آپ نے طلبہ سے دوران خطاب اخلاق کریمانہ اختیار کرنے کی ضرورت و اہمیت پر مفصل گفتگو کی، آپ نے کہا کہ اخلاق کی بڑی اہمیت ہے۔ مدارس کے طلبہ اس میں پیچھے ہیں۔ ہم کہتے تو ہیں کہ ہم ایک ہیں، لیکن یہ سب ہمارے جھوٹے دعوے ہیں، توحید و رسالت کی بنیاد پر ایک ہونے کے باوجود ہم ایک نہیں ہیں، اس کی بڑی وجہ اخلاق کریمانہ کا فقدان ہے۔
اس ملک میں مسلمانوں کی موجودہ خراب صورتحال کی بڑی وجہ مسلمانوں کے برے اخلاق بھی ہیں۔ مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھوں سے اس کے بھائی محفوظ ہوں، ایمان کی تکمیل کا مدار بہتر اخلاق کو قرار دیا گیا ہے۔
اس ملک میں غیر مسلم ہمیں دیکھتے ہیں، پرکھتے ہیں، کہ کیا مسلمان مسلمان کے خلاف عدالتوں میں نہیں کھڑا ہے ؟ کیا مسلم پڑوسی مسلم پڑوسی کو نہیں ستا رہا ہے؟ کیا مسلمان خواتین مسلمانوں مردوں سے محفوظ ہیں؟ کیا مسلمان باپ اپنے مسلم بیٹے سے پریشان نہیں ہے؟ تو ایسے میں حالات کیسے بہتر ہوں۔ نہی عن المنکر سے اس لیے ہم شرماتے ہیں کہ ہم خود بھی اسی برائی میں مبتلا ہیں۔
مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کو ان امور کی طرف توجہ دینا چاہئے، کیونکہ اس سے ہمارا سارا نظام خراب ہو رہا ہے۔ ہم مدارس والے عوام میں اپنا اعتماد کھو رہے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ مدارس کے طلبہ تو اسکول کے طلبہ کہ طرح ہی ہیں، بلکہ اس سے بھی برے ہیں۔ اس لیے ہمیں عوام میں اپنے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔ خود کواللہ کے سامنے پیش ہونے کے قابل بنانا ہوگا۔ اس جانب خوب توجہ دینی ہوگی۔
آپ سے بڑی امید ہے، آپ تعلیم حاصل کرنے میں بہت محنت کر رہے ہیں، اچھا مظاہرہ کیا ہے آپ نے۔ ضرورت ہے کہ اخلاقیات کی جانب بھی خوب توجہ کی جائے۔ یہ صرف تقوی کی بنیاد پر ہو سکتا ہے۔ یہ خوف ہمیشہ دل میں رہے کہ ہم اللہ کو ناراض نہ کر دیں۔ آپ اس بات کو سمجھیں کہ ہمارے عالمیت کے دس بارہ سال برباد ہو گئے اگر اللہ کا ڈر ہی نہ پیدا ہو سکا۔
آپ صرف اللہ کے ڈر کو اپنے دلوں میں پیدا کر لیجیے، بقیہ سارے مسائل اللہ حل فرمائے گا، اسی ملک میں جو حالات مسلمانوں کے لیے پیدا ہو رہے ہیں، اگر مسلمان صرف اللہ سے ڈر کر اچھے اخلاق کو اختیار کریں تو کچھ بعید نہیں کہ کٹر سے کٹر دشمن بھائی سے زیادہ ہم سے محبت کرنے والا بنے گا۔
اخلاق کے ہتھیار میں کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا۔ اس ہتھیار کو اختیار کریں۔ اگر آپ اخلاق کریمانہ اختیار کریں گے تو انشاء اللہ آپ وہ کام کریں گے جو بڑے بڑوں نے نہیں کیا ہوگا۔
اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں