر ہے، لہذا آج صبح آٹھ بجے اقتران مکمل ہوا ہے تو آج شام چھ بجے غروب کے وقت نظر نہیں ائے گا، اس لیے کہ اس کی عمر بارہ گھنٹے ہے، البتہ کل غروب کے وقت ضرور نظر آئے گا، اور اس وقت وہ موٹا بھی ہوگا اور دیر تک بھی افق پر رہے گا، اس لیے کہ اس وقت اس کی عمر 36 گھنٹے ہوچکی ہے۔

تیس کا چاند اگر کبھی موٹا ہو اور دیر تک رہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیی کہ وہ دو دونوں کا ہے، بلکہ اس کی اصل وجہ اس کی لمبی عمر ہوتی ہے۔ اقتران کا وقت متعین نہیں ہے، اس لیے ہمیشہ ہلال کی روشنی اور موٹاپن یکساں نہیں ہوگا۔ اقتران سے آگے بڑھنے کی مدت کو عمر الہلال کہتے ہیں۔(moon age)

جغرافیائی طور پر وقت کا فرق رہتا ہے، اس لیے کہیں سورج زمین پر اگر دو گھنٹے بعد غروب ہوگا تو وہاں چاند نظر آسکتا ہے، مگر دوگھنٹے پہلے والی جگہ پر نظر نہیں آئے گا، اس لیے کہ ایک جگہ چاند کی عمر ١٥ گھنٹے تھی، اور دوسری جگہ سترہ گھنٹے، اور سترہ گھنٹے کے بعد امکان پیدا ہوجاتا ہے۔


👈  ۲

چاند کا سورج غروب ہونے کے بعد کم از کم 40 منٹ تک افق پر موجود ہونا ضروری ہے، اس سے کم مدت افق پر رہنے کی صورت میں رؤیت بہت مشکل ہے


👈۳

چاند کا آٹھ ڈگری کے زاویے پر ہونا ضروری ہے۔

زاویے کا مطلب ہے:

چاند سیدھا دائیں یا سیدھا بائیں گردش نہیں کرتا ہے بلکہ وہ خط اقتران سے زاویائی یعنی ترچھی شکل میں بڑھتا ہے۔

چاند کا مدار یعنی پورا دائرہ 360 ڈگری ہے، تین سو ساٹھ ڈگری کو یوں سمجھا جائے کہ ایک گول دائرہ بنائیں، اس کی گولائی کو چار حصوں میں تقسیم کریں، ہر ایک چوتھائی ٩٠ ڈگری ہے، اس دائرے پر اپنے سامنے سے جب قلم چلائیں گے تو وہ جب آگے بڑھتے ہوئے ایک چوتھائی پر پہنچے گا تو مطلب ہوگا کہ ٩٠ ڈگری پر پہنچ گیا، اور جب دائرے کی آدھی گولائی پر پہنچے گا تو مطلب ہوگا کہ وہ ١٨٠ ڈگری پر پہنچا، جب وہ جہاں سے چلا تھا گھومتے ہوئے وہیں پہنچے گا تو ٣٦٠ ڈگری مکمل ہوگیا۔

چاند اپنا ایک ڈگری چار منٹ میں پورا کرتا ہے، ایک مہینے میں تین سو ساٹھ کو پورا کرنے کے لیے چاند کو پونے تیرہ درجے سفر کرنا ہے تاکہ اٹھائیس دن اور کچھ گھنٹے میں یہ سفر مکمل ہو، حساب میں جو کمی بیشی یا فرق معلوم ہو رہا ہے اس کی وجہ زمین کا اور چاند کا مداری فرق ہے۔

یہ کمی بیشی کا مداری فرق ہی ہے جس کی وجہ سے مہینہ کبھی انتیس کا ہوتا ہے اور کبھی تیس کا۔ یہ فلکیاتی حساب کے باریک ضابطوں سے فلکیات کے ماہرین بآسانی معلوم کرلیتے ہیں۔ چونکہ موسمیاتی محکمہ اور فلکیاتی رصد گاہوں پر مصروف عملہ اور ماہرین اس کام میں مشغول ہوتے ہیں، اس لیے اس محکمے کے ماہرین اور ذمے داروں کے پاس یہ تفاصیل موجود رہتی ہیں، اب مختلف مسلم ممالک میں وزارت اوقاف اس موضوع میں دل چسپی لے رہی ہے، اور رویت ہلال کے تجربے کو دلچسپ بنانے میں بڑا رول ادا کر رہی ہے۔

