نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اخلاق کریمانہ اختیار کرنے کی ضرورت: مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی

مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی نے مدرسہ سیدنا بلال رضی اللّٰہ عنہ کے سالانہ جلسہ تقسیمِ انعامات سے خطاب کیا۔ آپ نے دوران خطاب مختلف بزموں میں حصہ لینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی، اور جن طلبہ نے بزموں میں حصہ نہیں لیا ان کی اس جانب توجہ دلائی اور رہنمائی کی۔  

آپ نے طلبہ سے دوران خطاب اخلاق کریمانہ اختیار کرنے کی ضرورت و اہمیت پر مفصل گفتگو کی، آپ نے کہا کہ اخلاق کی بڑی اہمیت ہے۔ مدارس کے طلبہ اس میں پیچھے ہیں۔ ہم کہتے تو ہیں کہ ہم ایک ہیں، لیکن یہ سب ہمارے جھوٹے دعوے ہیں، توحید و رسالت کی بنیاد پر ایک ہونے کے باوجود ہم ایک نہیں ہیں، اس کی بڑی وجہ اخلاق کریمانہ کا فقدان ہے۔

اس ملک میں مسلمانوں کی موجودہ خراب صورتحال کی بڑی وجہ مسلمانوں کے برے اخلاق بھی ہیں۔ مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھوں سے اس کے بھائی محفوظ ہوں، ایمان کی تکمیل کا مدار بہتر اخلاق کو قرار دیا گیا ہے۔ 

اس ملک میں غیر مسلم ہمیں دیکھتے ہیں، پرکھتے ہیں، کہ کیا مسلمان مسلمان کے خلاف عدالتوں میں نہیں کھڑا ہے ؟ کیا مسلم پڑوسی مسلم پڑوسی کو نہیں ستا رہا ہے؟ کیا مسلمان خواتین مسلمانوں مردوں سے محفوظ ہیں؟ کیا مسلمان باپ اپنے مسلم بیٹے سے پریشان نہیں ہے؟ تو ایسے میں حالات کیسے بہتر ہوں۔ نہی عن المنکر سے اس لیے ہم شرماتے ہیں کہ ہم خود بھی اسی برائی میں مبتلا ہیں۔ 

مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کو ان امور کی طرف توجہ دینا چاہئے، کیونکہ اس سے ہمارا سارا نظام خراب ہو رہا ہے۔ ہم مدارس والے عوام میں اپنا اعتماد کھو رہے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ مدارس کے طلبہ تو اسکول کے طلبہ کہ طرح ہی ہیں، بلکہ اس سے بھی برے ہیں۔ اس لیے ہمیں عوام میں اپنے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔ خود کواللہ کے سامنے پیش ہونے کے قابل بنانا ہوگا۔ اس جانب خوب توجہ دینی ہوگی۔

آپ سے بڑی امید ہے، آپ تعلیم حاصل کرنے میں بہت محنت کر رہے ہیں، اچھا مظاہرہ کیا ہے آپ نے۔ ضرورت ہے کہ اخلاقیات کی جانب بھی خوب توجہ کی جائے۔ یہ صرف تقوی کی بنیاد پر ہو سکتا ہے۔ یہ خوف ہمیشہ دل میں رہے کہ ہم اللہ کو ناراض نہ کر دیں۔ آپ اس بات کو سمجھیں کہ ہمارے عالمیت کے دس بارہ سال برباد ہو گئے اگر اللہ کا ڈر ہی نہ پیدا ہو سکا۔

آپ صرف اللہ کے ڈر کو اپنے دلوں میں پیدا کر لیجیے، بقیہ سارے مسائل اللہ حل فرمائے گا، اسی ملک میں جو حالات مسلمانوں کے لیے پیدا ہو رہے ہیں، اگر مسلمان صرف اللہ سے ڈر کر اچھے اخلاق کو اختیار کریں تو کچھ بعید نہیں کہ کٹر سے کٹر دشمن بھائی سے زیادہ ہم سے محبت کرنے والا بنے گا۔

اخلاق کے ہتھیار میں کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا۔ اس ہتھیار کو اختیار کریں۔ اگر آپ اخلاق کریمانہ اختیار کریں گے تو انشاء اللہ آپ وہ کام کریں گے جو بڑے بڑوں نے نہیں کیا ہوگا۔

اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جمعیۃ علماء بہار کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا اختتام، بیگوسرائے کا 11 رکنی وفد عزائمِ نو کے ساتھ واپس روانہ

کشن گنج میں جمعیۃ علماء بہار کے زیر اہتمام مثالی اضلاع کے لیے منعقدہ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ میں صوبہ بہار کے 14 مثالی اضلاع کے مندوبین نے شرکت کی، جہاں مکاتب، مدارس، قیادت سازی، درسِ قرآن، نکاح کونسلنگ، شعبۂ رفیق، جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائناریٹیز (JEM)، سدبھاؤنا منچ، جن وکاس سیوا اور دیگر شعبوں سے متعلق عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود مدنی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے کلیدی خطاب میں بنیادی دینی تعلیم، مکاتب کے قیام، شورائیت، شفافیت، نوجوانوں کی تربیت اور مقامی سطح پر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ناظمِ عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی صاحب نے مختلف شعبوں میں عملی طور پر کام شروع کرنے کی تلقین کی۔ ورکشاپ میں جمعیت علماء ضلع بیگوسرائے، بہار سے 11 رکنی وفد نے شرکت کی، جس میں مولانا پرویز صاحب مظاہری (صدر)،مولانا معظم علی صاحب (جنرل سیکرٹری)، مولانا محمد افتخار وصی القاسمی (رکن عاملہ)، مولانا فیروز احمد صاحب قاسمی، مفتی ثناء اللہ صاحب قاسمی، مولانا محمدتسلیم الدین صاحب مظاہری (صدر دینی تعلیمی بورڈ)، ...

آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب:ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

    آپ كيا كريں؟ مدارس كے فارغين سے خطاب از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ    مدارس كے فارغين اكثر سوال كرتے ہيں كه ہم كيا كريں؟ يه سوال بہت اہم ہے، اور اس كا صحيح جواب معلوم ہونے كے بعد ہى آپ اپنا مستقبل كار آمد بنا سكتے ہيں، اور اسے ضائع ہونے، يا اپنے اور اپنى ملت كے حق ميں نقصان ده ہونے سے بچا سكتے ہيں ۔  اس عظيم الشان سوال كا جواب دو حصوں پر مشتمل ہے، اور دونوں باہم مربوط ہيں، ايك يه كه آپ كيا نه كريں؟ دوسرے يه كه آپ كيا كريں؟ آپ كيا نه كريں؟  اس فہرست ميں چار چيزيں آتى ہيں، يه چاروں آپ كے لئے زہر ہيں، يه آپ كا رخ غلط سمت ميں موڑ ديں گى، اور نتيجتًا آپ كى سارى تگ ودو اكارت جائے گى، وه چاروں درج ذيل ہيں: 1- مال كمانے كو مقصود نه بنائيں، مطلب يه ہے كه مال ضرور كمائيں، مگر اسے وسائل كے درجه ميں ركهيں، آپ سيم وزر كى محبت دل سے نكال ديں، اور دنيا كے لئے دين كو اور اخلاقى قدروں كو ہرگز قربان نه كريں ۔ 2- شہرت اور جاه طلبى سے بچيں، يه بيمارى مال كمانے سے زياده نقصان ده ہے، شہرت كى ہوس نه يه كه آپ كو مقصود سے دور كردے گى، بلكه آپ كى قوت فكريه كو ختم كركے آپ ...

قناعت پسندی: کامیاب زندگی کی شاہ کلید

قناعت پسندی انسان کی زندگی کو سکون، خوشحالی اور اصل مقصد سے جوڑے رکھنے والی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدِ محترم نے آج اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آسان اور خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان قناعت اختیار کرے، یعنی جو کچھ اللہ نے جائز اور حلال طریقے سے عطا فرمایا ہے اس پر راضی رہے اور اسراف (فضول خرچی) سے بچے۔ ضرورتوں کی اقسام انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی ضروریات تین درجے رکھتی ہیں: 1. بنیادی ضرورت – جس کے بغیر زندگی کا چلنا مشکل ہے، جیسے کھانا، کپڑا اور مکان۔ 2. ضرورت – ایسی چیزیں جن کا ہونا سہولت پیدا کرتا ہے لیکن بنیادی زندگی ان کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ 3. خواہش – یہ محض نفس کی پیروی ہے، اور اس پر خرچ کرنا فضول خرچی شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:  "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ" (بیشک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) زیادہ پیسہ کمانے کا نقصان والد محترم نے ایک نہایت دقیق نکتہ بیان کیا کہ جب انسان زیادہ پیسہ کمانے لگتا ہے تو وہ بنیادی ضرورت اور خواہشات میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی خواہشات کو بھی ضرورت کا در...