نیٹ پر بعض حکومتوں کے اور ماہرین کے بکثرت مقالے موجود ہیں جہاں سے یہ تفصیل بغور مطالعہ کرکے معلوم ہوسکتی ہے۔


👈۴

 سورج کے غروب ہونے کے بعد چاند کے نظر آنے کے لیے اس کا افق پر 6 ڈگری بلندی پر ہونا ضروری ہے، اس سے کم بلندی پر ہونے کی صورت میں وہ نظر نہیں آسکتا۔ 

یہاں ڈگری کا مطلب ہے:

افق کی ابتدا یعنی جہاں ہمیں آسمان زمین سے ملا ہوا نظر آتا ہے، وہاں اپنی مٹھی کو اس طرح بند رکھیں کہ چار انگلیوں کے ساتھ انگوٹھا بھی اوپر گری ہوئی حالت میں ہو، یہ بند مٹھی سامنے افق پر یوں محسوس ہو کہ زمین پر رکھی ہے، اس معیار سے افق کی بلندی کی پیمائش ہوتی ہے۔

اب آپ کی مٹھی افق پر جو نظر آرہی ہے وہ چار انگلیوں اور ایک انگوٹھے سمیت دس ڈگری شمار ہوگی، اس لیے کہ ایک انگلی کو دو ڈگری تسلیم کیا گیا ہے۔


ایک سائنسدان کا اقتباس:

"زمین کے مدار اور چاند کے مدار میں تبدیلی آتی رہتی ہے کیونکہ یہ ہم سطح نہیں ہیں، اور ہوا کی کیفیت بھی یکسان نہیں رہتی اور چاند کی رفتار میں بھی فرق ہوتا ہے کبھی زمین کے قریب ہو کر تیز گھومتا ہے اور کبھی زمین سے دور ہو کر آہستہ گردش کرتا ہے، اس لئے ہم سائنسی طور پر مستقبل کے چاند کے پوزیشن کے بارے میں بات کر سکتے ہیں، البتہ رویت ہلال کے بارے میں یقینی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس میں کئی ایک عوامل ہیں جو یکسان نہیں رہتے۔ اس لئے حدیث شریف میں بھی چاند کو دیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند کو دیکھ کر افطار کر نے کا حکم دیا گیا ہے۔سائنسی طور پر رویت ہلال کا کوئی کیلنڈر مرتب نہیں کیا جاسکتا، اور نہ ہی ہم کسی اور ملک کے اعلان اور مرتب کردہ کیلنڈر کی پیروی کرنے میں پابند ہیں۔ کیونکہ ہمارے اور ان کے جعرافیائی حالات اور وقت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔"


چند نکات

قمر اصل کرہ کا نام ہے، ہلال اور بدر عربی میں اس کی حالت کا نام، لہذا ہلال بھی قمر ہے، اور بدر بھی قمر ہی ہے۔

چاند کا ایک مدار ہے، مگر اس کی گردش کا نظام بہت پیچیدہ ہے، اس لیے فلکی ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند کی پوزیشن جاننا کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور پچاس سال بعد آج کی تاریخ میں کس پوزیشن پر ہوگا؟ یہ بتانا تو ممکن ہے، مگر اس کی رویت کس مہینے کے کس متعین وقت پر ممکن ہوگی یہ ممکن نہیں ہے۔

ایک دو ماہ قبل اس کا اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے، مگر سالوں کا نظام بنانا ابھی انسانی تحقیق کی قابو میں نہیں آسکا ہے۔


ہم نے بہت سے مقالات اور نیٹ پر موجود رپورٹس کی مدد سے یہ تفصیل رقم کی ہے۔

اگر کسی قاری نے اصلاح اور اضافے کی توجہ کی تو وہ ان کا علمی احسان‌ ہوگا۔

اس میں قرآن و حدیث میں موجود آیات و احادیث سے استشہاد نہیں کیا گیا ہے، اس کی وجہ مضمون کو مختصر بنانا ہے، ورنہ بہت سی آیات و احادیث استشہاد میں پیش ہوسکتی ہیں۔

اللہ ہمیں اپنے دین اور کاینات کی حقیقت کو سمجھنے اور ان پر تحقیق کرنے والا بنائے۔

___________________٠١/٠٣/٢٠٢٤

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...